رہگزرِ درد
رہگزرِ درد تحریر: کنزہ عمران مغل "زندگی بعض اوقات انسان کے حصے میں وہ درد ڈال دیتی ہے، جس کا بوجھ صدیوں تک روح اُٹھاتی رہتی ہے۔" یہی وہ جملہ ہے جو روحان کی زندگی کو گویا ایک آئینے کی طرح بیان کرتا ہے۔ "بعض لوگ دنیا کے شور میں اتنے دب جاتے ہیں کہ ان کی آواز صرف ان کے دل کے کمرے تک محدود رہ جاتی ہے۔" روحان اپنے والدین کا تیسرا بیٹا تھا۔ بڑا بھائی فراز تھا، جو بچپن ہی سے ذہین اور محنتی مانا جاتا تھا۔ دوسرا بھائی، بلال، اپنی ضد اور غصے کے باعث اکثر والدین کی توجہ کھینچ لیتا تھا۔ چار بہنیں بھی تھیں جن کے ناز و نخرے والدین کو برداشت کرنا پڑتے تھے۔ یوں بچوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن محبت اور سکون کم، کیونکہ گھر کا ماحول ہمیشہ کسی نہ کسی بوجھ اور کشمکش کے نیچے دبا رہتا تھا۔ روحان کی ماں، شگفتہ، ایک ایسی عورت تھی جس نے کبھی گھریلو زندگی کو سنبھالنے کی ذمہ داری پوری نہ کی۔ وہ اپنی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی اور چونکہ کبھی گھر کے کام کاج کا بوجھ اُٹھانے کی عادت نہ پڑی تھی، اس لیے نہ صفائی کا شعور تھا اور نہ کھانے پکانے یا گھر کو سنبھالنے کا سلیقہ۔ شادی کے بعد بھی اس کی یہی عا...