سکوتِ ازل To be continued
سکوتِ ازل
"کچھ خاموشیاں آواز سے زیادہ بلند ہوتی ہیں، اور کچھ لوگ بچھڑ کر بھی ہماری روح میں زندہ رہتے ہیں۔"
"ہر انسان کے اندر ایک ایسا کمرہ ہوتا ہے جہاں وہ اپنی سب سے قیمتی یادیں دفن کر دیتا ہے، مگر وقت ان قبروں پر کبھی مٹی نہیں ڈال پاتا۔"
بارش کی بوندیں حویلی کی قدیم کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ آسمان پر بادل اس طرح پھیلے ہوئے تھے جیسے کسی نے نیلگوں چادر پر سیاہی انڈیل دی ہو۔
شہرِ نوراں ہمیشہ سے عجیب تھا۔
یہ وہ شہر تھا جہاں لوگ زندہ تو تھے مگر ان کی آنکھوں میں خواب نہیں بستے تھے۔ جہاں شامیں ضرورت سے زیادہ خاموش اور راتیں ضرورت سے زیادہ لمبی ہوتی تھیں۔
زمرّد آزر کھڑکی کے قریب بیٹھی باہر گرتی بارش کو دیکھ رہی تھی۔
اس کے ہاتھوں میں چمڑے کی جلد والی ایک پرانی ڈائری تھی۔
یہ ڈائری اسے اپنی مرحوم نانی کے صندوق سے ملی تھی۔
نانی نے مرنے سے چند دن پہلے صرف ایک بات کہی تھی:
"جب وقت تمہیں اس نام تک لے جائے تو ڈرنا مت۔"
تب زمرّد کو ان الفاظ کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا۔
مگر اب سات سال گزر جانے کے بعد بھی وہ انہی لفظوں کے تعاقب میں تھی۔
اس نے ڈائری کھولی۔
پہلا صفحہ۔
دوسرا صفحہ۔
تیسرا صفحہ۔
ہر صفحے پر ادھوری تحریریں، پراسرار جملے اور نامعلوم نشانات بنے ہوئے تھے۔
اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا۔
کھڑکی زور سے بجی۔
ڈائری کے صفحات خود بخود پلٹنے لگے۔
زمرّد کا دل بے اختیار دھڑک اٹھا۔
وہ جلدی سے صفحات تھامنے لگی مگر اس کی نظر ایک ایسے صفحے پر جا کر رک گئی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
حالانکہ وہ یہ ڈائری سینکڑوں مرتبہ پڑھ چکی تھی۔
صفحات کے درمیان سیاہ روشنائی سے صرف ایک نام لکھا تھا۔
آریان سکند
زمرّد کی سانس رک گئی۔
یہ وہی نام تھا۔
وہی نام جو اسے پچھلے سات برسوں سے خوابوں میں سنائی دیتا تھا۔
ہر خواب میں ایک دھندلا سا وجود اسے دور سے دیکھتا۔
کبھی قریب نہ آتا۔
کبھی اپنا چہرہ نہ دکھاتا۔
صرف ایک آواز سنائی دیتی:
"میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔"
زمرّد نے کانپتے ہاتھوں سے نام کو چھوا۔
اسی لمحے دور شہر کے دوسرے کنارے پر ایک نوجوان اپنی میز پر جھکا کچھ لکھ رہا تھا۔
اس کا نام آریان سکند تھا۔
وہ ایک ناول نگار تھا۔
ایک ایسا مصنف جس کے خواب حقیقت بن جاتے تھے۔
اس کے سامنے سفید کاغذ رکھا تھا۔
وہ نئی کہانی شروع کرنا چاہتا تھا مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
اچانک اس کا ہاتھ خود بخود حرکت کرنے لگا۔
قلم نے ایک نام لکھ دیا۔
زمرّد آزر
آریان چونک کر کھڑا ہو گیا۔
وہ اس نام کو نہیں جانتا تھا۔
اس نے زندگی میں کبھی یہ نام نہیں سنا تھا۔
پھر بھی اس کے دل میں ایک عجیب سا درد جاگا۔
ایسا درد جو صرف کسی بہت پرانی یاد کے لوٹ آنے پر محسوس ہوتا ہے۔
اسی لمحے کمرے میں لگی گھڑی رک گئی۔
بارش تھم گئی۔
ہوا خاموش ہو گئی۔
اور کہیں بہت دور کسی ان دیکھی دنیا میں ایک دروازہ آہستہ سے کھلا۔
ایک سرگوشی ابھری۔
"آخرکار تم دونوں جاگ گئے۔"
زمرّد نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
آریان نے کاغذ پر لکھا نام دوبارہ پڑھا۔
اور تقدیر نے اپنی صدیوں پرانی کتاب کا پہلا صفحہ الٹ دیا۔
"بعض ملاقاتیں زمین پر نہیں ہوتیں، وہ روحوں کے درمیان صدیوں پہلے طے ہو چکی ہوتی ہیں۔"
"کچھ راز وقت سے بھی پرانے ہوتے ہیں، اور کچھ سچائیاں انسان کو اس وقت ملتی ہیں جب وہ انہیں جاننے کے قابل نہیں رہتا۔"
رات گزر چکی تھی مگر زمرّد آزر کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔
اس کے سامنے وہی ڈائری کھلی ہوئی تھی۔
آریان سکند۔
یہ نام اس کے ذہن میں مسلسل گونج رہا تھا۔
اس نے کئی مرتبہ خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے۔
مگر دل عجیب ضدی چیز ہے۔
وہ دلیلوں سے نہیں مانتا۔
صبح ہونے سے پہلے اس نے ایک فیصلہ کر لیا۔
وہ اس نام کے پیچھے جائے گی۔
چاہے اسے شہرِ نوراں کا ہر دروازہ کھٹکھٹانا پڑے۔
صبح کی دھند ابھی پوری طرح چھٹی بھی نہ تھی جب زمرّد گھر سے نکل گئی۔
شہر کی پرانی گلیاں آج معمول سے زیادہ خاموش تھیں۔
پتھر کی بنی ہوئی عمارتیں یوں لگ رہی تھیں جیسے صدیوں سے کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔
زمرّد چلتی رہی۔
یہاں تک کہ وہ شہر کے سب سے قدیم حصے میں پہنچ گئی۔
وہ جگہ جہاں لوگ شام کے بعد آنے سے ڈرتے تھے۔
جہاں ایک عجیب سی لائبریری موجود تھی۔
لائبریریِ ازل۔
کہا جاتا تھا کہ وہاں ایسی کتابیں موجود ہیں جو کبھی لکھی ہی نہیں گئیں۔
اور ایسے مصنفین کے نام درج ہیں جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔
زمرّد نے ہمیشہ ان کہانیوں کو افسانہ سمجھا تھا۔
مگر آج نہ جانے کیوں اس کے قدم خود بخود اسی سمت بڑھتے جا رہے تھے۔
لائبریری کا دروازہ نیم وا تھا۔
اس نے دھکا دیا۔
دروازہ چرچراتا ہوا کھل گیا۔
اندر پرانی کتابوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
اونچی چھتیں۔
لمبی الماریاں۔
اور ہزاروں کتابیں۔
ایسا لگتا تھا جیسے وقت یہاں داخل ہوتے ہی رک گیا ہو۔
زمرّد ابھی اندر قدم رکھ ہی رہی تھی کہ ایک بھاری آواز گونجی۔
"میں جانتا تھا تم آؤ گی۔"
وہ چونک گئی۔
سامنے ایک سفید بالوں والا بزرگ کھڑا تھا۔
لمبا قد۔
گہری سیاہ آنکھیں۔
اور چہرے پر عجیب سا سکون۔
"آپ کون ہیں؟"
زمرّد نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
بزرگ مسکرائے۔
"لوگ مجھے سیفِ ابد کہتے ہیں۔"
یہ نام سنتے ہی زمرّد کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس نے یہ نام کہیں پہلے بھی سنا ہو۔
شاید خوابوں میں۔
شاید کسی پرانی یاد میں۔
شاید کسی ایسی جگہ جہاں یادداشت کی رسائی ممکن نہ تھی۔
"آپ مجھے جانتے ہیں؟"
سیفِ ابد کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
"میں تمہیں اس دن سے جانتا ہوں جس دن تم نے پہلی بار سانس لی تھی۔"
زمرّد کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
"یہ کیسے ممکن ہے؟"
"اس دنیا میں بہت سی چیزیں ممکن ہیں جنہیں انسان ناممکن سمجھتا ہے۔"
یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ ایک پرانی الماری کی طرف بڑھے۔
الماری کے نچلے حصے سے انہوں نے سیاہ چمڑے میں لپٹی ایک ضخیم کتاب نکالی۔
کتاب پر سنہری حروف میں لکھا تھا۔
کتابِ ممنوعہ
زمرّد کی نگاہیں کتاب پر جم گئیں۔
"یہ کیا ہے؟"
سیفِ ابد نے کتاب پر ہاتھ پھیرا۔
"یہ اُن لوگوں کی داستان ہے جن کی تقدیریں عام انسانوں جیسی نہیں ہوتیں۔"
انہوں نے کتاب کھولی۔
صفحات خود بخود پلٹنے لگے۔
ایک صفحے پر جا کر رک گئے۔
زمرّد کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
کیونکہ صفحے کے درمیان دو نام لکھے ہوئے تھے۔
زمرّد آزر
آریان سکند
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
"یہ... یہ کیسے ممکن ہے؟"
سیفِ ابد نے آہستہ سے جواب دیا۔
"کیونکہ تم دونوں کی کہانی ابھی شروع نہیں ہوئی۔"
"اور جب یہ مکمل ہوگی..."
وہ خاموش ہو گئے۔
"تب کیا ہوگا؟"
زمرّد نے بےچینی سے پوچھا۔
سیفِ ابد نے پہلی بار اپنی نظریں اس کی آنکھوں میں ڈالیں۔
"تب ایک دنیا ختم ہوگی اور دوسری دنیا جنم لے گی۔"
لائبریری کی کھڑکیوں سے اچانک تیز ہوا اندر داخل ہوئی۔
کتاب کے صفحات بےقابو ہو کر پلٹنے لگے۔
اور آخری صفحے پر صرف ایک جملہ ابھرا۔
"سکوتِ ازل ٹوٹنے والا ہے۔"
زمرّد کا رنگ فق ہو گیا۔
کیونکہ اسی لمحے اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
بہت دور سے۔
بہت عرصے سے۔
اور اب وہ قریب آ رہا تھا۔
جاری ہے...
"بعض لوگ ہماری زندگی میں داخل نہیں ہوتے، وہ ہماری تقدیر میں بیدار ہوتے ہیں۔"
وہ شخص جو خوابوں سے نکل آیا
"کچھ ملاقاتیں حادثہ نہیں ہوتیں، وہ برسوں پہلے لکھی گئی دعائیں ہوتی ہیں جو اپنے وقت پر قبول ہوتی ہیں۔"
زمرّد آزر لائبریریِ ازل سے نکل تو آئی تھی مگر اس کے اندر جیسے کوئی طوفان بیدار ہو چکا تھا۔
سیفِ ابد کی باتیں مسلسل اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔
کتابِ ممنوعہ۔
آریان سکند۔
سکوتِ ازل۔
اور وہ جملہ...
"ایک دنیا ختم ہوگی اور دوسری دنیا جنم لے گی۔"
وہ ساری رات جاگتی رہی۔
صبح کی پہلی اذان کے وقت اس کی آنکھ لگ گئی۔
اور پھر...
وہی خواب آیا۔
مگر اس بار خواب مختلف تھا۔
دھند پہلے سے کم تھی۔
راستہ پہلے سے واضح تھا۔
اور پہلی بار...
اس نے اُس شخص کا چہرہ دیکھا۔
لمبا قد۔
گہری سیاہ آنکھیں۔
ماتھے پر بکھرے ہوئے بال۔
اور نگاہوں میں عجیب سی اداسی۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
زمرّد کا دل زور سے دھڑکا۔
"تم کون ہو؟"
اس نے پوچھا۔
نوجوان کے لب ہلے۔
"میں وہ ہوں جسے تم برسوں سے ڈھونڈ رہی ہو۔"
زمرّد کچھ اور کہتی مگر خواب اچانک ٹوٹ گیا۔
وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
مگر اس خاموشی کے درمیان ایک چیز غیر معمولی تھی۔
اس کی میز پر ایک سفید کاغذ رکھا تھا۔
وہ فوراً بستر سے اتری۔
کاغذ اٹھایا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
"شام پانچ بجے۔
پرانے پل کے پاس۔"
زمرّد کے ہاتھ کانپ گئے۔
یہ تحریر اس کی نہیں تھی۔
گھر میں اور کوئی موجود بھی نہیں تھا۔
پھر یہ کاغذ آیا کہاں سے؟
اسی وقت شہر کے دوسرے کنارے پر آریان سکند بھی بےچینی سے جاگا۔
اسے رات بھر عجیب خواب آتے رہے تھے۔
اور ہر خواب میں ایک لڑکی تھی۔
وہی لڑکی جس کا نام اس نے انجانے میں لکھ دیا تھا۔
زمرّد آزر۔
آریان نے میز پر پڑی اپنی ڈائری کھولی۔
اسے یقین تھا کہ اس نے رات کو کچھ نہیں لکھا تھا۔
مگر آخری صفحے پر ایک نیا جملہ موجود تھا۔
"شام پانچ بجے۔
پرانے پل کے پاس۔"
آریان حیرت سے ڈائری کو دیکھتا رہ گیا۔
پھر آہستہ آہستہ اس کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
شاید جواب ملنے کا وقت آ گیا تھا۔
شام پانچ بجنے میں ابھی چند منٹ باقی تھے۔
شہرِ نوراں کا پرانا پل دریا کے اوپر جھکا ہوا کھڑا تھا۔
صدیوں پرانا۔
خاموش۔
اور رازوں سے بھرا ہوا۔
زمرّد پل کے کنارے کھڑی تھی۔
اس کا دل مسلسل دھڑک رہا تھا۔
ہوا میں عجیب سی خنکی تھی۔
ایسی خنکی جو موسم کی نہیں بلکہ کسی آنے والے واقعے کی خبر دیتی ہے۔
اچانک اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔
اور وقت رک گیا۔
کیونکہ سامنے وہی شخص کھڑا تھا۔
وہی چہرہ۔
وہی آنکھیں۔
وہی وجود۔
جو برسوں سے اس کے خوابوں میں آتا رہا تھا۔
زمرّد کی سانس رک گئی۔
آریان بھی ساکت کھڑا تھا۔
کیونکہ اس کے سامنے وہی لڑکی تھی جسے وہ خوابوں میں دیکھتا آیا تھا۔
چند لمحوں تک دونوں خاموش رہے۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے دو اجنبی نہیں بلکہ دو گمشدہ کہانیاں ایک دوسرے کو پہچان رہی ہوں۔
آخرکار آریان نے خاموشی توڑی۔
"تو تم واقعی موجود ہو۔"
زمرّد کی آنکھوں میں حیرت تیر گئی۔
"اور تم بھی..."
ہوا تیز چلنے لگی۔
دریا کی لہریں بےچین ہو اٹھیں۔
اسی لمحے پل کے نیچے سے ایک سیاہ سایہ گزرا۔
اتنی تیزی سے کہ دونوں پوری طرح دیکھ نہ سکے۔
مگر زمرّد کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
کیونکہ اسے محسوس ہوا...
یہ ملاقات کسی کی نظر میں آ چکی تھی۔
اور شاید کوئی نہیں چاہتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے تک پہنچیں۔
دور کہیں...
شہر کے پرانے قبرستان میں ایک شخص نے اپنی بند آنکھیں کھولیں۔
اس کے چہرے پر خوفناک مسکراہٹ تھی۔
"آخرکار..."
اس نے سرگوشی کی۔
"ہر راز دفن نہیں ہوتا، کچھ راز قبروں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔"
پرانے پل پر شام آہستہ آہستہ رات میں ڈھل رہی تھی۔
زمرّد اور آریان ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
دونوں کے دلوں میں بےشمار سوال تھے۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ دونوں کو ایک دوسرے سے خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
گویا وہ پہلی بار نہیں مل رہے تھے۔
گویا ان کی روحیں ایک دوسرے کو صدیوں سے جانتی تھیں۔
"مجھے لگتا ہے میں تمہیں پہلے سے جانتا ہوں۔"
آریان نے خاموشی توڑی۔
زمرّد نے آہستہ سے سر ہلایا۔
"مجھے بھی۔"
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر زمرّد نے کتابِ ممنوعہ اور سیفِ ابد کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔
آریان خاموشی سے سنتا رہا۔
جب وہ خاموش ہوئی تو اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔
"تو اس کا مطلب ہے ہم دونوں کسی بڑی کہانی کا حصہ ہیں۔"
زمرّد نے بےاختیار پوچھا۔
"اگر یہ سب سچ ہے تو پھر وہ کون ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے؟"
یہ سوال ہوا میں معلق رہ گیا۔
اسی لمحے دریا کے پانی میں عجیب سی لہریں اٹھنے لگیں۔
ہوا یکایک سرد ہو گئی۔
اور پل کے نیچے سے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔
ٹک...
ٹک...
ٹک...
جیسے کوئی لکڑی کی چھڑی زمین پر مار رہا ہو۔
زمرّد کا دل زور سے دھڑکا۔
آریان فوراً پل کے کنارے کی طرف بڑھا۔
مگر نیچے کوئی موجود نہیں تھا۔
صرف اندھیرا تھا۔
اور پانی کی بےچین لہریں۔
مگر پھر...
ایک آواز ابھری۔
بہت دھیمی۔
بہت سرد۔
"تمہیں نہیں ملنا چاہیے تھا..."
دونوں کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
زمرّد نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
صرف رات تھی۔
اور خاموشی۔
مگر یہ خاموشی عام خاموشی نہیں تھی۔
یہ کسی آنے والے خطرے کی خاموشی تھی۔
اسی وقت...
شہرِ نوراں کے قدیم قبرستان میں۔
چاندنی ٹوٹی ہوئی قبروں پر بکھری ہوئی تھی۔
سوکھی گھاس ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کر رہی تھی۔
اور قبرستان کے عین درمیان ایک شخص کھڑا تھا۔
سیاہ لباس۔
سفید چہرہ۔
اور آنکھیں...
ایسی آنکھیں جن میں زندگی کا کوئی نشان نہیں تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک پرانی کتاب تھی۔
کتاب کے سرورق پر ایک نام درج تھا۔
اس نے کتاب کھولی۔
صفحے خود بخود پلٹنے لگے۔
پھر ایک صفحے پر جا کر رک گئے۔
اس صفحے پر دو نام جگمگا رہے تھے۔
زمرّد آزر
آریان سکند
اس شخص کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہوئی۔
"آخر تم دونوں مل ہی گئے۔"
اس نے سرگوشی کی۔
"مگر تم نہیں جانتے کہ تمہاری ملاقات کتنی مہنگی پڑنے والی ہے۔"
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
بادل چاند کو نگل رہے تھے۔
اور قبرستان کی فضا مزید تاریک ہوتی جا رہی تھی۔
"اگر وہ یاد کر بیٹھے..."
وہ دھیرے سے بولا۔
"تو وہ سب کچھ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔"
اچانک قبرستان کی سب سے پرانی قبر ہلنے لگی۔
زمین میں لرزش پیدا ہوئی۔
ہوا رک گئی۔
اور ایک خوفناک خاموشی چھا گئی۔
اس شخص نے فوراً کتاب بند کر دی۔
لرزش رک گئی۔
مگر اس کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہو چکا تھا۔
پہلی بار۔
صدیوں میں پہلی بار۔
اس کے چہرے پر خوف دکھائی دیا۔
اُدھر آریان اور زمرّد شہر کی ایک پرانی چائے گاہ میں بیٹھے تھے۔
دونوں ابھی تک پل پر پیش آنے والے واقعے سے پریشان تھے۔
اچانک آریان نے جیب سے ایک تصویر نکالی۔
یہ تصویر اسے بچپن سے اپنے کمرے میں ملی تھی۔
مگر وہ کبھی نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کی ہے۔
اس نے تصویر میز پر رکھ دی۔
زمرّد نے تصویر دیکھی۔
اور اس کا رنگ زرد پڑ گیا۔
کیونکہ تصویر میں موجود لڑکی...
بالکل اس جیسی تھی۔
مگر تصویر کم از کم سو سال پرانی لگ رہی تھی۔
زمرّد کے ہاتھ کانپنے لگے۔
"یہ... یہ ناممکن ہے۔"
آریان خاموش تھا۔
کیونکہ تصویر کے پچھلے حصے پر ایک جملہ لکھا ہوا تھا۔
"جب سکوتِ ازل ٹوٹے گا، وہ دوبارہ لوٹ آئیں گے۔"
جاری ہے...
"بعض تصویریں یادوں کو محفوظ نہیں کرتیں، وہ تقدیر کو زندہ رکھتی ہیں۔"
"انسان وقت کو بھول سکتا ہے، مگر وقت انسان کو کبھی نہیں بھولتا۔"
رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔
چائے گاہ تقریباً خالی ہو چکی تھی۔
مگر زمرّد کی نظریں اب بھی اُس تصویر پر جمی ہوئی تھیں۔
وہ تصویر جس میں موجود لڑکی حیرت انگیز طور پر اُس جیسی دکھائی دیتی تھی۔
فرق صرف اتنا تھا کہ تصویر میں موجود لڑکی کے لباس کا انداز کسی اور زمانے کا تھا۔
کسی ایسی صدی کا جس کے لوگ اب صرف تاریخ کی کتابوں میں زندہ تھے۔
"یہ تصویر تمہارے پاس کہاں سے آئی؟"
زمرّد نے بمشکل پوچھا۔
آریان نے گہرا سانس لیا۔
"مجھے نہیں معلوم۔"
"کیا مطلب؟"
"جب میں دس سال کا تھا تو ایک صبح یہ تصویر میرے کمرے میں رکھی ہوئی تھی۔"
زمرّد حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
"اور تم نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی؟"
آریان ہلکا سا مسکرایا۔
"کوشش کی تھی۔ بہت بار۔ مگر ہر سوال ایک نئے سوال کو جنم دیتا تھا۔"
اس نے تصویر کی طرف دیکھا۔
"آخرکار میں نے تلاش چھوڑ دی۔"
مگر اب...
اب سب کچھ بدل چکا تھا۔
اُسی رات۔
لائبریریِ ازل۔
سیفِ ابد ایک قدیم میز کے سامنے بیٹھے تھے۔
ان کے سامنے سینکڑوں سال پرانی ایک مخطوطہ کتاب کھلی ہوئی تھی۔
صفحات زرد ہو چکے تھے۔
تحریر دھندلی پڑ چکی تھی۔
مگر ایک صفحہ اب بھی واضح تھا۔
وہ صفحہ جس پر دو نام درج تھے۔
"زمرّد"
"آریان"
سیفِ ابد نے آنکھیں بند کر لیں۔
ان کے چہرے پر ایسی اداسی تھی جو صدیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھی۔
"کاش تم دونوں کو حقیقت نہ جاننی پڑتی۔"
وہ آہستہ سے بولے۔
مگر وہ جانتے تھے۔
حقیقت کا سفر شروع ہو چکا تھا۔
اور اب اسے روکا نہیں جا سکتا تھا۔
رات کے آخری پہر۔
زمرّد اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔
نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
میز پر رکھی تصویر اسے مسلسل اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
آخرکار اس نے تصویر اٹھائی۔
اور پہلی بار غور سے دیکھا۔
اچانک...
اس کی نظر تصویر کے ایک کونے پر گئی۔
وہاں ایک عمارت بنی ہوئی تھی۔
بہت دھندلی۔
بہت چھوٹی۔
مگر موجود تھی۔
زمرّد نے فوراً تصویر کو روشنی کے قریب کیا۔
اس کا دل زور سے دھڑکا۔
کیونکہ وہ عمارت اسے پہچانی ہوئی محسوس ہوئی۔
بہت پہچانی ہوئی۔
مگر اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہاں دیکھی تھی۔
پھر اچانک اسے یاد آیا۔
لائبریریِ ازل۔
تصویر کے پس منظر میں وہی لائبریری موجود تھی۔
مگر فرق یہ تھا کہ تصویر میں لائبریری نئی دکھائی دے رہی تھی۔
گویا ابھی ابھی تعمیر ہوئی ہو۔
زمرّد کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
اس نے فوراً آریان کو فون کیا۔
"مجھے کچھ ملا ہے۔"
اگلی صبح۔
آریان اور زمرّد دوبارہ لائبریریِ ازل پہنچے۔
سیفِ ابد پہلے سے ان کے منتظر تھے۔
جیسے انہیں معلوم تھا کہ وہ آنے والے ہیں۔
"آپ ہم سے کیا چھپا رہے ہیں؟"
زمرّد نے سیدھا سوال کیا۔
سیفِ ابد خاموش رہے۔
"تصویر میں موجود لڑکی کون ہے؟"
خاموشی۔
"اور وہ میرے جیسی کیوں دکھائی دیتی ہے؟"
سیفِ ابد نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
کئی لمحے گزر گئے۔
پھر انہوں نے دھیرے سے کہا۔
"کیونکہ وہ تم ہی ہو۔"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
زمرّد کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
آریان بھی ساکت رہ گیا۔
"یہ ناممکن ہے۔"
زمرّد کی آواز کانپ رہی تھی۔
"سو سال پرانی تصویر میں میرا وجود کیسے ہو سکتا ہے؟"
سیفِ ابد نے گہری نظر سے اسے دیکھا۔
"اگر میں تمہیں بتاؤں کہ انسان صرف ایک زندگی نہیں جیتا؟"
زمرّد کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔
"اگر میں تمہیں بتاؤں کہ بعض روحیں وقت کے مختلف دریاؤں سے بار بار گزرتی ہیں؟"
آریان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
"اور اگر میں تمہیں بتاؤں کہ تم دونوں پہلی بار نہیں ملے..."
سیفِ ابد کی آواز بھاری ہو گئی۔
"بلکہ یہ تمہاری چوتھی ملاقات ہے۔"
کمرے کی فضا یکدم بوجھل ہو گئی۔
زمرّد کو لگا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے کھسک رہی ہو۔
"چوتھی؟"
سیفِ ابد نے سر ہلایا۔
"پہلی بار تم دونوں تین سو سال پہلے ملے تھے۔"
"دوسری بار ایک سو پچاس سال پہلے۔"
"تیسری بار سو سال پہلے۔"
"اور ہر بار..."
وہ رک گئے۔
"ہر بار تم دونوں ایک ہی انجام تک پہنچے۔"
"کیا انجام؟"
آریان نے بمشکل پوچھا۔
سیفِ ابد کی آنکھوں میں صدیوں کی تھکن اتر آئی۔
"موت۔"
اچانک لائبریری کی تمام روشنیاں بجھ گئیں۔
کھڑکیاں زور زور سے بجنے لگیں۔
اور اندھیرے میں ایک نامعلوم آواز گونجی۔
"انہیں مت بتاؤ..."
سیفِ ابد کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کیونکہ وہ اس آواز کو پہچانتے تھے۔
بہت اچھی طرح۔
وہی آواز...
جو تین سو سال پہلے بھی سنائی دی تھی۔
اور جس کی وجہ سے ایک پوری دنیا تباہ ہو گئی تھی۔
جاری ہے...
"بعض کہانیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف نئے کرداروں کے ساتھ دوبارہ لکھی جاتی ہیں۔"
وہ نام جو مٹا دیا گیا
"بعض نام تاریخ سے مٹا دیے جاتے ہیں، مگر تقدیر کے صفحات انہیں ہمیشہ محفوظ رکھتے ہیں۔"
لائبریریِ ازل مکمل تاریکی میں ڈوب چکی تھی۔
زمرّد کا دل اس قدر تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اسے اپنی سانسوں کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔
کھڑکیاں مسلسل بج رہی تھیں۔
ہوا کے جھکڑ اندر داخل ہو رہے تھے۔
اور اندھیرے میں وہ نامعلوم آواز بار بار گونج رہی تھی۔
"انہیں مت بتاؤ..."
"انہیں مت بتاؤ..."
"انہیں مت بتاؤ..."
سیفِ ابد کی آنکھوں میں پہلی بار خوف نمایاں ہوا۔
ایسا خوف جو عام انسان کا نہیں بلکہ صدیوں سے زندہ کسی راز کا تھا۔
اچانک انہوں نے اپنی چھڑی زمین پر ماری۔
ایک نیلی روشنی پورے ہال میں پھیل گئی۔
روشنی کے پھیلتے ہی آواز خاموش ہو گئی۔
ہوا رک گئی۔
اور لائبریری دوبارہ خاموش ہو گئی۔
مگر یہ خاموشی پہلے جیسی نہیں تھی۔
اب اس میں خوف شامل ہو چکا تھا۔
زمرّد نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
"یہ کون تھا؟"
سیفِ ابد نے فوراً جواب نہیں دیا۔
کئی لمحے گزر گئے۔
پھر وہ آہستہ سے بولے۔
"وہ ایک نام ہے جسے دنیا بھول چکی ہے۔"
"نام؟"
آریان نے حیرت سے پوچھا۔
سیفِ ابد نے سر ہلایا۔
"ہاں۔"
"ایک ایسا شخص جس کا ذکر اب کسی کتاب میں نہیں ملتا۔"
"ایک ایسا وجود جسے وقت نے خود اپنی یادداشت سے نکال دیا۔"
زمرّد کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
"کیا وہ انسان ہے؟"
سیفِ ابد کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی۔
"کبھی تھا۔"
یہ جواب پہلے سے زیادہ پراسرار تھا۔
اسی لمحے...
لائبریری کے سب سے پرانے حصے میں موجود ایک دروازہ خود بخود کھل گیا۔
دروازہ صدیوں سے بند تھا۔
کم از کم لوگ یہی سمجھتے تھے۔
سیفِ ابد کا چہرہ سخت ہو گیا۔
"نہیں..."
انہوں نے سرگوشی کی۔
"ابھی نہیں۔"
مگر دروازہ پوری طرح کھل چکا تھا۔
اندر مکمل اندھیرا تھا۔
ایسا اندھیرا جو روشنی کو بھی نگل لے۔
زمرّد بےاختیار اس طرف بڑھنے لگی۔
"رک جاؤ۔"
سیفِ ابد کی آواز بلند ہوئی۔
مگر نہ جانے کیوں زمرّد کے قدم رکے نہیں۔
گویا کوئی نامعلوم طاقت اسے بلا رہی تھی۔
آریان فوراً اس کے پیچھے چل پڑا۔
دروازے کے اندر ایک تنگ سی راہداری تھی۔
دیواروں پر عجیب نشانات بنے ہوئے تھے۔
کچھ ستاروں جیسے۔
کچھ آنکھوں جیسے۔
اور کچھ ایسے جنہیں دیکھ کر دل میں انجانا خوف پیدا ہوتا تھا۔
راہداری کے اختتام پر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔
کمرے کے درمیان ایک شیشے کا صندوق رکھا تھا۔
اور صندوق کے اندر...
ایک پرانی ڈائری۔
زمرّد کے قدم رک گئے۔
کیونکہ وہ ڈائری بالکل ویسی ہی تھی جیسی اس کے گھر میں موجود تھی۔
ایک لمحے کے لیے اسے لگا جیسے وہ اپنی ہی ڈائری دیکھ رہی ہو۔
"یہ کیسے ممکن ہے؟"
اس نے سرگوشی کی۔
سیفِ ابد آہستہ آہستہ ان کے قریب آئے۔
ان کے چہرے پر عجیب سی تھکن تھی۔
"کیونکہ یہ تمہاری ہی ڈائری ہے۔"
زمرّد کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
"مگر..."
"یہ تین سو سال پرانی ہے۔"
کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
آریان نے بےیقینی سے صندوق کی طرف دیکھا۔
"یہ ممکن نہیں۔"
سیفِ ابد نے دھیرے سے کہا۔
"ممکن اور ناممکن کے درمیان صرف انسان کا علم کھڑا ہوتا ہے۔"
انہوں نے صندوق کھولا۔
اور ڈائری باہر نکال لی۔
پرانے صفحات خود بخود پلٹنے لگے۔
پھر ایک صفحے پر رک گئے۔
اس صفحے پر خوبصورت خط میں ایک جملہ لکھا تھا۔
"اگر یہ ڈائری دوبارہ کھلے تو سمجھ لینا کہ ہم پھر لوٹ آئے ہیں۔"
نیچے ایک نام درج تھا۔
زمرّد آزر
زمرّد کے ہاتھ کانپنے لگے۔
یہ اس کی اپنی لکھائی تھی۔
یا کم از کم بالکل ویسی لگ رہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔
"یہ... میں نے نہیں لکھا۔"
سیفِ ابد نے گہری سانس لی۔
"اس زندگی میں نہیں۔"
اچانک ڈائری کا آخری صفحہ خود بخود کھل گیا۔
اور سیاہی سے ایک نیا جملہ ابھرنے لگا۔
گویا کوئی ان دیکھے ہاتھ اس وقت لکھ رہے ہوں۔
تینوں ساکت کھڑے دیکھتے رہے۔
الفاظ مکمل ہوئے۔
اور پھر...
زمرّد کے ہاتھ سے ڈائری گر گئی۔
کیونکہ اس پر لکھا تھا:
"وہ جاگ چکا ہے۔"
"اور اس بار وہ تم دونوں کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔"
نیچے پہلی بار ایک نام درج تھا۔
"زوال"
کمرے کی فضا یکدم منجمد ہو گئی۔
سیفِ ابد کا رنگ زرد پڑ گیا۔
آریان نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں دہشت دیکھی۔
اور تب انہیں احساس ہوا...
اصل کہانی ابھی شروع ہوئی تھی۔
"کچھ دشمن انسان کے پیچھے نہیں آتے، وہ اس کی روح کا تعاقب کرتے ہیں، زندگی در زندگی۔"
"روح کبھی نہیں مرتی، وہ صرف اپنے زخموں کو نئے جسموں میں لے جاتی ہے۔"
زمرّد کی چیخ پوری لائبریری میں گونج گئی۔
اس کے بعد ہر چیز دھندلی ہونے لگی۔
سیفِ ابد کی آواز۔
آریان کی بےچین پکار۔
ٹوٹتی ہوئی کتابوں کی آوازیں۔
سب کچھ دور ہوتا چلا گیا۔
اور پھر...
اندھیرا۔
مکمل اندھیرا۔
مگر یہ عام اندھیرا نہیں تھا۔
یہ یادوں کا اندھیرا تھا۔
جب زمرّد نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو وہ لائبریری میں نہیں تھی۔
وہ ایک وسیع باغ میں کھڑی تھی۔
ہوا میں چنبیلی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
دور سنگِ مرمر کا ایک عظیم محل نظر آ رہا تھا۔
آسمان سنہری تھا۔
اور ہر طرف زندگی بکھری ہوئی تھی۔
زمرّد نے حیرت سے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔
یہ اس کے ہاتھ نہیں تھے۔
یہ کسی اور کے ہاتھ تھے۔
نازک۔
سفید۔
اور مہندی سے سجے ہوئے۔
اس کا دل دھڑک اٹھا۔
"میں کہاں ہوں؟"
اسی لمحے پیچھے سے ایک آواز آئی۔
"شہزادی!"
زمرّد نے پلٹ کر دیکھا۔
ایک نوجوان لڑکی اس کی طرف بھاگتی ہوئی آ رہی تھی۔
"آپ یہاں ہیں؟ ہم سب آپ کو تلاش کر رہے ہیں۔"
شہزادی؟
زمرّد کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
اچانک اس کے ذہن میں بےشمار تصویریں ابھرنے لگیں۔
محل۔
دربار۔
سپاہی۔
شاہی خاندان۔
اور پھر...
ایک نام۔
"زمرّدہ"
وہ چونک گئی۔
یہ وہ خود تھی۔
تین سو سال پہلے۔
اس زندگی میں اس کا نام زمرّد آزر تھا۔
مگر اس زمانے میں...
وہ شہزادی زمرّدہ تھی۔
شہرِ سُہاب کی وارث۔
اسی لمحے باغ کے دروازے پر ایک نوجوان داخل ہوا۔
زمرّد کی سانس رک گئی۔
کیونکہ وہ آریان تھا۔
مگر وہ آریان سکند نہیں تھا۔
وہ شاہی لباس میں ملبوس تھا۔
اس کی آنکھوں میں جوانی کا غرور اور محبت کی چمک تھی۔
"شہزادی۔"
اس نے مسکراتے ہوئے سر جھکایا۔
زمرّد کے دل میں ایک عجیب درد جاگا۔
ایسا درد جو خوشی سے پیدا ہوتا ہے۔
وہ بےاختیار مسکرا دی۔
اور اسی لمحے اسے احساس ہوا...
وہ دونوں محبت کرتے تھے۔
گہری۔
خاموش۔
اور سچی محبت۔
مگر پھر...
فضا بدلنے لگی۔
آسمان کا رنگ سنہری سے سرخ ہونے لگا۔
ہوا میں خوف پھیل گیا۔
اور محل کے دروازے پر ایک اور شخص نمودار ہوا۔
لمبا قد۔
تیز نگاہیں۔
اور چہرے پر عجیب سی کشش۔
زمرّد کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
زوال۔
مگر اس وقت وہ خوفناک نہیں لگ رہا تھا۔
وہ آریان کا دوست تھا۔
ان کا سب سے قریبی دوست۔
تینوں ہمیشہ ساتھ رہتے تھے۔
تینوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔
اور یہی وہ حقیقت تھی جو زمرّد نے کبھی نہیں جانی تھی۔
زوال دشمن نہیں تھا۔
وہ کبھی دوست تھا۔
بہت قریبی دوست۔
"ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔"
نوجوان زوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آریان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"ہمیشہ۔"
زمرّد بھی مسکرا دی۔
تینوں نے ہاتھ ایک دوسرے پر رکھ دیے۔
اور قسم کھائی۔
"وقت ہمیں جدا نہیں کر سکے گا۔"
مگر تقدیر خاموش کھڑی مسکرا رہی تھی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی...
کچھ قسمیں ٹوٹنے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔
اچانک منظر بدل گیا۔
ہر طرف آگ تھی۔
محل جل رہا تھا۔
لوگ چیخ رہے تھے۔
زمین خون سے سرخ تھی۔
اور زوال محل کے وسط میں کھڑا تھا۔
اس کی آنکھیں بدل چکی تھیں۔
ان میں جنون تھا۔
درد تھا۔
اور دھوکے کا زہر تھا۔
"تم دونوں نے مجھ سے جھوٹ بولا!"
اس کی چیخ آسمان تک گونجی۔
آریان زخمی حالت میں زمین پر گرا ہوا تھا۔
زمرّد رو رہی تھی۔
"زوال! ہماری بات سنو!"
مگر وہ سننے کی حالت میں نہیں تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ کتاب تھی۔
وہی کتاب...
کتابِ ممنوعہ۔
اچانک زوال کی نظریں سیدھی زمرّد پر پڑیں۔
ان نظروں میں نفرت سے زیادہ درد تھا۔
بہت زیادہ درد۔
"اگر تم میری نہیں ہو سکتیں..."
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
"تو وقت بھی تمہیں اس سے نہیں ملا سکے گا۔"
اگلے ہی لمحے ایک خوفناک روشنی پورے شہر پر پھیل گئی۔
زمین پھٹنے لگی۔
محل ٹوٹنے لگا۔
لوگ چیخنے لگے۔
اور پھر...
سب کچھ سفید روشنی میں ڈوب گیا۔
"زمرّد!"
کسی نے اسے زور سے جھنجھوڑا۔
اس نے آنکھیں کھول دیں۔
وہ دوبارہ لائبریری میں تھی۔
آریان اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
اس کی آنکھوں میں خوف اور بےچینی تھی۔
"تم ٹھیک ہو؟"
زمرّد کے چہرے سے آنسو بہہ رہے تھے۔
اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔
"مجھے سب یاد آ گیا..."
آریان ساکت رہ گیا۔
"کیا؟"
زمرّد نے لرزتے لبوں سے سرگوشی کی۔
"زوال ہمارا دشمن نہیں تھا..."
"ہم نے اسے کھویا تھا۔"
اسی لمحے لائبریری کے دروازے خود بخود کھل گئے۔
اور باہر سے زوال کی آواز گونجی۔
"آخرکار تمہیں یاد آ گیا..."
اس کی آواز میں صدیوں کا درد تھا۔
"مگر ابھی تمہیں پوری حقیقت معلوم نہیں۔"
"بعض اوقات کہانی کا ظالم کردار واقعی ظالم نہیں ہوتا، وہ صرف سب سے زیادہ زخمی شخص ہوتا ہے۔"
سکوتِ ازل
باب نہم
ادھوری حقیقت
"سب سے خطرناک جھوٹ وہ نہیں ہوتا جو دوسروں سے بولا جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو انسان خود سے بولتا رہے۔"
لائبریریِ ازل کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔
باہر رات اپنے عروج پر تھی۔
چاند بادلوں میں گم ہو چکا تھا۔
اور سیاہ آسمان یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے پوری کائنات پر ماتم کی چادر تان دی ہو۔
زمرّد کی نگاہیں دروازے پر جمی تھیں۔
وہ آواز...
وہی آواز جس نے صدیوں پہلے شہرِ سُہاب کو تباہ ہوتے دیکھا تھا۔
وہی آواز جس میں نفرت سے زیادہ دکھ تھا۔
"آخرکار تمہیں یاد آ گیا۔"
زوال کی سرگوشی اب بھی فضا میں موجود تھی۔
مگر وہ خود کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
"باہر مت جانا۔"
سیفِ ابد کی آواز گونجی۔
آریان نے فوراً زمرّد کا ہاتھ تھام لیا۔
"وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔"
مگر زمرّد کی نظریں دروازے سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔
اس کے دل میں ایک عجیب کشمکش برپا تھی۔
خوف بھی تھا۔
اور ترس بھی۔
کیونکہ اب اسے یاد آ چکا تھا کہ زوال کبھی ان کا دشمن نہیں تھا۔
وہ ان کا دوست تھا۔
ان کا اپنا۔
پھر ایسا کیا ہوا تھا کہ دوستی صدیوں کی نفرت میں بدل گئی؟
"تم دونوں صرف آدھی کہانی جانتے ہو۔"
اچانک آواز دوبارہ سنائی دی۔
اس بار قریب سے۔
بہت قریب سے۔
لائبریری کے اندر موجود تمام شمعیں یکایک بجھ گئیں۔
صرف ایک نیلی روشنی باقی رہ گئی۔
اور پھر...
مرکزی ہال کے درمیان ایک سایہ نمودار ہوا۔
سیاہ لباس۔
سیاہ آنکھیں۔
اور چہرے پر ایسی اداسی جو وقت سے بھی پرانی معلوم ہوتی تھی۔
زوال۔
وہ خاموشی سے کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔
زمرّد کا دل زور سے دھڑکا۔
مگر اس بار اسے دیکھ کر خوف محسوس نہیں ہوا۔
بلکہ عجیب سی تکلیف ہوئی۔
ایسی تکلیف جو کسی اپنے کو ٹوٹا ہوا دیکھ کر ہوتی ہے۔
"تم نے شہرِ سُہاب کو تباہ کیا۔"
آریان نے سخت لہجے میں کہا۔
زوال مسکرایا۔
مگر وہ مسکراہٹ خوشی کی نہیں تھی۔
"کیا واقعی؟"
آریان خاموش ہو گیا۔
زوال کی آنکھیں گہری ہوتی چلی گئیں۔
"تم نے صرف اختتام دیکھا تھا۔"
"آغاز نہیں۔"
اچانک اس نے ہاتھ بلند کیا۔
ہوا میں چاندی جیسی روشنی پھیل گئی۔
اور ایک منظر ابھرنے لگا۔
تین سو سال پرانا منظر۔
شہرِ سُہاب۔
محل۔
اور شاہی دربار۔
زمرّد اور آریان حیرت سے دیکھنے لگے۔
یہ وہ حصہ تھا جو زمرّد کی یادداشت میں موجود نہیں تھا۔
دربار میں بادشاہ کھڑا تھا۔
اس کے سامنے زوال موجود تھا۔
جوان۔
پُرعزم۔
اور وفادار۔
بادشاہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دینا چاہتا ہوں۔"
زمرّد کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
زوال نے سر جھکا لیا۔
مگر اس کے چہرے پر خوشی صاف نظر آ رہی تھی۔
وہ زمرّد سے محبت کرتا تھا۔
خاموشی سے۔
برسوں سے۔
پھر منظر بدلا۔
ایک باغ۔
جہاں زمرّد اور آریان ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
ان کی آنکھوں میں محبت تھی۔
وہ محبت جس سے زوال بےخبر تھا۔
زمرّد کے چہرے سے رنگ اڑ گیا۔
اب اسے سب یاد آ رہا تھا۔
وہ اور آریان...
انہوں نے اپنی محبت سب سے چھپائی تھی۔
حتیٰ کہ زوال سے بھی۔
"میں تم دونوں سے نفرت نہیں کرتا تھا۔"
زوال کی آواز لرز گئی۔
"میں تم دونوں سے محبت کرتا تھا۔"
منظر میں نوجوان زوال ہنستے ہوئے آریان کے ساتھ چل رہا تھا۔
اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ اس کا سب سے قریبی دوست اور اس کی محبوبہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
"اور تم دونوں مجھ سے سچ بول سکتے تھے۔"
اس کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی۔
"صرف ایک بار۔"
زمرّد کے دل میں خنجر سا اترا۔
اب اسے یاد آ گیا تھا۔
وہ ڈرتی تھی۔
آریان ڈرتا تھا۔
وہ زوال کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔
اسی لیے انہوں نے سچ چھپا لیا۔
اور یہی خاموشی تباہی کی بنیاد بن گئی۔
"مگر شہر کیوں تباہ ہوا؟"
آریان نے پوچھا۔
زوال کی آنکھوں میں درد ابھر آیا۔
"کیونکہ میں نے سچ جاننے کے بعد کتابِ ممنوعہ کھولی۔"
سیفِ ابد نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
گویا وہ یہ بات پہلے ہی جانتے تھے۔
"کتاب نے مجھے ایک انتخاب دیا۔"
زوال کی آواز بھاری ہو گئی۔
"یا تو انہیں کھو دو..."
"یا وقت کو بدل دو۔"
خاموشی چھا گئی۔
"اور تم نے؟"
زمرّد نے آہستہ سے پوچھا۔
زوال کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آئی۔
"میں انسان تھا۔"
"میں نے غلط انتخاب کیا۔"
اچانک پورا ہال لرز اٹھا۔
زمین میں دراڑ پڑ گئی۔
اور دراڑ کے اندر سے سنہری روشنی نکلنے لگی۔
سیفِ ابد کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
"نہیں..."
انہوں نے سرگوشی کی۔
"دروازہ کھل رہا ہے۔"
آریان نے چونک کر پوچھا۔
"کون سا دروازہ؟"
سیفِ ابد کی نظریں زمین کی دراڑ پر جم گئیں۔
"یادوں کا آخری دروازہ۔"
زوال کی آنکھوں میں خوف پہلی بار نمودار ہوا۔
"انہیں وہاں نہیں جانا چاہیے۔"
"کیوں؟"
زمرّد نے پوچھا۔
سیفِ ابد نے لرزتی آواز میں جواب دیا۔
"کیونکہ آخری یاد میں تم اپنی موت دیکھو گے..."
وہ رکے۔
پھر زوال کی طرف دیکھا۔
"اور اپنی اصل قاتل کا چہرہ بھی۔"
ہال میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ وقت بھی رک گیا۔
کیونکہ زوال کے چہرے پر پہلی بار خوف نہیں...
شرمندگی نمودار ہوئی تھی۔
"کبھی کبھی مجرم وہ نہیں ہوتا جسے دنیا مجرم سمجھتی ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے سچ چھپاتا رہتا ہے۔"
"بعض سچائیاں انسان کو آزاد نہیں کرتیں، وہ اسے ہمیشہ کے لیے بدل دیتی ہیں۔"
زمین میں پڑنے والی دراڑ ہر لمحے وسیع ہو رہی تھی۔
سنہری روشنی اب پورے ہال میں پھیل چکی تھی۔
لائبریریِ ازل کی دیواریں لرز رہی تھیں۔
صدیوں پرانی کتابیں اپنی جگہوں سے گر رہی تھیں۔
اور فضا میں ایک عجیب سی گونج پیدا ہو چکی تھی۔
جیسے ہزاروں بھولی ہوئی آوازیں ایک ساتھ جاگ گئی ہوں۔
زمرّد کا دل بےقابو دھڑک رہا تھا۔
اس کی نظریں زوال پر جمی تھیں۔
پہلی بار...
اس کے چہرے پر خوف تھا۔
حقیقی خوف۔
"دروازہ بند کرو!"
زوال نے بلند آواز میں کہا۔
سیفِ ابد نے نفی میں سر ہلایا۔
"اب بہت دیر ہو چکی ہے۔"
"نہیں!"
زوال کی آواز میں بےبسی تھی۔
"انہیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے۔"
مگر اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا...
سنہری روشنی نے زمرّد اور آریان کو اپنے اندر سمو لیا۔
اور اگلے ہی لمحے...
سب کچھ غائب ہو گیا۔
جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو وہ ایک بار پھر ماضی میں تھے۔
مگر اس بار منظر مختلف تھا۔
شہرِ سُہاب جل رہا تھا۔
ہر طرف آگ تھی۔
چیخیں تھیں۔
تباہی تھی۔
محل کی بلند دیواریں زمین بوس ہو رہی تھیں۔
آسمان سرخ ہو چکا تھا۔
اور ہوا میں راکھ اڑ رہی تھی۔
یہ وہی رات تھی۔
وہی رات جس نے سب کچھ ختم کر دیا تھا۔
زمرّد نے خود کو محل کے ایک کمرے میں دیکھا۔
اس وقت وہ شہزادی زمرّدہ تھی۔
اس کے چہرے پر آنسو تھے۔
آریان اس کے سامنے کھڑا تھا۔
دونوں جانتے تھے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
"ہمیں اسے سچ پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔"
زمرّدہ کی آواز ٹوٹ گئی۔
آریان نے نظریں جھکا لیں۔
"مجھے معلوم ہے۔"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
وہ خاموشی جس نے تین زندگیاں تباہ کر دی تھیں۔
اچانک دروازہ کھلا۔
اور زوال اندر داخل ہوا۔
مگر یہ وہ زوال نہیں تھا جسے وہ جانتے تھے۔
اس کی آنکھوں میں درد جنون بن چکا تھا۔
ہاتھ میں کتابِ ممنوعہ تھی۔
اور اس کے گرد سیاہ روشنی گردش کر رہی تھی۔
"مجھے سچ بتانے میں اتنی دیر کیوں کی؟"
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
زمرّدہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"ہم ڈر گئے تھے۔"
زوال ہنس پڑا۔
مگر وہ ہنسی پاگل پن سے بھری ہوئی تھی۔
"اور اب؟"
"اب پورا شہر جل رہا ہے۔"
اسی لمحے زمین ہلنے لگی۔
محل کی چھت میں دراڑ پڑ گئی۔
زوال نے کتاب کھولی۔
اور پہلی بار...
انہوں نے کتابِ ممنوعہ کا آخری صفحہ دیکھا۔
اس صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
"محبت سے بڑی تباہی صرف پچھتاوا ہے۔"
پھر سب کچھ بہت تیزی سے ہونے لگا۔
محل گرنے لگا۔
لوگ مرنے لگے۔
اور زوال کے چہرے پر خوف نمودار ہوا۔
کیونکہ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اس نے کیا کر دیا ہے۔
"نہیں..."
اس نے سر پکڑ لیا۔
"میں نے یہ نہیں چاہا تھا۔"
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
چھت کا ایک بہت بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے گرا۔
اور سیدھا زمرّدہ کی طرف آیا۔
آریان چیخا۔
زوال بھی چیخا۔
دونوں ایک ساتھ اس کی طرف دوڑے۔
مگر...
صرف ایک شخص وقت پر پہنچ سکا۔
زمرّد اور آریان سانس روکے منظر دیکھ رہے تھے۔
کیونکہ اب وہ سچ سامنے آنے والا تھا۔
وہ سچ جس نے تین سو سال تک خود کو چھپا رکھا تھا۔
گرد بیٹھنے لگی۔
دھواں ہٹنے لگا۔
اور پھر...
انہوں نے دیکھا۔
زمرّدہ زندہ تھی۔
اسے کسی نے بچا لیا تھا۔
مگر اس شخص کے سینے میں پتھر کا بہت بڑا ٹکڑا پیوست تھا۔
خون بہہ رہا تھا۔
اور وہ زمین پر گر رہا تھا۔
وہ آریان نہیں تھا۔
زمرّد کی آنکھیں پھیل گئیں۔
آریان ساکت رہ گیا۔
کیونکہ وہ شخص...
زوال تھا۔
"نہیں..."
زمرّد کے لبوں سے سرگوشی نکلی۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
کیونکہ حقیقت وہ نہیں تھی جو وہ سمجھتے رہے تھے۔
زوال نے انہیں مارا نہیں تھا۔
زوال نے اپنی جان دے کر اسے بچایا تھا۔
مرتے ہوئے زوال نے زمرّدہ کا ہاتھ تھاما۔
اس کے ہونٹوں پر کمزور مسکراہٹ تھی۔
"میں تم سے نفرت نہیں کرتا تھا۔"
اس کی آواز بمشکل سنائی دے رہی تھی۔
"میں صرف تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔"
آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔
"اور آخر میں..."
اس نے آریان کی طرف دیکھا۔
"میں نے تم دونوں کو بچانے کی کوشش کی۔"
اگلے ہی لمحے منظر بکھرنے لگا۔
روشنی ختم ہونے لگی۔
اور ماضی دھند میں تحلیل ہونے لگا۔
مگر آخری لمحے...
مرتے ہوئے زوال نے ایک جملہ کہا۔
ایسا جملہ جس نے زمرّد کے وجود کو ہلا دیا۔
"اصل قاتل میں نہیں تھا..."
"وہ اب بھی زندہ ہے۔"
روشنی اچانک ختم ہو گئی۔
اور زمرّد و آریان دوبارہ لائبریریِ ازل میں آ گئے۔
مگر اس بار...
زوال کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اور سیفِ ابد کا چہرہ راکھ کی طرح سفید ہو چکا تھا۔
کیونکہ وہ جانتے تھے...
وہ نام جو صدیوں سے چھپا ہوا تھا...
اب ظاہر ہونے والا تھا۔
"کبھی کبھی سب سے بڑا دھوکہ دشمن نہیں دیتا، بلکہ وہ شخص دیتا ہے جس پر ہم سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔"
"کبھی کبھی سچائی سامنے موجود ہوتی ہے، مگر ہمارا یقین اسے دیکھنے نہیں دیتا۔"
لائبریریِ ازل میں ایسی خاموشی چھا گئی تھی جس میں دل کی دھڑکن بھی گناہ محسوس ہو رہی تھی۔
زمرّد کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
اس کی پوری دنیا الٹ چکی تھی۔
تین سو سال تک وہ زوال کو مجرم سمجھتی رہی۔
ایک ظالم۔
ایک تباہ کار۔
ایک ایسا شخص جس نے محبت کو نفرت میں بدل دیا تھا۔
مگر حقیقت...
حقیقت اس سے کہیں زیادہ دردناک تھی۔
زوال نے اسے بچایا تھا۔
اپنی جان دے کر۔
"اصل قاتل میں نہیں تھا..."
زوال کے الفاظ اب بھی فضا میں گونج رہے تھے۔
آریان نے آہستہ سے پوچھا۔
"پھر کون تھا؟"
زوال خاموش رہا۔
اس کی نظریں کسی اور پر جمی ہوئی تھیں۔
کسی ایسے شخص پر جو اسی ہال میں موجود تھا۔
زمرّد نے اُس کی نگاہوں کا تعاقب کیا۔
اور پھر...
اس کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
کیونکہ زوال کی نظریں سیفِ ابد پر تھیں۔
"نہیں..."
زمرّد کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔
"یہ ناممکن ہے۔"
سیفِ ابد کے چہرے پر صدیوں کی تھکن اتر آئی۔
انہوں نے نظریں جھکا لیں۔
اور یہی خاموشی سب سے خطرناک جواب تھی۔
آریان ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔
"آپ..."
اس کی آواز کانپ گئی۔
"آپ جانتے تھے؟"
سیفِ ابد نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
کئی لمحے گزر گئے۔
پھر وہ بولے۔
"میں جانتا تھا۔"
زمرّد کا وجود لرز گیا۔
"کیا جانتے تھے؟"
سیفِ ابد نے سر اٹھایا۔
ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
پہلی بار۔
"میں جانتا تھا کہ زوال قاتل نہیں تھا۔"
ہال میں سناٹا چھا گیا۔
زمرّد کے اندر غصے اور دکھ کا طوفان برپا ہو گیا۔
"تو آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتایا؟"
اس کی آواز بلند ہو گئی۔
"کیوں؟"
سیفِ ابد خاموش رہے۔
پھر آہستہ سے بولے۔
"کیونکہ اصل قاتل ابھی زندہ تھا۔"
اچانک زمین ہلنے لگی۔
لائبریری کی چھت سے گرد جھڑنے لگی۔
اور دیواروں پر بنے قدیم نقوش سنہری روشنی سے چمکنے لگے۔
زوال کے چہرے پر خوف نمودار ہوا۔
"وہ جاگ رہا ہے۔"
سیفِ ابد کا رنگ اڑ گیا۔
"نہیں..."
مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
لائبریری کے عین وسط میں موجود فرش پھٹ گیا۔
ایک عظیم دائرہ نمودار ہوا۔
اس دائرے کے اندر ہزاروں قدیم حروف گردش کر رہے تھے۔
اور پھر...
اس کے مرکز سے ایک سیاہ ہاتھ باہر نکلا۔
زمرّد کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
وہ ہاتھ انسان کا نہیں لگ رہا تھا۔
وہ کچھ اور تھا۔
کچھ قدیم۔
کچھ خوفناک۔
کچھ ایسا جو انسانوں سے پہلے بھی موجود تھا۔
سیفِ ابد نے فوراً اپنی چھڑی زمین پر ماری۔
مگر اس بار کچھ نہ ہوا۔
ان کی طاقت جواب دے چکی تھی۔
زوال نے بےاختیار سر جھکا لیا۔
"آخرکار..."
اس نے سرگوشی کی۔
"وہ آزاد ہو گیا۔"
"کون؟"
آریان چیخ اٹھا۔
اسی لمحے ایک گرجدار آواز پورے ہال میں گونجی۔
ایسی آواز جو انسانی نہیں تھی۔
"میں..."
لائبریری لرز اٹھی۔
"وقت سے پہلے کا اندھیرا ہوں۔"
دوسری گرج سنائی دی۔
"میں..."
دیواروں میں دراڑیں پڑنے لگیں۔
"وہ انجام ہوں جسے تم نے زوال سمجھ لیا تھا۔"
زمرّد کی سانس رک گئی۔
کیونکہ اچانک اس کے ذہن میں ایک اور یاد جاگ اٹھی۔
ایک ایسی یاد جو اب تک بند تھی۔
اس نے دیکھا...
تین سو سال پہلے...
شہرِ سُہاب کے نیچے ایک دروازہ موجود تھا۔
ایک ممنوع دروازہ۔
اور اس دروازے کو کھولنے والا زوال نہیں تھا۔
بلکہ...
سیفِ ابد تھا۔
"نہیں!"
زمرّد چیخ پڑی۔
سیفِ ابد کے چہرے پر درد ابھر آیا۔
"میں نے شہر کو بچانے کے لیے ایسا کیا تھا۔"
"اور اسی غلطی نے سب کچھ تباہ کر دیا۔"
آریان کے قدم لڑکھڑا گئے۔
"تو یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا؟"
سیفِ ابد نے جواب نہیں دیا۔
کیونکہ جواب ان کی خاموشی میں موجود تھا۔
اسی لمحے زمین کے اندر سے ایک عظیم سایہ ابھرنے لگا۔
اتنا بڑا کہ پوری لائبریری اس کے سامنے چھوٹی لگ رہی تھی۔
زوال فوراً زمرّد اور آریان کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
جیسے تین سو سال پہلے کھڑا ہوا تھا۔
جیسے آج بھی انہیں بچانا چاہتا ہو۔
سایہ مکمل طور پر نمودار ہونے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی سرخ آنکھیں کھل گئیں۔
اور پہلی بار...
اس نے زمرّد کو نام لے کر پکارا۔
"زمرّدہ..."
زمرّد کے جسم میں برف سی دوڑ گئی۔
کیونکہ وہ آواز...
انسانی نہیں تھی۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ اسے پہچانتی تھی۔
بہت اچھی طرح۔
جیسے یہ آواز اس کی پہلی زندگی سے بھی پرانی ہو۔
"بعض دروازے اس لیے بند نہیں کیے جاتے کہ ان کے پیچھے اندھیرا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے کہ ان کے پیچھے وہ سچ ہوتا ہے جسے دنیا برداشت نہیں کر سکتی۔"
"ہر کہانی کا آغاز ایک سوال سے ہوتا ہے، مگر بعض کہانیوں کا آغاز ایک گناہ سے ہوتا ہے۔"
لائبریریِ ازل کی دیواریں لرز رہی تھیں۔
صدیوں پرانی کتابیں الماریوں سے گر کر بکھر چکی تھیں۔
فرش کے درمیان بننے والی عظیم دراڑ اب ایک گہرے کنویں کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔
اور اس کنویں کے اندر...
اندھیرا سانس لے رہا تھا۔
زندہ اندھیرا۔
زمرّد کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔
اس کی نظریں اُس سرخ آنکھوں والے سایے پر جمی تھیں۔
وہ سایہ مسلسل بڑا ہو رہا تھا۔
اس کی موجودگی ہی خوف پیدا کر رہی تھی۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس خوف کے ساتھ ایک مانوسیت بھی جڑی ہوئی تھی۔
جیسے روح اسے پہچانتی ہو۔
جیسے یہ ملاقات پہلی نہ ہو۔
"زمرّدہ..."
وہ آواز دوبارہ گونجی۔
اس بار پہلے سے زیادہ واضح۔
پہلے سے زیادہ قریب۔
اور پھر...
زمرّد کے ذہن میں اچانک ایک اور یاد جاگ اٹھی۔
ایسی یاد جو کسی انسانی زندگی کی نہیں تھی۔
اس نے خود کو ایک عجیب دنیا میں پایا۔
وہاں نہ سورج تھا۔
نہ چاند۔
نہ زمین۔
نہ آسمان۔
صرف روشنی تھی۔
خالص روشنی۔
اور اس روشنی کے درمیان تین وجود کھڑے تھے۔
تین روحیں۔
تین روشن شعلے۔
زمرّد نے حیرت سے دیکھا۔
ان میں سے ایک روح وہ خود تھی۔
دوسری آریان۔
اور تیسری...
زوال۔
مگر یہ انسان نہیں تھے۔
یہ روحیں تھیں۔
بہت پرانی روحیں۔
وقت سے بھی پرانی۔
"یہ کیا ہے؟"
زمرّد نے سرگوشی کی۔
مگر جواب کسی اور نے دیا۔
"یہ آغاز ہے۔"
اچانک ایک چوتھی آواز گونجی۔
ایک ایسی آواز جو پوری کائنات سے بڑی محسوس ہوتی تھی۔
"جب وقت پیدا نہیں ہوا تھا..."
"تب تم تینوں موجود تھے۔"
زمرّد کا دل رکنے لگا۔
اس نے دیکھا کہ تینوں روحیں ایک دوسرے کے گرد گردش کر رہی تھیں۔
ایک دوسرے سے جڑی ہوئی۔
ایک دوسرے کے بغیر نامکمل۔
اور پھر...
کائنات وجود میں آئی۔
وقت پیدا ہوا۔
اور تینوں روحوں کو انسانی دنیا میں بھیج دیا گیا۔
"تم تینوں ایک روح تھے۔"
وہ عظیم آواز گونجی۔
"مگر انسانی دنیا میں تمہیں تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔"
لائبریریِ ازل میں کھڑی زمرّد کے قدم لرز گئے۔
آریان بھی خاموش کھڑا تھا۔
زوال نے آنکھیں بند کر لیں۔
گویا وہ یہ حقیقت پہلے ہی جانتا تھا۔
"نہیں..."
زمرّد کی آواز کانپ گئی۔
"یہ ممکن نہیں۔"
مگر حقیقت یہی تھی۔
اسی لیے وہ ایک دوسرے کی طرف کھنچتے تھے۔
اسی لیے ہر زندگی میں ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیتے تھے۔
اسی لیے جدائی انہیں تباہ کر دیتی تھی۔
کیونکہ وہ تین الگ روحیں نہیں تھے۔
وہ ایک ہی روح کے بکھرے ہوئے ٹکڑے تھے۔
اچانک سرخ آنکھوں والا سایہ ہنس پڑا۔
وہ ہنسی پوری لائبریری میں گونج گئی۔
"آخرکار تمہیں یاد آ گیا۔"
اس کی آواز میں نفرت تھی۔
صدیوں کی نفرت۔
زمرّد نے پہلی بار اس کی طرف غور سے دیکھا۔
اور اچانک...
اسے کچھ عجیب محسوس ہوا۔
بہت عجیب۔
اس سایے کی آنکھیں...
کسی سے ملتی جلتی تھیں۔
بہت زیادہ۔
پھر اسے احساس ہوا۔
وہ آنکھیں...
سیفِ ابد جیسی تھیں۔
زمرّد کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
اس نے فوراً سیفِ ابد کی طرف دیکھا۔
ان کے چہرے پر درد پھیل گیا۔
جیسے کوئی چھپا ہوا راز بےنقاب ہونے والا ہو۔
"نہیں..."
سیفِ ابد کی سرگوشی نکلی۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
سایہ ہنسا۔
اور آہستہ آہستہ اس کی شکل بدلنے لگی۔
سیاہ دھواں چھٹنے لگا۔
اندھیرا پیچھے ہٹنے لگا۔
اور پھر...
جو چہرہ سامنے آیا...
اسے دیکھ کر زمرّد، آریان اور زوال تینوں ساکت رہ گئے۔
کیونکہ وہ چہرہ...
بالکل سیفِ ابد جیسا تھا۔
"یہ کیسے ممکن ہے؟"
آریان کی آواز لرز گئی۔
سایہ مسکرایا۔
"کیونکہ ہم ایک ہی وجود ہیں۔"
خاموشی۔
مکمل خاموشی۔
سیفِ ابد نے آنکھیں بند کر لیں۔
اور پہلی بار...
ان کے چہرے پر شکست نظر آئی۔
"میں نے تمہیں سچ بتانے کی کوشش کی تھی..."
وہ دھیرے سے بولے۔
"مگر ہر بار ڈر گیا۔"
"کیا سچ؟"
زمرّد نے چیخ کر پوچھا۔
سیفِ ابد کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"میں سیفِ ابد نہیں ہوں۔"
لائبریری لرز اٹھی۔
"میں..."
ان کی آواز ٹوٹ گئی۔
"میں وہی شخص ہوں جس نے تین سو سال پہلے دروازہ کھولا تھا۔"
"میں وہی شخص ہوں جس نے اندھیرے کو آزاد کیا تھا۔"
"اور میں ہی..."
انہوں نے نظریں جھکا لیں۔
"پہلا زوال ہوں۔"
زمرّد کا وجود منجمد ہو گیا۔
آریان سانس لینا بھول گیا۔
اور موجودہ زوال کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔
کیونکہ اب وہ سمجھ گیا تھا۔
وہ صرف ایک انسان نہیں تھا۔
وہ ایک پرانے گناہ کا دوبارہ جنم تھا۔
اچانک اندھیرا قہقہہ لگا کر ہنسا۔
"اور اب..."
اس کی سرخ آنکھیں چمکنے لگیں۔
"آخری دروازہ کھلنے والا ہے۔"
"وہ دروازہ جس کے بعد نہ وقت بچے گا..."
"نہ محبت..."
"نہ تم تینوں۔"
اسی لمحے پوری لائبریری کے نیچے سے ایک خوفناک دھماکہ سنائی دیا۔
اور فرش درمیان سے پھٹ گیا۔
اس کے نیچے...
ایک اور دنیا موجود تھی۔
ایک ایسی دنیا جو ہزاروں سال سے بند تھی۔
"بعض سچائیاں انسان کو رلاتی نہیں، بلکہ اس کی پوری شناخت بدل دیتی ہیں۔"
"ہر اندھیرے کی پیدائش روشنی سے ہوتی ہے، مگر بعض اندھیرے روشنی کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھتے ہیں۔"
لائبریریِ ازل کے نیچے موجود زمین مکمل طور پر پھٹ چکی تھی۔
دراڑ اب دراڑ نہیں رہی تھی۔
وہ ایک عظیم دروازہ بن چکی تھی۔
ایسا دروازہ جو کسی اور دنیا کی طرف کھلتا تھا۔
ایک ایسی دنیا جس کا ذکر نہ تاریخ میں تھا، نہ مذہبی صحیفوں میں اور نہ ہی کسی انسانی یادداشت میں۔
زمرّد نے نیچے جھانکا۔
اس کے قدم بےاختیار پیچھے ہٹ گئے۔
کیونکہ دروازے کے نیچے زمین نہیں تھی۔
وہاں آسمان تھا۔
ستارے تھے۔
اور کہکشائیں تھیں۔
جیسے پوری کائنات الٹی ہو کر اس دروازے کے نیچے قید کر دی گئی ہو۔
"یہ..."
آریان کی آواز لرز گئی۔
"یہ جگہ کیا ہے؟"
سیفِ ابد نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔
"یہ عالمِ نسیان ہے۔"
"عالمِ نسیان؟"
زوال نے سرگوشی کی۔
حالانکہ وہ نام اس کے لیے اجنبی نہیں تھا۔
"یہ وہ دنیا ہے جہاں کائنات اپنی بھولی ہوئی چیزیں چھپا دیتی ہے۔"
سیفِ ابد کی آواز میں صدیوں کی تھکن شامل تھی۔
"بھولی ہوئی روحیں..."
"بھولی ہوئی دعائیں..."
"بھولی ہوئی محبتیں..."
"اور بھولے ہوئے گناہ۔"
زمرّد کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا ہوا۔
"اور اندھیرا؟"
اس نے پوچھا۔
سیفِ ابد نے نظریں جھکا لیں۔
"اندھیرا بھی اسی دنیا میں قید تھا۔"
اچانک سرخ آنکھوں والا وجود ہنس پڑا۔
اس کی ہنسی میں ایسی نفرت تھی کہ دیواریں لرز اٹھیں۔
"قید؟"
وہ بولا۔
"میں قید نہیں تھا۔"
"میں انتظار کر رہا تھا۔"
پھر اس کی نظریں سیدھی زمرّد پر جا کر رک گئیں۔
"تمہارا انتظار۔"
زمرّد کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
"میرا؟"
"ہاں۔"
اندھیرا مسکرایا۔
"کیونکہ تم تینوں میں سے صرف تم ہی دروازہ مکمل طور پر کھول سکتی ہو۔"
آریان فوراً اس کے سامنے آ گیا۔
"وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی۔"
اندھیرا خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
پھر دھیرے سے بولا۔
"جیسے تین سو سال پہلے نہیں کیا تھا؟"
یہ سن کر زمرّد چونک گئی۔
"کیا مطلب؟"
اندھیرے کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہوئی۔
"تمہیں اب بھی پوری حقیقت یاد نہیں۔"
اچانک عالمِ نسیان کے اندر موجود ستارے حرکت کرنے لگے۔
پھر ہزاروں تصویریں فضا میں ابھر آئیں۔
ایک کے بعد ایک۔
ایک کے بعد ایک۔
زمرّد نے دیکھا۔
شہرِ سُہاب۔
محل۔
زوال۔
آریان۔
اور خود وہ۔
مگر اس بار منظر مختلف تھا۔
وہ ایک خفیہ کمرے میں کھڑی تھی۔
صرف وہ اور سیفِ ابد موجود تھے۔
مگر اس وقت سیفِ ابد جوان تھے۔
بہت جوان۔
"دروازہ کھولو۔"
نوجوان سیفِ ابد کہہ رہے تھے۔
"یہ واحد راستہ ہے۔"
"مگر اس سے تباہی آ سکتی ہے۔"
شہزادی زمرّدہ نے جواب دیا۔
"نہیں۔"
انہوں نے کہا۔
"اس سے نجات آئے گی۔"
زمرّد کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
کیونکہ اسے یہ واقعہ یاد نہیں تھا۔
"میں تم پر بھروسہ کرتی ہوں۔"
شہزادی زمرّدہ نے کہا۔
اور پھر...
اس نے اپنے ہاتھ اس قدیم دروازے پر رکھ دیے۔
منظر اچانک رک گیا۔
ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
زمرّد کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا۔
"نہیں..."
اس کے لبوں سے بمشکل نکلا۔
اندھیرا آہستہ آہستہ مسکرایا۔
"ہاں۔"
"دروازہ زوال نے نہیں کھولا تھا۔"
آریان ساکت رہ گیا۔
"دروازہ سیفِ ابد نے نہیں کھولا تھا۔"
زوال کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اور پھر...
اندھیرے نے آخری ضرب لگائی۔
"دروازہ تم نے کھولا تھا، زمرّدہ۔"
وقت رک گیا۔
سانسیں رک گئیں۔
اور زمرّد کی پوری دنیا ٹوٹ گئی۔
وہ تین سو سال تک خود کو بےگناہ سمجھتی رہی تھی۔
زوال خود کو مجرم سمجھتا رہا تھا۔
سیفِ ابد خود کو قاتل سمجھتے رہے تھے۔
مگر حقیقت...
حقیقت کہیں زیادہ خوفناک تھی۔
تباہی کا پہلا قدم...
زمرّد نے اٹھایا تھا۔
اسی لمحے عالمِ نسیان کے اندر سے ایک سنہری روشنی ابھری۔
اندھیرے کے چہرے پر پہلی بار خوف نمودار ہوا۔
حقیقی خوف۔
"نہیں..."
اس نے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
سیفِ ابد چونک گئے۔
زوال کی آنکھیں پھیل گئیں۔
کیونکہ عالمِ نسیان کی گہرائیوں سے ایک اور وجود بیدار ہو رہا تھا۔
ایک ایسا وجود...
جس کا ذکر کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔
اور جب اس کی پہلی جھلک ظاہر ہوئی...
تو اندھیرا کانپ اٹھا۔
"وہ جاگ گئی..."
اندھیرے نے سرگوشی کی۔
"کبھی کبھی ہم ساری زندگی غلط شخص کو قصوروار سمجھتے رہتے ہیں، کیونکہ اصل مجرم کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔"
"اندھیرا کبھی روشنی سے نہیں ڈرتا، وہ اس سچ سے ڈرتا ہے جو روشنی اپنے ساتھ لاتی ہے۔"
عالمِ نسیان لرز رہا تھا۔
ستارے اپنی جگہوں سے ہٹ رہے تھے۔
کہکشائیں بکھر رہی تھیں۔
اور ہزاروں سال سے سوئی ہوئی دنیا آہستہ آہستہ بیدار ہو رہی تھی۔
مگر پہلی بار...
اندھیرا خوفزدہ تھا۔
زمرّد نے حیرت سے اس وجود کو دیکھا جس کی آمد سے اندھیرا کانپ اٹھا تھا۔
سنہری روشنی عالمِ نسیان کی گہرائیوں سے ابھر رہی تھی۔
پہلے ایک کرن۔
پھر ہزاروں کرنیں۔
پھر پورا آسمان روشنی سے بھر گیا۔
آریان نے بےاختیار اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
روشنی بہت شدید تھی۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس روشنی میں تکلیف نہیں تھی۔
اس میں سکون تھا۔
مانوسیت تھی۔
اور ایک عجیب سی محبت تھی۔
پھر روشنی کے درمیان ایک وجود نمودار ہوا۔
ایک عورت۔
سفید لباس۔
سنہری بال۔
اور ایسی آنکھیں جن میں پوری کائنات کا عکس موجود تھا۔
وہ خاموشی سے کھڑی تھی۔
مگر اس کی موجودگی ہی کافی تھی۔
اندھیرا پیچھے ہٹنے لگا۔
"ناممکن..."
اندھیرے کے لبوں سے نکلا۔
وہ عورت آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔
اور پہلی بار اس نے زمرّد کی طرف دیکھا۔
زمرّد کے دل میں ایک عجیب سی لہر اٹھی۔
ایسی لہر جو انسان اپنی ماں کو دیکھ کر محسوس کرتا ہے۔
یا شاید...
اپنی اصل کو دیکھ کر۔
"تم کون ہو؟"
زمرّد نے سرگوشی کی۔
عورت مسکرائی۔
ایسی مسکراہٹ جس میں صدیوں کی شفقت موجود تھی۔
"میں وہ ہوں جسے تم بھول چکے ہو۔"
"میں وہ ہوں جسے وقت بھلا نہیں سکا۔"
"میں نورِ اوّل ہوں۔"
سیفِ ابد کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
"نورِ اوّل..."
انہوں نے آہستہ سے دہرایا۔
زوال کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔
کیونکہ یہ نام صرف ایک افسانہ تھا۔
ایک دیومالائی کردار۔
ایک ایسی ہستی جسے کبھی حقیقت نہیں سمجھا گیا۔
مگر وہ یہاں موجود تھی۔
"یہ سب کیا ہے؟"
آریان نے بےچینی سے پوچھا۔
نورِ اوّل نے اپنی نظریں عالمِ نسیان پر دوڑائیں۔
"یہ کہانی تم تینوں سے شروع نہیں ہوئی۔"
"یہ کہانی مجھ سے شروع ہوئی تھی۔"
خاموشی چھا گئی۔
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اور فضا میں ایک نیا منظر ابھر آیا۔
کائنات کی پیدائش سے پہلے کا منظر۔
صرف دو قوتیں موجود تھیں۔
روشنی۔
اور اندھیرا۔
دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں تھے۔
بلکہ ایک دوسرے کا حصہ تھے۔
مگر پھر...
اندھیرے کے اندر ایک خواہش پیدا ہوئی۔
اختیار کی خواہش۔
وہ روشنی سے الگ ہونا چاہتا تھا۔
خودمختار بننا چاہتا تھا۔
اور اسی خواہش نے اسے بدل دیا۔
محبت نفرت میں بدل گئی۔
قربت جدائی میں بدل گئی۔
اور توازن ٹوٹ گیا۔
"یہی پہلا زوال تھا۔"
نورِ اوّل کی آواز گونجی۔
اندھیرا خاموش کھڑا تھا۔
مگر اس کی سرخ آنکھوں میں غصہ بھڑکنے لگا تھا۔
"جھوٹ!"
اس کی گرج دار آواز عالمِ نسیان میں پھیل گئی۔
"میں آزاد ہونا چاہتا تھا!"
نورِ اوّل نے افسوس سے اسے دیکھا۔
"نہیں۔"
"تم صرف تنہا ہونا چاہتے تھے۔"
یہ جملہ تیر کی طرح اندھیرے کے وجود میں پیوست ہو گیا۔
پہلی بار...
اس کی آنکھوں میں درد نمودار ہوا۔
گہرا۔
قدیم۔
اور ناقابلِ بیان درد۔
زمرّد نے حیرت سے اسے دیکھا۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اندھیرا نفرت سے پیدا نہیں ہوا تھا۔
وہ تنہائی سے پیدا ہوا تھا۔
اسی لمحے نورِ اوّل نے زمرّد، آریان اور زوال کی طرف دیکھا۔
"تم تینوں کو اس لیے پیدا کیا گیا تھا تاکہ توازن بحال ہو سکے۔"
"تم تینوں ایک روح کے حصے تھے۔"
"محبت۔"
"وفاداری۔"
"اور قربانی۔"
نورِ اوّل نے زوال کی طرف دیکھا۔
"تم قربانی تھے۔"
آریان کی طرف دیکھا۔
"تم وفاداری تھے۔"
پھر زمرّد کی طرف۔
"اور تم محبت تھی۔"
تینوں خاموش رہ گئے۔
مگر اچانک...
نورِ اوّل کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
اس نے عالمِ نسیان کے دور ترین کنارے کی طرف دیکھا۔
اور پہلی بار...
اس کی آنکھوں میں بھی خوف نمودار ہوا۔
"نہیں..."
اندھیرا مسکرایا۔
ایک خوفناک مسکراہٹ۔
"اب تم نے محسوس کر لیا؟"
نورِ اوّل ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔
سیفِ ابد نے بےچینی سے پوچھا۔
"کیا ہوا؟"
نورِ اوّل کی نظریں دور کسی چیز پر جمی تھیں۔
"ہم نے بہت دیر کر دی۔"
اچانک عالمِ نسیان کے افق پر ایک اور دراڑ نمودار ہوئی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔
اور پھر...
ہزاروں دراڑیں۔
جیسے پوری حقیقت ٹوٹ رہی ہو۔
نورِ اوّل کی آواز لرز گئی۔
"وہ آ رہا ہے..."
"کون؟"
زمرّد نے پوچھا۔
نورِ اوّل نے آہستہ سے جواب دیا۔
"وہ جس نے روشنی اور اندھیرے دونوں کو پیدا کیا تھا۔"
خاموشی۔
اور پھر...
پورا عالمِ نسیان ایک عظیم دھماکے سے لرز اٹھا۔
کائنات کا خالق بیدار ہو رہا تھا۔
"بعض اوقات سب سے بڑا راز یہ نہیں ہوتا کہ ہم کون ہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کس نے بنایا اور کیوں بنایا۔"
عالمِ نسیان ٹوٹ رہا تھا۔
کہکشائیں بکھر رہی تھیں۔
ستارے اپنی روشنی کھو رہے تھے۔
اور حقیقت کے پردے ایک ایک کرکے چاک ہو رہے تھے۔
زمرّد نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔
نہ خوابوں میں۔
نہ یادوں میں۔
نہ کسی اور زندگی میں۔
پورے افق پر دراڑیں پھیل چکی تھیں۔
ہر دراڑ کے پیچھے خالص سفید روشنی موجود تھی۔
مگر وہ روشنی نورِ اوّل جیسی نہیں تھی۔
اس میں محبت نہیں تھی۔
اس میں سکون نہیں تھا۔
اس میں صرف طاقت تھی۔
لامحدود طاقت۔
نورِ اوّل خاموش کھڑی تھی۔
اس کے چہرے پر پہلی بار بےبسی نظر آ رہی تھی۔
زوال کی آنکھوں میں خوف تھا۔
اور سیفِ ابد کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"یہ ممکن نہیں۔"
سیفِ ابد کی آواز لرز گئی۔
"خالق کبھی مداخلت نہیں کرتا۔"
اندھیرا ہنس پڑا۔
"آج کرے گا۔"
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
"کیونکہ تم سب ناکام ہو گئے ہو۔"
اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
اور عالمِ نسیان کا پورا آسمان ٹوٹ گیا۔
زمرّد نے بےاختیار آنکھیں بند کر لیں۔
جب اس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو ہر چیز بدل چکی تھی۔
وہ اب عالمِ نسیان میں نہیں تھے۔
وہ ایک بےانتہا سفید دنیا میں کھڑے تھے۔
نہ زمین تھی۔
نہ آسمان۔
نہ وقت۔
نہ فاصلے۔
صرف سفیدی۔
اور اُس سفیدی کے درمیان ایک تخت موجود تھا۔
ایسا تخت جسے دیکھ کر روح سجدے میں گر جانا چاہے۔
تخت خالی تھا۔
مگر اس کے گرد پوری کائنات گردش کر رہی تھی۔
کہکشائیں۔
ستارے۔
زمانے۔
زندگیاں۔
اور انسانوں کی تقدیریں۔
سب کچھ۔
زمرّد کے ہونٹ کانپنے لگے۔
"یہ جگہ..."
نورِ اوّل نے دھیرے سے کہا۔
"مقامِ آغاز۔"
"جہاں ہر چیز شروع ہوئی تھی۔"
"اور جہاں ہر چیز ختم ہوتی ہے۔"
اچانک تخت کے اوپر موجود خلا میں ہلچل پیدا ہوئی۔
پھر ایک آواز گونجی۔
ایسی آواز جو سنی نہیں جاتی تھی۔
محسوس کی جاتی تھی۔
"تم لوٹ آئے ہو۔"
پورا وجود لرز گیا۔
زمرّد کے گھٹنے کمزور پڑ گئے۔
آریان کا سر خود بخود جھک گیا۔
زوال کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
حتیٰ کہ اندھیرا بھی خاموش ہو گیا۔
کیونکہ یہ آواز کسی زبان کی محتاج نہیں تھی۔
یہ وہ آواز تھی جس نے پہلی بار "ہو جا" کہا تھا۔
اور کائنات وجود میں آ گئی تھی۔
"میں نے تمہیں ایک روح بنایا تھا۔"
آواز گونجی۔
"پھر تمہیں تین حصوں میں تقسیم کیا۔"
"تاکہ تم محبت کو سمجھ سکو۔"
"وفاداری کو جان سکو۔"
"اور قربانی کو محسوس کر سکو۔"
زمرّد کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
آریان خاموش کھڑا تھا۔
اور زوال پہلی بار بچے کی طرح رو رہا تھا۔
"میں ناکام ہو گیا۔"
اس نے سر جھکا لیا۔
"میں محبت کو نفرت میں بدل بیٹھا۔"
خاموشی چھا گئی۔
پھر آواز دوبارہ گونجی۔
"نہیں۔"
"تم ناکام نہیں ہوئے۔"
زوال نے حیرت سے سر اٹھایا۔
"تم نے محبت کھوئی۔"
"مگر قربانی نہیں۔"
اسی لمحے زمرّد کو وہ منظر یاد آیا۔
محل۔
آگ۔
تباہی۔
اور زوال کا اپنی جان دے دینا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
پہلی بار...
اس نے زوال کو مکمل طور پر سمجھا۔
پہلی بار...
اس نے اس کا درد محسوس کیا۔
اور اسی لمحے کچھ عجیب ہوا۔
زمرّد کے دل سے ایک سنہری روشنی نکلی۔
آریان کے وجود سے نیلی روشنی ابھری۔
اور زوال کے جسم سے سفید روشنی نکلنے لگی۔
تینوں روشنیاں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آنے لگیں۔
اندھیرا گھبرا گیا۔
"نہیں!"
وہ چیخا۔
"انہیں مت ملاؤ!"
مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
روشنیوں نے ایک دوسرے کو چھو لیا۔
اور پھر...
تینوں ایک عظیم نور میں تبدیل ہونے لگے۔
زمرّد کو محسوس ہوا جیسے اس کی روح بیدار ہو رہی ہو۔
جیسے صدیوں کی نیند ختم ہو رہی ہو۔
جیسے وہ اپنے اصل وجود کو یاد کر رہی ہو۔
اسی لمحے...
اندھیرے نے آخری حملہ کیا۔
وہ پوری طاقت کے ساتھ اس نور کی طرف لپکا۔
اور پہلی بار...
نورِ اوّل خوف سے چیخ اٹھی۔
"رک جاؤ!"
مگر اندھیرا رکنے والا نہیں تھا۔
کیونکہ اگر وہ کامیاب ہو جاتا...
تو نہ صرف تین روحیں تباہ ہوتیں۔
بلکہ پوری تخلیق کا توازن ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا۔
اور پھر...
نور اور اندھیرے کا آخری تصادم شروع ہو گیا۔
"بعض جنگیں زمین پر نہیں لڑی جاتیں، وہ روح کے اندر لڑی جاتی ہیں، اور ان کا نتیجہ پوری دنیا بدل دیتا ہے۔"
"کچھ جنگیں جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ یہ ثابت کرنے کے لیے لڑی جاتی ہیں کہ محبت اب بھی زندہ ہے۔"
عالمِ آغاز لرز رہا تھا۔
نور اور اندھیرے کا تصادم پوری تخلیق میں ارتعاش پیدا کر رہا تھا۔
کہکشائیں اپنی گردش بھول چکی تھیں۔
وقت اپنی رفتار کھو چکا تھا۔
اور پہلی بار...
تقدیر خود خوفزدہ دکھائی دے رہی تھی۔
اندھیرا پوری قوت کے ساتھ اس عظیم نور کی طرف بڑھ رہا تھا جس میں زمرّد، آریان اور زوال کی روحیں یکجا ہونے لگی تھیں۔
اس کی سرخ آنکھوں میں جنون بھڑک رہا تھا۔
ہزاروں سال کی نفرت۔
ہزاروں سال کی تنہائی۔
اور ہزاروں سال کا انتقام۔
"میں دوبارہ تنہا نہیں رہوں گا!"
اس کی گرج پوری کائنات میں پھیل گئی۔
"میں دوبارہ نہیں ٹوٹوں گا!"
نورِ اوّل بےبسی سے دیکھ رہی تھی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی...
اگر اندھیرا اس نور کو چھو گیا تو تخلیق کا توازن ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
اسی لمحے...
آریان آگے بڑھا۔
"نہیں۔"
اس کی آواز غیر معمولی طور پر پُرسکون تھی۔
زمرّد چونک گئی۔
"آریان!"
مگر آریان مسکرا رہا تھا۔
وہی مسکراہٹ...
جو زمرّد نے پہلی بار لائبریریِ ازل میں دیکھی تھی۔
"ہر بار تم دونوں میری وجہ سے تکلیف میں رہے ہو۔"
وہ دھیرے سے بولا۔
"اس بار نہیں۔"
اگلے ہی لمحے...
اس نے اپنی تمام نیلی روشنی الگ کر دی۔
وہ روشنی ایک عظیم ڈھال میں تبدیل ہو گئی۔
اور اندھیرے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
دھمااااااک!!!
ایسا محسوس ہوا جیسے ہزار سورج ایک ساتھ پھٹ گئے ہوں۔
زمرّد چیخ اٹھی۔
"آریان!"
روشنی بکھرنے لگی۔
اور جب دھواں چھٹا...
تو آریان زمین پر گرا ہوا تھا۔
اس کے جسم سے روشنی ختم ہو رہی تھی۔
زمرّد دوڑ کر اس کے پاس پہنچی۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"نہیں..."
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
"آپ مجھے چھوڑ نہیں سکتے۔"
آریان نے کمزور مسکراہٹ کے ساتھ اس کا چہرہ چھوا۔
"محبت کسی کو چھوڑتی نہیں۔"
"وہ صرف شکل بدل لیتی ہے۔"
زمرّد کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
پہلی بار...
وہ خود کو بےبس محسوس کر رہی تھی۔
اسی لمحے...
زوال خاموشی سے آگے بڑھا۔
اس کی نظریں اندھیرے پر جمی تھیں۔
اور پہلی بار...
اندھیرا پیچھے ہٹا۔
"نہیں..."
اس کی آواز میں خوف تھا۔
زوال کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔
"اب میں سمجھ گیا ہوں۔"
"تم میرے دشمن نہیں تھے۔"
اندھیرا حیران رہ گیا۔
"کیا؟"
زوال مسکرایا۔
"تم میری تنہائی تھے۔"
خاموشی چھا گئی۔
"اور میں پوری زندگی تم سے لڑتا رہا۔"
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"حالانکہ مجھے تمہیں معاف کرنا تھا۔"
اندھیرا لرز گیا۔
کیونکہ ہزاروں سال میں پہلی بار...
کسی نے اس سے نفرت نہیں کی تھی۔
کسی نے اسے سمجھا تھا۔
اسی لمحے...
اندھیرے کی سرخ آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
اور پورا عالمِ آغاز لرز اٹھا۔
نورِ اوّل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
"یہ ناممکن ہے..."
سیفِ ابد نے سرگوشی کی۔
"نہیں..."
"یہی تو ممکن تھا۔"
کیونکہ اندھیرا طاقت سے نہیں ہارا تھا۔
وہ پہلی بار سمجھا گیا تھا۔
مگر عین اسی لمحے...
تختِ آغاز کے پیچھے موجود سفید خلا میں ایک نئی دراڑ نمودار ہوئی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔
اور پھر...
ایک سیاہ ہاتھ باہر آیا۔
یہ ہاتھ اندھیرے کا نہیں تھا۔
نورِ اوّل کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
اندھیرا بھی خوفزدہ ہو گیا۔
اور پہلی بار...
خالق کی آواز میں بھی تشویش محسوس ہوئی۔
"نہیں..."
زمرّد نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
"یہ کون ہے؟"
اور تب...
ایک ایسی ہنسی گونجی جسے سن کر روشنی، اندھیرا، نورِ اوّل، سیفِ ابد اور زوال سب لرز اٹھے۔
"میں..."
آواز گونجی۔
"وہ خاموشی ہوں..."
"جو تخلیق سے پہلے موجود تھی۔"
"اور تخلیق کے بعد بھی باقی رہے گی۔"
زمرّد کا دل رک گیا۔
کیونکہ اسے اچانک احساس ہوا...
اندھیرا اصل دشمن نہیں تھا۔
اصل دشمن...
سکوتِ ازل تھا۔
"بعض اوقات ہم پوری زندگی غلط جنگ لڑتے رہتے ہیں، کیونکہ اصل دشمن کبھی شور نہیں کرتا۔"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں