جمعہ، 1 مئی، 2026

انا اور تم

میرا نام کنزا عمران مغل ۔ میں ایم فل انگلش لٹریچر کی اسکالر ، ایک محقق اور مصنفہ ۔ میرے لیے لکھنا صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک جنون ہے، جو مجھے ہر کہانی کے کرداروں کے دل تک لے جاتا ہے۔ ہر تجربے نے مجھے خود کو بہتر سمجھنے میں مدد دی، اور ہر لفظ نے مجھے مضبوط تر بنایا۔ آج میں اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف اپنی آواز بلند کرتی ہوں، بلکہ ایک ایسے سفر پر گامزن ہوں جہاں ہر قدم یقین، علم اور خود بالکل، میں آپ کے بارے میں ایک خوبصورت تعارف شامل کرتی ہوں تاکہ آپ کی شخصیت، آپ کی طاقت اور آپ کے سفر کو واضح کیا جا سکے۔   ایک ایسی خاتون ہوں جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر صبر، ایمان اور خود اعتمادی کو اپنا اصل ساتھ رکھا۔ میری کہانی ایک عام لڑکی سے شروع ہوئی، مگر وقت کے ساتھ میں نے خود کو اپنی پہچان، اپنے خوابوں اور اپنے رب پر یقین کے ساتھ کھڑا کرنا سیکھا۔ میں نے ہر مشکل کو ایک موقع سمجھا، ہر خاموشی کو ایک سبق، اور ہر دعا کو اپنی منزل کا ذریعہ بنایا۔ آج میں اپنے آپ سے محبت کرتی ہوں، اپنے راستے پر چلتی ہوں، اور یہ یقین رکھتی ہوں کہ جو کچھ بھی میرے لیے لکھا ہے، وہ اللہ کے حکم سے بہترین ہے۔

انا اور تم

صبح کی نرم روشنی آہستہ آہستہ صحن میں پھیل رہی تھی۔ فضا میں اذان کی مدھم سی گونج ابھی باقی تھی۔ مہر جھکی ہوئی پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ اس کے ہاتھ نہایت نرمی سے مٹی کو چھو رہے تھے، جیسے وہ صرف پودے نہیں بلکہ اپنی چھوٹی سی دنیا کو سنوار رہی ہو۔

ایک گملا ذرا سا لڑکھڑایا۔ مہر نے فوراً آگے بڑھ کر اسے سنبھال لیا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جیسے وہ ٹوٹتی چیزوں کو بچانا جانتی ہو… یا شاید اس کی عادت ہو۔

“مہر! جلدی کرو، آفس نہیں جانا کیا؟” اندر سے اس کی ماں شبانہ کی آواز آئی۔

“آ رہی ہوں امی، بس دو منٹ!” مہر نے جواب دیا، مگر اس کی آواز میں کبھی جلد بازی نہیں ہوتی تھی۔ وہ ہر کام اپنے انداز سے، اپنے سکون کے ساتھ کرتی تھی۔

ناشتے کی میز پر ہمیشہ کی طرح ہلکی پھلکی نوک جھونک جاری تھی۔

“میڈم کو آفس جانے کا بڑا شوق ہے…” دانش نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا، “شادی کا نام سنو تو غائب ہو جاتی ہیں!”

مہر نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا، پھر نہایت سنجیدگی سے بولی،
“شادی کوئی مجبوری نہیں ہوتی، دانش۔ صحیح وقت پر صحیح انسان مل جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ نہیں۔”

راشد نے بیٹی کی بات سن کر فخر سے مسکرا دیا۔
“میری بیٹی کسی پر بوجھ نہیں بنے گی۔”

یہ جملہ مہر کے لیے صرف الفاظ نہیں تھا، ایک وعدہ تھا… خود سے بھی اور دنیا سے بھی۔

شہر کے دوسرے کونے میں ایک بالکل مختلف صبح تھی۔

اونچی عمارت، شیشے کی دیواریں، قیمتی گاڑیاں… اور ان سب کے بیچ سعد رحمان۔

وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس، پورے اعتماد کے ساتھ آفس میں داخل ہوا۔ اس کے قدموں میں ایک عجیب سا یقین تھا—جیسے اسے معلوم ہو کہ یہ دنیا اسی کے گرد گھومتی ہے۔

“گڈ مارننگ سر!” ہر طرف سے آوازیں آئیں۔

سعد نے بس ہلکا سا سر ہلایا۔
“میٹنگ روم۔ پانچ منٹ میں۔”

اس کا لہجہ مختصر تھا، مگر حکم دینے والا۔

اسی وقت، مہر ایک رکشے میں بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نہ کوئی حسرت تھی نہ کوئی شکایت… بس ایک خاموش سی خودداری۔

دو الگ دنیاں… ایک ہی شہر میں۔

آفس کی راہداری میں وہ لمحہ آیا جو شاید سب کچھ بدلنے والا تھا۔

مہر جلدی میں اندر داخل ہوئی، فائلیں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ اچانک وہ کسی سے ٹکرا گئی۔ کاغذات زمین پر بکھر گئے۔

خاموشی چھا گئی۔

“چلنا نہیں آتا تمہیں؟” ایک سرد اور سخت آواز سنائی دی۔

مہر نے سر اٹھایا۔ اس کی نظریں سعد سے ملیں۔
وہ ایک لمحہ تھا… مختصر مگر گہرا۔

“آپ بھی دیکھ کے چل سکتے تھے،” مہر نے بغیر جھجھک جواب دیا۔

آس پاس کھڑے لوگ چونک گئے۔

سعد کی آنکھوں میں حیرت کی ایک جھلک آئی، جو فوراً انا میں بدل گئی۔
“Excuse me?”

مہر نے جھک کر اپنی فائلیں اٹھائیں، پھر سیدھی کھڑی ہو کر بولی،
“غلطی میری بھی ہو سکتی ہے… لیکن آپ کی بھی ہے۔”

یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا… یہ ایک چیلنج تھا۔

سعد نے اسے غور سے دیکھا، جیسے پہلی بار کسی نے اس کے سامنے سر نہیں جھکایا ہو۔

“سر… یہ نئی ایمپلائی ہیں،” مینجر نے گھبرا کر کہا۔

“واضح ہے،” سعد نے سرد لہجے میں جواب دیا اور آگے بڑھ گیا۔

مگر چند قدم چل کر وہ رکا… اور ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑا۔

مہر اب بھی وہیں کھڑی تھی—پرسکون، بے خوف۔

آفس فلور پر کیرن اس کے قریب آئی۔

“تمہیں پتہ ہے تم کس سے ٹکرائی ہو؟ وہ سعد رحمان ہیں!” اس نے آہستہ سے کہا۔

“تو کیا ہوا؟” مہر نے سادہ انداز میں جواب دیا۔

کیرن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“تم یہاں زیادہ دن نہیں ٹکو گی۔”

مہر نے کچھ نہیں کہا۔ اسے لوگوں کی باتوں سے زیادہ اپنی پہچان پر یقین تھا۔

شام ڈھل رہی تھی جب مہر تھکی ہوئی سڑک پر چل رہی تھی۔ شہر کی روشنیوں میں ایک عجیب سی تنہائی تھی۔

“لوگ سمجھتے ہیں پیسہ سب کچھ ہوتا ہے… مگر عزت اس سے بھی بڑی ہوتی ہے…”
اس کے دل نے آہستہ سے کہا۔

اسی وقت، آفس کے ایک کمرے میں سعد اکیلا بیٹھا تھا۔

اس کے سامنے CCTV کی اسکرین چل رہی تھی۔ وہی صبح والا منظر… وہی ٹکراؤ۔

اس نے ویڈیو روک دی۔
مہر کا چہرہ اسکرین پر ٹھہر گیا۔

سعد کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی دلچسپی ابھری—مگر یہ محبت نہیں تھی۔

“دلچسپ…” اس نے دھیرے سے کہا۔

یہ انا تھی… جو پہلی بار کسی سے ٹکرائی تھی۔

اگلی صبح، مہر پراعتماد انداز میں آفس میں داخل ہوئی۔

“مہر… سعد سر نے آپ کو بلایا ہے،” مینجر نے کہا۔

ایک لمحے کو فضا خاموش ہو گئی۔

مگر مہر کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا۔

وہ آہستہ آہستہ سعد کے کیبن کی طرف بڑھی…

اور دروازے کے دوسری طرف، سعد اس کا انتظار کر رہا تھا۔

دروازہ آہستہ سے کھلا۔

مہر نے ایک لمحے کے لیے اندر جھانکا، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے اندر قدم رکھا۔ سعد اپنے کیبن میں کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں فائل تھی، مگر نظریں اس پر نہیں… دروازے پر تھیں۔

جیسے وہ پہلے سے جانتا ہو کہ کون آنے والا ہے۔

“May I come in?” مہر نے رسمی انداز میں کہا۔

سعد نے نظریں اس پر جمائیں، پھر ہلکا سا اشارہ کیا۔
“Come.”

مہر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی سامنے والی کرسی کے قریب رکی، مگر بیٹھی نہیں۔

“آپ نے بلایا تھا؟”

سعد نے فائل بند کی، اور اسے میز پر رکھ دیا۔ چند لمحے وہ صرف اسے دیکھتا رہا—جیسے الفاظ سے زیادہ وہ اس کے لہجے، اس کے انداز، اس کے اعتماد کو پڑھ رہا ہو۔

“تم نئی ہو،” اس نے آخرکار کہا۔

“جی۔”

“اور پہلی ہی ملاقات میں تم نے مجھے سکھانے کی کوشش کی کہ غلطی کس کی ہوتی ہے؟”

مہر کے چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی آئی، مگر اس کی آواز اب بھی متوازن تھی۔
“میں نے صرف وہی کہا جو مجھے ٹھیک لگا۔”

سعد کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی—مگر وہ مسکراہٹ نرم نہیں تھی، چیلنج سے بھری ہوئی تھی۔

“یہاں ‘ٹھیک’ وہ ہوتا ہے جو میں کہتا ہوں۔”

یہ جملہ کمرے میں جیسے ٹھہر گیا۔

مہر نے پہلی بار سیدھی اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“شاید… مگر ہر جگہ نہیں۔”

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ یہ وہ خاموشی تھی جس میں الفاظ سے زیادہ انا بول رہی تھی۔

سعد کرسی سے ذرا آگے جھکا۔
“تمہیں اندازہ ہے تم کس سے بات کر رہی ہو؟”

“جی،” مہر نے بغیر جھجھک جواب دیا، “اپنے باس سے۔”

سعد نے میز پر انگلیوں سے ہلکی سی دستک دی۔
“اور باس سے بات کرنے کا طریقہ یہی ہوتا ہے؟”

مہر نے گہرا سانس لیا۔
“عزت دی جائے تو عزت ملتی ہے، سر۔”

یہ جملہ سیدھا جا کر سعد کی انا سے ٹکرایا۔

چند لمحے… صرف نظریں بولتی رہیں۔

پھر اچانک سعد سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، جیسے اس نے کوئی فیصلہ کر لیا ہو۔

“Fine.”

اس نے ایک فائل اٹھا کر اس کی طرف بڑھائی۔
“یہ پروجیکٹ ہے۔ کل شام تک مکمل چاہیے۔”

مہر نے فائل لی، ایک نظر دیکھی، پھر کہا،
“یہ ایک دن کا کام نہیں ہے۔”

سعد نے فوراً جواب دیا،
“اب ہے۔”

“لیکن—”

“یہاں ‘لیکن’ کی گنجائش نہیں ہے، مہر۔” اس نے پہلی بار اس کا نام لیا، آہستہ مگر واضح انداز میں۔
“یا تو کام کرو… یا—”

وہ جملہ ادھورا چھوڑ گیا، مگر مطلب واضح تھا۔

مہر نے چند لمحے فائل کو دیکھا، پھر نظریں اٹھائیں۔
“میں کوشش کروں گی۔”

“کوشش نہیں… نتیجہ چاہیے مجھے،” سعد نے کہا۔

مہر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ مڑی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

جیسے ہی اس نے ہینڈل پکڑا، سعد کی آواز پھر سنائی دی—
“اور مہر…”

وہ رکی، مگر پیچھے مڑی نہیں۔

“اگلی بار… ٹکرانے سے پہلے دیکھ لیا کرو۔”

مہر نے آہستہ سے جواب دیا،
“آپ بھی۔”

اور وہ باہر نکل گئی۔

کیبن کے دروازے بند ہوتے ہی سعد نے ایک گہرا سانس لیا۔

یہ کیا تھا؟

غصہ؟
یا کچھ اور؟

اس نے کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کر شہر کو دیکھا۔ نیچے لوگ چھوٹے نظر آ رہے تھے… ہمیشہ کی طرح۔

مگر آج پہلی بار… کوئی اس کی نظروں کے برابر آ کر کھڑا ہوا تھا۔

“Interesting…” اس نے دھیرے سے کہا، مگر اس بار اس کے لہجے میں صرف انا نہیں تھی… کچھ اور بھی شامل تھا۔

آفس فلور پر مہر اپنی میز پر آ کر بیٹھ گئی۔

کیرن فوراً اس کے پاس آئی۔
“کیا ہوا؟ ڈانٹ پڑی؟”

مہر نے فائل کھولی، نظریں اس پر جمائیں۔
“کام ملا ہے۔”

“Impossible ہوگا،” کیرن نے فوراً کہا۔

مہر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“دیکھتے ہیں۔”

مگر اس کے دل میں ایک ہلکی سی بےچینی ضرور تھی۔ یہ صرف ایک پروجیکٹ نہیں تھا… یہ ایک امتحان تھا۔

شام ہوتے ہوتے آفس تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

مگر مہر ابھی تک اپنی میز پر بیٹھی تھی۔ فائلیں، نوٹس، لیپ ٹاپ… سب اس کے سامنے پھیلے ہوئے تھے۔

وقت گزر رہا تھا، مگر وہ رکی نہیں۔

اوپر اپنے کیبن میں سعد ابھی تک موجود تھا۔

اس نے گھڑی دیکھی… پھر CCTV اسکرین کی طرف نظر گئی۔

مہر اب بھی کام کر رہی تھی۔

اس نے چند لمحے اسے دیکھا… بغیر کسی تاثر کے۔

پھر آہستہ سے کرسی پر ٹیک لگا لی۔

“ضد…” اس نے خود سے کہا، “یا ہمت؟”

رات گہری ہو چکی تھی۔

مہر نے آخرکار سر اٹھایا۔ آنکھوں میں تھکن تھی، مگر ہار نہیں تھی۔

اس نے فائل بند کی۔

“کل…” اس نے آہستہ سے خود سے کہا، “کل دیکھتے ہیں۔”

دوسری طرف، سعد اب بھی جاگ رہا تھا۔

اور پہلی بار… اس کے ذہن میں کسی پروجیکٹ سے زیادہ کسی شخص کا خیال تھا

رات کی تھکن ابھی پوری طرح اتری بھی نہیں تھی کہ صبح پھر اپنی روشنی کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔

مہر نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے ہلکی سی تھکن تھی، مگر چہرے پر وہی سکون… وہی خودداری۔

“کمزور نہیں پڑنا…” اس نے آہستہ سے خود سے کہا۔

آفس کا ماحول آج کچھ مختلف تھا۔

ہر کوئی اپنے کام میں مصروف تھا، مگر مہر کے لیے آج کا دن ایک امتحان تھا۔ اس نے فائل مضبوطی سے پکڑی اور سیدھا سعد کے کیبن کی طرف بڑھ گئی۔

دروازے پر دستک دی۔

“Come in.”

مہر اندر داخل ہوئی۔ سعد پہلے ہی اپنی میز کے پیچھے بیٹھا تھا، جیسے وہ اس کا انتظار کر رہا ہو۔

“پروجیکٹ مکمل ہو گیا، سر،” مہر نے فائل اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔

سعد نے بغیر کچھ کہے فائل کھولی۔ چند صفحات پلٹے… پھر اس کی رفتار آہستہ ہو گئی۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

مہر کھڑی رہی۔ اس کی نظریں سیدھی تھیں، مگر دل کی دھڑکن ذرا تیز۔

کچھ لمحوں بعد سعد نے فائل بند کی۔

“تم نے یہ ایک دن میں کیا ہے؟”

“جی۔”

“Impossible.”

مہر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“آپ نے کہا تھا کہ اب ممکن ہے۔”

یہ جملہ سیدھا سعد کے اپنے الفاظ کی طرف اشارہ تھا۔

سعد نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا—صرف ایک ایمپلائی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر جو اس کے حکم کو چیلنج بھی کر سکتا ہے… اور پورا بھی۔

“Not bad,” اس نے مختصر سا کہا۔

یہ تعریف کم تھی… مگر سعد کے لیے یہ ایک بڑا قدم تھا۔

مہر نے سر ہلایا۔
“Thank you.”

وہ مڑنے لگی، مگر سعد کی آواز نے اسے روک لیا۔

“Wait.”

مہر رکی۔

“آج شام ایک میٹنگ ہے۔ تم بھی آؤ گی۔”

مہر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“سر… میں؟”

“Problem?”

“نہیں، لیکن—”

“Then be there at 6.”

یہ حکم تھا، مگر اس بار اس میں وہ سختی نہیں تھی جو کل تھی۔

شام کو آفس کا ماحول بدل چکا تھا۔

کانفرنس روم میں بڑے لوگ موجود تھے—بزنس پارٹنرز، سینئر مینجمنٹ… اور ان کے درمیان مہر۔

وہ خود کو اس ماحول میں اجنبی محسوس کر رہی تھی، مگر اس کے انداز میں کوئی جھجھک نہیں تھی۔

اسی دوران دروازہ کھلا۔

ایک نیا چہرہ اندر داخل ہوا۔

سادہ مگر نفیس لباس، پُرسکون آنکھیں، اور ایک نرم سی مسکراہٹ۔

“Sorry, I’m late,” اس نے کہا۔

سعد نے سر اٹھایا۔
“Finally.”

“Traffic,” اس نے ہلکے انداز میں جواب دیا، پھر اس کی نظر مہر پر پڑی۔

ایک لمحے کے لیے وہ رکا… جیسے اس نے کچھ محسوس کیا ہو۔

“یہ مہر ہیں،” سعد نے مختصر تعارف کروایا، “نئی ہیں… مگر کام ٹھیک کرتی ہیں۔”

مہر نے ہلکا سا سر ہلایا۔
“السلام علیکم۔”

“وعلیکم السلام،” اس نے نرم لہجے میں جواب دیا، “میں حمد ہوں۔”

یہ پہلا تعارف تھا… مگر اس میں وہ سختی نہیں تھی جو سعد کے انداز میں تھی۔

میٹنگ شروع ہوئی۔

باتیں ہو رہی تھیں، پلانز بن رہے تھے، مگر ایک موقع ایسا آیا جب مہر نے اپنی رائے دی۔

سب خاموش ہو گئے۔

ایک لمحے کے لیے سب کی نظریں اس پر تھیں۔

“Interesting point,” حمد نے فوراً کہا، “actually یہ approach زیادہ practical ہے۔”

سعد نے اس کی طرف دیکھا۔

پھر مہر کی طرف۔

اس کی آنکھوں میں کچھ بدل رہا تھا—ایک انجانا سا احساس… جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

یہ حسد تھا؟
یا کچھ اور؟

میٹنگ ختم ہونے کے بعد سب لوگ باہر نکلنے لگے۔

مہر بھی جانے لگی تھی کہ حمد اس کے قریب آیا۔

“آپ کا idea واقعی اچھا تھا،” اس نے مسکرا کر کہا۔

“Thanks,” مہر نے مختصر جواب دیا، مگر اس کے لہجے میں نرمی تھی۔

“آپ نئی ہیں، مگر confident کافی ہیں۔”

مہر نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
“ضرورت ہوتی ہے کبھی کبھی۔”

دونوں کے درمیان ایک سادہ، صاف سا رابطہ تھا—بغیر کسی انا کے۔

دور کھڑا سعد یہ سب دیکھ رہا تھا۔

خاموش… مگر اندر کچھ ہل رہا تھا۔

وہ آگے بڑھا۔

“مہر,” اس نے آواز دی۔

مہر نے مڑ کر دیکھا۔

“Report kal subah meri table par chahiye,” اس نے رسمی انداز میں کہا۔

یہ کام ضروری نہیں تھا… یہ صرف ایک بہانہ تھا۔

حمد نے سعد کی طرف دیکھا… پھر مہر کی طرف۔

اسے کچھ سمجھ آ رہا تھا۔

رات کو مہر گھر واپس جا رہی تھی۔

آج اس کے ذہن میں بہت کچھ تھا—کام، سعد، اور وہ نیا شخص… حمد۔

“ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا…” اس نے سوچا۔

دوسری طرف، سعد اپنے کمرے میں کھڑا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔

اس کے ذہن میں بار بار وہی منظر آ رہا تھا—مہر اور حمد بات کرتے ہوئے۔

اس نے آنکھیں بند کیں۔

“یہ کیا ہے…” اس نے آہستہ سے خود سے کہا۔

اسے عادت نہیں تھی… کسی کو کھونے کے احساس کی۔

کیونکہ اس نے کبھی کسی کو اپنا سمجھا ہی نہیں تھا۔

شام ڈھل رہی تھی، مگر آفس کی روشنیوں میں وقت جیسے رک سا گیا تھا۔

زیادہ تر لوگ جا چکے تھے۔ لمبی راہداریوں میں خاموشی پھیل چکی تھی، صرف چند کیبنز میں جلتی لائٹس اس بات کا ثبوت تھیں کہ کچھ لوگ ابھی بھی اپنے اپنے جہانوں میں مصروف ہیں۔

مہر بھی انہی میں سے ایک تھی۔

اس کے سامنے فائل کھلی ہوئی تھی، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نمبرز اور گرافس بن رہے تھے، مگر اس کی توجہ بار بار بھٹک رہی تھی۔

کبھی وہ اس میٹنگ کو یاد کرتی… کبھی حمد کا انداز… اور کبھی سعد کی وہ نظریں، جو آج کچھ مختلف تھیں۔

“مجھے کیا ہو رہا ہے…” اس نے خود سے سرگوشی کی اور پیشانی پر ہاتھ رکھ لیا۔

وہ ایسی نہیں تھی۔ وہ کبھی اپنے خیالات کو قابو سے باہر نہیں جانے دیتی تھی۔

مگر آج… کچھ بدل رہا تھا۔

اوپر اپنے کیبن میں سعد کھڑا کھڑکی کے سامنے شہر کو دیکھ رہا تھا۔

نیچے سڑکوں پر روشنیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی قطار تھی، گاڑیاں، لوگ… سب اپنی اپنی منزل کی طرف جا رہے تھے۔

مگر اس کے اندر جیسے کوئی منزل ہی نہ ہو۔

اس نے گہرا سانس لیا۔

ذہن میں بار بار وہی منظر آ رہا تھا—مہر اور حمد ساتھ کھڑے، بات کرتے ہوئے، ہلکی سی مسکراہٹ… ایک سادہ سا تعلق، جس میں کوئی دباؤ نہیں تھا۔

سعد کے لیے یہ سب عجیب تھا۔

اس نے کبھی کسی کو اس طرح نہیں دیکھا تھا… نہ کسی کو اس طرح محسوس کیا تھا۔

“یہ بس ایک ایمپلائی ہے…” اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔

مگر دل جیسے ماننے کو تیار نہیں تھا۔

نیچے آفس فلور پر مہر نے آخرکار فائل بند کی۔

اس نے گھڑی دیکھی—رات کافی ہو چکی تھی۔

وہ آہستہ سے کرسی سے اٹھی، اپنا بیگ اٹھایا اور باہر نکلنے لگی۔

راہداری میں قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔

جیسے ہی وہ لفٹ کے قریب پہنچی، اچانک اسے احساس ہوا کہ کوئی پیچھے ہے۔

وہ مڑی۔

سعد۔

وہ چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔

“ابھی تک گئی نہیں؟” اس نے سادہ مگر گہرے لہجے میں پوچھا۔

مہر نے خود کو سنبھالا۔
“کام مکمل کرنا تھا، سر۔”

“ضرورت نہیں تھی اتنی دیر تک رکنے کی۔”

یہ جملہ غیر متوقع تھا۔

مہر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ نے خود کہا تھا کہ رپورٹ صبح تک چاہیے۔”

سعد ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا، جیسے اسے اپنے ہی الفاظ یاد آ گئے ہوں۔

“ہاں… کہا تھا،” اس نے آہستہ سے کہا، “مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم خود کو تھکا دو۔”

یہ وہ سعد نہیں تھا جو کل تھا۔

مہر نے اس کے لہجے میں ایک ہلکی سی تبدیلی محسوس کی، مگر اس نے کچھ کہا نہیں۔

لفٹ آ گئی۔

دونوں اندر داخل ہوئے۔

خاموشی۔

صرف لفٹ کے چلنے کی ہلکی سی آواز۔

مہر نے نظریں نیچے رکھیں، جبکہ سعد کی نظریں اس پر ٹکی تھیں—بغیر کسی لفظ کے، جیسے وہ اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“تم ہمیشہ ایسی ہی ہو؟” سعد نے اچانک پوچھا۔

مہر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“کیسی؟”

“ضدی… یا خوددار؟” اس نے آہستہ سے کہا۔

مہر کے چہرے پر ایک ہلکی سی سنجیدگی آئی۔
“فرق ہوتا ہے دونوں میں۔”

“کیا؟”

“ضدی انسان اپنی بات منوانے کے لیے لڑتا ہے… اور خوددار انسان اپنی عزت کے لیے کھڑا رہتا ہے۔”

لفٹ رک گئی۔

دروازہ کھلا۔

مہر باہر نکل گئی۔

مگر سعد وہیں کھڑا رہ گیا—چند لمحوں کے لیے۔

یہ جملہ اس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔

پارکنگ ایریا میں رات کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

مہر باہر آئی تو اس نے دیکھا کہ بارش شروع ہو چکی ہے۔

ہلکی ہلکی بوندیں… مگر مسلسل۔

وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر آگے بڑھنے لگی۔

“رکو۔”

سعد کی آواز پیچھے سے آئی۔

مہر نے مڑ کر دیکھا۔

سعد اپنی کار کے پاس کھڑا تھا۔

“میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں،” اس نے کہا۔

مہر نے فوراً انکار کیا۔
“ضرورت نہیں ہے، میں چلی جاؤں گی۔”

“بارش ہو رہی ہے۔”

“میں سنبھال لوں گی۔”

سعد نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
“ہر چیز خود سنبھالنا ضروری نہیں ہوتا، مہر۔”

یہ جملہ نرم تھا… مگر اس میں ایک عجیب سا وزن تھا۔

مہر چند لمحے خاموش رہی۔

پھر اس نے آہستہ سے کہا،
“کچھ چیزیں خود ہی سنبھالنی پڑتی ہیں۔”

یہ صرف بارش کی بات نہیں تھی۔

سعد سمجھ گیا۔

مگر وہ ہارا نہیں۔

“بیٹھ جاؤ،” اس نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا، “یہ حکم نہیں ہے… صرف offer ہے۔”

مہر نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

وہاں وہ سختی نہیں تھی… جو پہلے دن تھی۔

چند لمحے گزرے۔

پھر مہر آہستہ سے کار میں بیٹھ گئی۔

کار خاموشی سے سڑک پر چل رہی تھی۔

بارش شیشوں پر گر رہی تھی، اور اندر ایک عجیب سی خاموشی تھی۔

“تم کہاں رہتی ہو؟” سعد نے پوچھا۔

مہر نے پتہ بتایا۔

کچھ دیر خاموشی رہی۔

پھر سعد نے آہستہ سے کہا،
“آج میٹنگ میں… تم نے اچھا کام کیا۔”

یہ ایک سادہ جملہ تھا، مگر مہر کے لیے غیر متوقع۔

“Thank you,” اس نے مختصر جواب دیا۔

“اور حمد…” سعد نے جملہ ادھورا چھوڑا، جیسے وہ خود نہیں جانتا تھا کہ کیا کہنا ہے۔

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔
“کیا؟”

“کچھ نہیں،” سعد نے فوراً کہا۔

مگر اس کے لہجے میں وہی الجھن تھی۔

کار مہر کے گھر کے سامنے رکی۔

مہر نے دروازہ کھولا، مگر نکلنے سے پہلے رکی۔

“Thanks,” اس نے کہا۔

سعد نے سر ہلایا۔

مہر باہر نکلی… اور بارش میں چند قدم چل کر دروازے کے اندر داخل ہو گئی۔

سعد وہیں بیٹھا رہا۔

کچھ دیر تک۔

اس نے اس گھر کو دیکھا—سادہ، چھوٹا، مگر پُرسکون۔

پھر اس نے نظریں ہٹا لیں۔

“یہ کیا ہو رہا ہے…” اس نے آہستہ سے خود سے کہا۔

اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کی انا میں ایک ہلکی سی دراڑ پڑ چکی ہے۔

اور یہ دراڑ… خطرناک بھی ہو سکتی تھی۔

ادھر، مہر اپنے کمرے میں کھڑی کھڑکی سے باہر بارش کو دیکھ رہی تھی۔

اس کے ذہن میں آج کے سب لمحے گھوم رہے تھے۔

سعد کا بدلتا لہجہ… اس کی خاموش نظریں… اور وہ ایک جملہ—

“ہر چیز خود سنبھالنا ضروری نہیں ہوتا…”

مہر نے آنکھیں بند کر لیں۔

“نہیں…” اس نے خود سے کہا، “یہ بس ایک فریب ہے…”

مگر دل… دل ہمیشہ دلیل نہیں مانتا۔

صبح کی روشنی کھڑکی سے اندر داخل ہو رہی تھی، مگر مہر کے لیے آج کا دن عام نہیں تھا۔

وہ جلدی اٹھ گئی تھی، حالانکہ رات بھر نیند مکمل نہیں ہوئی تھی۔ ذہن بار بار کل کی بارش، سعد کی باتوں اور اس کے بدلے ہوئے لہجے کی طرف جا رہا تھا۔

“یہ سب میرے لیے اہم نہیں ہے…” اس نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا، جیسے خود کو قائل کر رہی ہو۔

مگر دل… دل ہمیشہ سادہ نہیں ہوتا۔

آفس میں آج ایک عجیب سی مصروفیت تھی۔

سب لوگ ایک بڑے کلائنٹ کے آنے کی تیاری کر رہے تھے۔ فائلیں، پریزنٹیشنز، میٹنگز… ہر طرف ہلچل تھی۔

مہر اپنی میز پر بیٹھی آخری سلائیڈز کو چیک کر رہی تھی، جب حمد اس کے قریب آیا۔

“Good morning,” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“Good morning,” مہر نے جواب دیا، اور پہلی بار اس کے چہرے پر ہلکی سی نرمی نمایاں ہوئی۔

“Presentation ready ہے؟”

“جی، تقریباً مکمل ہے۔”

حمد نے اسکرین کی طرف جھک کر دیکھا۔
“Impressive… تم detail پر کافی کام کرتی ہو۔”

“کام ٹھیک ہونا چاہیے،” مہر نے سادہ انداز میں کہا۔

“اور خود؟” حمد نے ہلکے سے پوچھا، “تم ٹھیک ہو؟”

یہ سوال غیر متوقع تھا۔

مہر نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا… پھر نظریں ہٹا لیں۔
“جی، میں ٹھیک ہوں۔”

حمد نے مزید کچھ نہیں کہا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک خاموش سی سمجھداری تھی۔

دور اپنے کیبن میں سعد کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔

شیشے کی دیوار کے پار سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا—حمد کا جھک کر بات کرنا، مہر کا سننا، اس کے چہرے کی وہ ہلکی سی نرمی…

سعد کے اندر کچھ کھنچ سا گیا۔

یہ احساس نیا تھا… اور ناپسندیدہ بھی۔

اس نے نظریں ہٹا لیں، مگر چند لمحوں بعد دوبارہ وہی منظر دیکھنے لگا۔

“Focus, Saad…” اس نے خود کو سختی سے کہا۔

مگر آج اس کی توجہ بٹ رہی تھی۔

میٹنگ شروع ہوئی۔

کانفرنس روم میں سب لوگ موجود تھے۔ کلائنٹس، سینئر ٹیم، اور درمیان میں مہر، حمد اور سعد۔

پریزنٹیشن مہر نے شروع کی۔

اس کی آواز پراعتماد تھی، الفاظ واضح، اور انداز سنجیدہ۔

ہر سلائیڈ کے ساتھ اس کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔

کلائنٹس متاثر ہو رہے تھے۔

حمد بار بار سر ہلا کر اس کی باتوں کی تائید کر رہا تھا۔

مگر سعد… سعد خاموش تھا۔

اس کی نظریں مہر پر تھیں—مگر وہ اس کی بات نہیں سن رہا تھا۔

وہ کچھ اور محسوس کر رہا تھا۔

پریزنٹیشن ختم ہوئی۔

کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی رہی… پھر تالیاں بجیں۔

“Excellent work,” ایک کلائنٹ نے کہا۔

حمد نے مسکرا کر مہر کی طرف دیکھا۔
“I told you.”

مہر کے چہرے پر ہلکی سی خوشی آئی—وہ خوشی جو محنت کے بعد ملتی ہے۔

مگر اگلا لمحہ بدلنے والا تھا۔

“Not perfect.”

سعد کی آواز گونجی۔

سب چونک گئے۔

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔

“Slide 7 پر data incomplete تھا… اور conclusion weak تھا،” سعد نے سرد لہجے میں کہا۔

کمرے کا ماحول بدل گیا۔

کلائنٹس ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

مہر کے ہاتھ میں پکڑی فائل ہلکی سی کانپی… مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔

“Sir, data complete تھا—” اس نے وضاحت دینے کی کوشش کی۔

“میں نے کہا نہ… incomplete تھا,” سعد نے اس کی بات کاٹ دی۔

یہ صرف correction نہیں تھا… یہ public humiliation تھی۔

حمد نے فوراً مداخلت کی۔

“I think presentation was strong, Saad. Minor improvements—”

“میں نے تم سے رائے نہیں مانگی، حمد,” سعد نے سختی سے کہا۔

خاموشی۔

یہ لمحہ بھاری تھا۔

مہر نے گہرا سانس لیا۔

اس کی آنکھوں میں چوٹ تھی… مگر آنسو نہیں۔

“اگر کوئی specific mistake ہے تو آپ بتا دیں، میں ٹھیک کر دیتی ہوں,” اس نے مضبوط لہجے میں کہا۔

یہ وہ مہر تھی… جو ٹوٹتی نہیں تھی۔

سعد نے چند لمحے اسے دیکھا۔

اس کے اندر کہیں نہ کہیں اسے احساس تھا کہ وہ غلط کر رہا ہے… مگر انا نے اسے روک لیا۔

“Meeting over,” اس نے مختصر کہا۔

سب لوگ باہر نکلنے لگے۔

مہر بھی خاموشی سے اپنی فائلیں سمیٹنے لگی۔

حمد اس کے قریب آیا۔

“Hey… ignore it. You did really well,” اس نے نرمی سے کہا۔

مہر نے سر ہلایا۔
“میں ٹھیک ہوں۔”

مگر وہ ٹھیک نہیں تھی۔

سعد اپنے کیبن میں واپس آ چکا تھا۔

اس نے دروازہ زور سے بند کیا۔

“Damn it!” اس نے غصے سے کہا۔

وہ جانتا تھا کہ اس نے غلط کیا ہے۔

مگر کیوں؟

کیونکہ وہ برداشت نہیں کر سکا کہ کوئی اور مہر کو سراہ رہا تھا۔

یہ حسد تھا۔

خالص… اور خطرناک۔

چند لمحوں بعد دروازہ کھلا۔

مہر اندر آئی۔

سعد نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“Sir, آپ نے جو کہا… میں clarify کرنا چاہتی ہوں,” اس نے سیدھے انداز میں کہا۔

“ضرورت نہیں ہے,” سعد نے سرد لہجے میں کہا۔

“ہے,” مہر نے مضبوطی سے جواب دیا، “کیونکہ آپ نے سب کے سامنے میری محنت کو question کیا ہے۔”

یہ confrontation تھا۔

اصل ٹکراؤ۔

سعد کرسی سے اٹھا اور اس کے قریب آ گیا۔

“تم مجھے سکھاؤ گی کہ مجھے کیا کہنا چاہیے؟”

“نہیں,” مہر نے فوراً کہا، “میں بس یہ چاہتی ہوں کہ آپ انصاف کریں۔”

“یہاں انصاف نہیں… decisions ہوتے ہیں,” سعد نے سختی سے کہا۔

“تو پھر غلط decision تھا,” مہر نے بغیر ڈرے کہا۔

خاموشی۔

یہ جملہ سیدھا سعد کی انا پر لگا۔

“تمہیں لگتا ہے تم perfect ہو؟” سعد نے غصے سے کہا۔

“نہیں… مگر میں غلط بھی نہیں تھی,” مہر نے جواب دیا۔

چند لمحے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

پھر مہر نے آہستہ سے کہا،
“اگر آپ کو مجھ سے مسئلہ ہے… تو سیدھا کہہ دیں۔ میری محنت کو بہانہ نہ بنائیں۔”

یہ سچ تھا۔

اور سعد اس سچ سے بھاگ نہیں سکتا تھا۔

مہر مڑی اور باہر نکل گئی۔

دروازہ بند ہوا۔

سعد وہیں کھڑا رہ گیا۔

خاموش۔

اس کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ رہا تھا… اور کچھ جل رہا تھا۔

“یہ میں کیا کر رہا ہوں…” اس نے آہستہ سے کہا۔

مگر جواب… اس کے پاس نہیں تھا۔

ادھر مہر آفس کی چھت پر آ گئی۔

ہوا تیز چل رہی تھی۔

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

ایک آنسو نکلا… مگر اس نے فوراً اسے صاف کر دیا۔

“کمزور نہیں بننا…” اس نے خود سے کہا۔

مگر دل… دل آج زخمی تھا۔

دور کہیں، حمد اسے دیکھ رہا تھا۔

خاموشی سے۔

اور پہلی بار… اسے احساس ہوا کہ یہ کہانی آسان نہیں ہونے والی

شام اپنے ساتھ ایک عجیب سی خاموشی لے کر آئی تھی۔

مہر جب گھر پہنچی تو عام دنوں کی طرح دروازہ کھلتے ہی ماں کی آواز نہ سنائی دی۔ صحن میں وہی پودے تھے، وہی ہوا تھی… مگر مہر کے اندر کچھ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔

وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

بیگ ایک طرف رکھا اور کرسی پر بیٹھ گئی۔

چند لمحے وہ بس خالی نظروں سے دیوار کو دیکھتی رہی۔

پھر اچانک اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

آج کی میٹنگ… سعد کی آواز… وہ جملہ:

“Not perfect.”

یہ الفاظ صرف کانوں میں نہیں گونج رہے تھے… دل میں اتر گئے تھے۔

کچھ دیر بعد شبانہ کمرے میں آئیں۔

“مہر… کھانا کھالو بیٹا۔”

مہر نے فوراً خود کو سنبھالا۔
“بس امی، تھوڑا سا آرام کر لوں۔”

شبانہ نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
“سب ٹھیک ہے نا؟”

مہر نے ہلکی سی مسکراہٹ دینے کی کوشش کی۔
“جی، سب ٹھیک ہے۔”

مگر ماں کی آنکھیں جھوٹ نہیں مانتیں۔

شبانہ نے آہستہ سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور باہر چلی گئیں۔

مہر اکیلی رہ گئی۔

اور اکیلا پن ہمیشہ سب سے زیادہ آواز کرتا ہے۔

اس نے بیگ سے فائل نکالی۔ وہی جس پر اس نے راتوں کی محنت کی تھی۔

اس نے ایک صفحہ پلٹا۔

پھر دوسرا۔

اس کے ذہن میں سعد کا چہرہ آیا… سخت، سرد، فیصلہ کن۔

اور ساتھ ہی حمد کی آواز:

“You did really well.”

دو مختلف لہجے… دو مختلف احساسات۔

اور درمیان میں وہ خود۔

اسی وقت سعد اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھا تھا۔

روشنی مدھم تھی۔

اس کے ہاتھ میں وہی رپورٹ تھی جو مہر نے تیار کی تھی۔

وہ بار بار وہی سلائیڈ دیکھ رہا تھا جس پر اس نے اعتراض کیا تھا۔

پھر اس نے فائل بند کر دی۔

“میں نے غلط کیا…” اس نے آہستہ سے کہا۔

مگر فوراً ہی اس کا چہرہ سخت ہو گیا۔

“نہیں… میں نے صرف truth کہا تھا۔”

یہ وہ جنگ تھی جو وہ خود سے لڑ رہا تھا۔

دوسرے دن آفس کا ماحول کچھ مختلف تھا۔

مہر پہلے سے زیادہ خاموش تھی۔

وہ اپنی میز پر بیٹھی تھی مگر اس کی آنکھوں میں وہ پہلا سا اعتماد تھوڑا مدھم تھا۔

حمد آیا۔

“Good morning.”

“Morning,” مہر نے مختصر جواب دیا۔

حمد نے اس کے چہرے کو دیکھا۔

“کل والی بات ابھی تک دل پر ہے؟”

مہر نے فوراً سر ہلایا۔
“نہیں، بس تھکن ہے۔”

حمد نے کچھ لمحے اسے دیکھا، پھر نرمی سے کہا:
“تمہیں خود کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ تم اچھا کرتی ہو۔”

مہر نے اس بار اس کی طرف دیکھا۔

اس کے لہجے میں دکھاوا نہیں تھا۔

صرف سچائی تھی۔

دور سعد اپنے کیبن میں بیٹھا تھا۔

مگر اس بار وہ کام نہیں کر رہا تھا۔

وہ صرف سوچ رہا تھا۔

اور اس کے ذہن میں ایک ہی چیز چل رہی تھی—

مہر کی خاموشی۔

اس کی وہ آنکھیں جن میں غصہ بھی تھا اور عزت بھی۔

اس نے اچانک فون اٹھایا۔

“Send her file back to me,” اس نے اسسٹنٹ کو کہا۔

کچھ دیر بعد مہر کو میسج آیا:

“Come to my office.”

وہ رک گئی۔

اس نے اسکرین کو دیکھا۔

پھر گہرا سانس لیا اور کھڑی ہو گئی۔

سعد کے کیبن کا دروازہ کھلا۔

مہر اندر آئی۔

اس بار اس کے انداز میں پہلے جیسا confidence کم تھا… مگر وقار اب بھی موجود تھا۔

“آپ نے بلایا؟”

سعد نے فائل اس کی طرف بڑھائی۔

“یہ دیکھو۔”

مہر نے فائل لی۔

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر سعد نے کہا:
“میں نے دوبارہ review کیا ہے۔”

مہر نے نظریں اٹھائیں۔

یہ پہلی بار تھا جب سعد کی آواز میں سختی نہیں تھی۔

“Slide 7… it’s not wrong,” اس نے آہستہ کہا۔

یہ جملہ مہر کے لیے غیر متوقع تھا۔

وہ کچھ نہیں بولی۔

خاموشی۔

یہ وہ خاموشی تھی جس میں پہلی بار طاقت نہیں، احساس تھا۔

سعد نے آگے کہا:
“میں نے… شاید overreact کیا تھا۔”

یہ لفظ “شاید” اس کے لیے بہت بڑا تھا۔

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔

مگر اس کے چہرے پر کوئی فوری نرمی نہیں آئی۔

“ٹھیک ہے، سر,” اس نے سادہ جواب دیا۔

سعد نے محسوس کیا… یہ معافی کافی نہیں تھی۔

“میں جانتا ہوں تم ناراض ہو،” اس نے کہا۔

مہر نے فائل بند کی۔
“میں ناراض نہیں ہوں۔”

“پھر کیا ہو؟”

مہر نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔

پھر آہستہ سے کہا:
“میں بس سمجھ گئی ہوں کہ یہاں ہر چیز merit پر نہیں چلتی۔”

یہ جملہ سیدھا دل پر لگا۔

سعد کچھ نہ کہہ سکا۔

مہر مڑ گئی۔

مگر دروازے پر رک کر بولی:
“اور سر… میں کمزور نہیں ہوں۔ صرف خاموش ہوں۔”

اور وہ باہر چلی گئی۔

سعد وہیں کھڑا رہ گیا۔

اس کے ہاتھ میں فائل تھی… مگر ذہن میں وہ جملہ گونج رہا تھا:

“میں بس سمجھ گئی ہوں…”

آفس کے باہر مہر لفٹ میں کھڑی تھی۔

اس نے آنکھیں بند کیں۔

اس بار آنسو نہیں تھے۔

صرف ایک فیصلہ تھا۔

“اب خود کو ثابت کرنا ہے… کسی کے سامنے نہیں… اپنے لیے۔”

دوسری طرف، حمد دور سے اسے دیکھ رہا تھا۔

اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ یہ لڑکی صرف محبت کا حصہ نہیں…
یہ ایک جنگ کا حصہ ہے۔

مہر کے لیے آفس اب صرف کام کی جگہ نہیں رہا تھا، یہ ایک ایسی دنیا بن چکا تھا جہاں ہر دن اس کے صبر، اس کی عزت اور اس کے دل کا امتحان لیا جا رہا تھا۔ سعد کے ساتھ اس کا رشتہ اب بھی واضح نہیں تھا—کبھی فاصلے، کبھی خاموشی، اور کبھی وہ لمحے جن میں کچھ کہے بغیر بہت کچھ محسوس ہو جاتا تھا۔ مگر مہر نے خود کو ایک اصول پر قائم رکھا تھا… وہ کسی کے لیے اپنی خودداری کم نہیں کرے گی، چاہے دل کتنا ہی کیوں نہ ہل جائے۔

حمد کی آمد نے اس کہانی میں ایک نیا رنگ بھر دیا تھا۔ شروع میں وہ صرف ایک نرم لہجے والا شخص لگا تھا، جو بات بات پر مہر کی تعریف کرتا تھا، اس کی محنت کو سراہتا تھا۔ مہر کے لیے یہ سب نیا تھا، کیونکہ سعد کی دنیا میں تعریف کم اور تنقید زیادہ تھی۔ حمد کے الفاظ اس کے دل کے اس حصے کو چھونے لگے تھے جہاں انسان صرف سمجھا جانا چاہتا ہے۔ وہ اس کی باتوں کو سن کر تھوڑا سا سکون محسوس کرتی تھی، جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہو، واقعی دیکھ رہا ہو۔

وقت کے ساتھ حمد کی موجودگی بڑھنے لگی۔ وہ ہر چھوٹی بڑی بات میں شامل ہونے لگا، کبھی چائے کے وقفے پر، کبھی آفس کے بعد، کبھی میسجز میں۔ مہر کو شروع میں یہ سب اچھا لگتا تھا کیونکہ وہ خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتی تھی۔ مگر آہستہ آہستہ ایک عجیب سا احساس بھی پیدا ہونے لگا—جیسے کوئی اس کی آزادی کے قریب آ رہا ہو۔ وہ جب بھی کسی colleague سے ہنستی بولتی، حمد کی آنکھوں میں ایک سایہ اتر آتا، جسے وہ پہلے محبت سمجھتی تھی۔

ایک دن آفس میں ایک سادہ سی بات ہوئی۔ مہر ایک male colleague کے ساتھ پروجیکٹ پر بات کر رہی تھی۔ بات کام کی تھی، عام سی۔ مگر حمد کا لہجہ بدل گیا۔ اس نے سب کے سامنے سخت آواز میں کہا، “تمہیں ہر کسی سے اتنا قریب ہونے کی کیا ضرورت ہے؟” پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔ مہر کو اس لمحے پہلی بار لگا کہ یہ وہ محبت نہیں جس کا وہ سوچ رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے جواب دیا، “یہ میرا کام ہے، حمد۔ مجھے مت روکو۔”

یہ پہلا ٹکراؤ تھا، مگر آخری نہیں۔ اس کے بعد حمد کی باتوں میں نرمی کم اور سختی زیادہ ہونے لگی۔ کبھی وہ اسے سمجھاتا کہ یہ نہ پہنو، وہاں نہ جاؤ، اس سے بات نہ کرو۔ مہر پہلے برداشت کرتی رہی، کیونکہ اس کے دل میں ابھی بھی کہیں نہ کہیں یہ خیال تھا کہ شاید یہ فکر ہے، محبت ہے۔ مگر دل آہستہ آہستہ تھکنے لگا تھا۔

اسی دوران سعد کے رویے میں بھی تبدیلی آ رہی تھی۔ وہ پہلے جیسا سرد نہیں رہا تھا، مگر کھلا بھی نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ مہر کو دیکھتا تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خاموشی ہوتی، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر کہہ نہ پا رہا ہو۔ ایک دن جب حمد نے آفس میں دوبارہ مہر پر آواز بلند کی، سعد نے پہلی بار مداخلت کی۔ اس نے صرف اتنا کہا، “یہ آفس ہے، کوئی ذاتی جگہ نہیں۔” مگر اس ایک جملے نے مہر کے دل میں ایک عجیب سی گرمی پیدا کر دی۔

مہر اب الجھن میں تھی۔ ایک طرف حمد تھا جو دعویٰ کرتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے مگر اس کی محبت میں قید تھی، اور دوسری طرف سعد تھا جو کم بولتا تھا مگر اس کی خاموشی میں ایک عجیب سا احترام تھا۔ وہ اکثر رات کو خود سے سوال کرتی، “میں کیا چاہتی ہوں؟ محبت یا سکون؟”

اسی دوران اس کی زندگی کا ایک اور پہلو مضبوط ہو رہا تھا—اس کا خدا پر یقین۔ جب سب کچھ الجھ جاتا، جب دل تھک جاتا، وہ صرف خاموشی سے بیٹھ کر دعا کرتی۔ “یا اللہ، مجھے صحیح راستہ دکھا دے۔ مجھے وہ دل دے جو صحیح فیصلہ کر سکے، نہ کہ صرف جذبات میں بہہ جائے۔” یہ دعا اس کے اندر ایک عجیب سا سکون بھر دیتی، جیسے کوئی اسے سن رہا ہو، واقعی سن رہا ہو۔

ایک دن حمد کا رویہ حد سے بڑھ گیا۔ اس نے ایک چھوٹے سے مسئلے پر مہر پر سختی کی، اور باتوں باتوں میں اس کی آواز بلند ہو گئی۔ “تمہیں سمجھ نہیں آتی تم غلط کر رہی ہو!” مہر نے پہلی بار اس کے سامنے خاموشی نہیں اختیار کی۔ اس نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “میں غلط نہیں ہوں، حمد۔ تم صرف مجھے اپنے مطابق ڈھالنا چاہتے ہو۔”

یہ جملہ اس کے دل سے نکلا تھا، اور اسی لمحے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر وہ رکی نہیں۔ حمد نے غصے میں ہاتھ اٹھا دیا۔ ایک لمحے کے لیے سب کچھ رک گیا۔ خاموشی، ہوا، وقت… سب۔ مہر کے چہرے پر درد تھا، مگر زیادہ حیرت نہیں۔ وہ آہستہ سے پیچھے ہٹی، دوپٹہ ٹھیک کیا، اور بہت ہلکی آواز میں بولی، “اگر محبت میں ہاتھ اٹھ جائے تو وہ محبت نہیں رہتی۔”

اس دن وہ گھر آئی تو ٹوٹی نہیں تھی، بس بدل گئی تھی۔ اس نے نماز پڑھی، دیر تک سجدے میں رہی، اور آنسوؤں کے درمیان صرف اتنا کہا، “یا اللہ، میں نے بہت کوشش کی، اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے۔”

کچھ دنوں بعد اس نے حمد سے مکمل فاصلے کا فیصلہ کر لیا۔ کوئی شور نہیں، کوئی ڈرامہ نہیں، بس خاموشی سے خود کو پیچھے کھینچ لیا۔ حمد نے بہت کوشش کی، معافی مانگی، وعدے کیے، آنسو بہائے، مگر مہر کا دل اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔

اسی خاموشی میں سعد کے ساتھ اس کا تعلق ایک نئے موڑ پر آ گیا۔ ایک دن جب وہ آفس کی چھت پر اکیلی کھڑی تھی، سعد اس کے پاس آیا۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر سعد نے پہلی بار نرم آواز میں کہا، “تم تھک گئی ہو؟” مہر نے اس کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ دی، “نہیں… میں بس سمجھدار ہو گئی ہوں۔” یہ جملہ دونوں کے درمیان ایک نیا دروازہ کھول گیا تھا، مگر ابھی کوئی بھی اسے مکمل طور پر کھولنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

مہر اس وقت صرف ایک چیز جان چکی تھی… کہ محبت وہ نہیں جو قید کرے، محبت وہ ہے جو عزت دے۔ اور اگر محبت میں عزت نہ ہو تو انسان کو اللہ کے سہارے خود کو دوبارہ کھڑا کرنا پڑتا ہے۔

 

مہر اب پہلے جیسی بےخبر نہیں رہی تھی۔ زندگی نے اسے جلدی بڑا کر دیا تھا۔ ہر تجربہ اس کے اندر ایک نئی تہہ چھوڑ جاتا تھا—کبھی درد کی، کبھی سمجھ کی، اور کبھی خاموشی کی۔

وہ اب لوگوں کو صرف الفاظ سے نہیں پرکھتی تھی۔ وہ انداز، خاموشیاں، اور نگاہوں کے پیچھے چھپے ارادے بھی پڑھنے لگی تھی۔ مگر اس سب کے باوجود ایک چیز اب بھی اس کے اندر غیر مستحکم تھی—دل۔

آفس میں آج غیر معمولی ہلچل تھی۔ ایک بڑا کلائنٹ آنے والا تھا اور پورے ڈیپارٹمنٹ پر دباؤ تھا۔ مہر اپنی فائل کے ساتھ بیٹھی آخری بار ریویو کر رہی تھی جب سعد اندر آیا۔

اس کا انداز پہلے سے مختلف تھا۔ نہ پہلے جیسی سختی تھی، نہ مکمل نرمی۔ بس ایک سنجیدہ سا سکون۔

اس نے ایک نظر پورے روم پر ڈالی اور پھر سیدھا مہر کی طرف دیکھ کر کہا،
“تم میرے ساتھ میٹنگ میں آؤ گی۔”

مہر نے سر ہلایا۔ “جی سر۔”

بس اتنا۔

مگر دونوں کے درمیان وہ پرانی کشیدگی اب بھی کہیں نہ کہیں موجود تھی… خاموش مگر زندہ۔

میٹنگ روم میں بڑے بزنس لوگ بیٹھے تھے۔ ماحول رسمی تھا، ہر بات ناپ تول کر کہی جا رہی تھی۔

مہر نے اپنی presentation شروع کی۔ اس کی آواز پراعتماد تھی، مگر اب اس اعتماد میں تجربہ بھی شامل تھا۔ وہ اب صرف بول نہیں رہی تھی، وہ ثابت کر رہی تھی۔

کمرے میں سب سن رہے تھے۔

سعد ایک کونے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی واضح ردعمل نہیں تھا، مگر اس کی آنکھیں بار بار مہر پر ٹھہر جاتی تھیں۔

یہ وہ لڑکی نہیں تھی جو پہلی دن ٹکرا کر جواب دے گئی تھی… یہ وہ لڑکی تھی جو اب خاموشی میں بھی مضبوط تھی۔

میٹنگ کے بعد ایک کلائنٹ نے غیر ضروری انداز میں مہر سے بات کرنے کی کوشش کی۔

“آپ جیسے لوگ عام طور پر اتنی confidence کے ساتھ نہیں بولتے…”

اس سے پہلے وہ جملہ مکمل کرتا، سعد آگے آ گیا۔

“ہم یہاں business کے لیے ہیں، personal opinions کے لیے نہیں۔”

اس کی آواز سخت نہیں تھی… مگر فیصلہ کن تھی۔

وہ شخص خاموش ہو گیا۔

مہر نے سعد کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے سوال آیا… پھر غائب ہو گیا۔

شام کو آفس تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

مہر اپنی میز پر بیٹھی تھی جب حمد اچانک سامنے آ کھڑا ہوا۔

وہ پہلے جیسا نہیں لگ رہا تھا۔ تھکا ہوا، بےچین، اور کسی حد تک ٹوٹا ہوا۔

“مہر…” اس نے آہستہ کہا۔

مہر نے اسے دیکھا مگر فوراً نظریں نہیں ہٹائیں۔

“میں بس ایک بار بات کرنا چاہتا ہوں…”

“کہہ چکے ہو سب کچھ، حمد،” اس نے سادہ لہجے میں جواب دیا۔

حمد نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
“میں بدل گیا ہوں… میں نے سمجھا ہے…”

مہر خاموش رہی۔

“میں تمہیں lose نہیں کرنا چاہتا…” اس کی آواز میں پہلی بار سچائی اور کمزوری دونوں تھیں۔

مگر مہر کے چہرے پر اب جذبات کی جگہ clarity تھی۔

“تم نے مجھے کھویا نہیں ہے، حمد… تم نے مجھے سکھایا ہے۔”

یہ جملہ اس کے دل سے نکلا تھا، بغیر غصے کے۔

حمد خاموش ہو گیا۔

اسی لمحے سعد وہاں آ گیا۔

اس نے دونوں کو دیکھا۔ کچھ نہیں بولا۔

مگر اس کی آنکھوں میں ایک غیر واضح سا اضطراب تھا۔

حمد وہاں سے چلا گیا۔

خاموشی رہ گئی۔

سعد نے آہستہ سے کہا،
“تم ٹھیک ہو؟”

مہر نے سر ہلایا۔
“جی۔”

مگر اس بار وہ “جی” پہلے جیسا نہیں تھا۔

سعد چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
“تم ہر بار خود کو strong ظاہر کرتی ہو… مگر ہر strong انسان ہمیشہ strong نہیں رہتا۔”

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔

اس بار اس کی آنکھوں میں تھکن تھی… مگر شکست نہیں۔

“میں نے کمزور ہونا بھی سیکھ لیا ہے، سر… بس ہر کسی کے سامنے نہیں۔”

یہ جملہ دونوں کے درمیان ایک نئی حقیقت رکھ گیا۔

رات ہو چکی تھی۔

مہر چھت پر کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ ہوا ہلکی ٹھنڈی تھی۔

اس نے آنکھیں بند کیں۔

دل میں ایک ہی سوال تھا:

“کیا میں صحیح راستے پر ہوں؟”

اس نے ہاتھ اٹھا کر آہستہ سے دعا کی۔

“یا اللہ… مجھے وہ دے جو میرے لیے بہتر ہو… چاہے وہ میری خواہش نہ ہو۔”

اس کی آواز ٹوٹ نہیں رہی تھی… وہ یقین کے ساتھ تھی۔

دوسری طرف سعد اپنی گاڑی میں بیٹھا دیر تک خاموش رہا۔

اس کے ذہن میں صرف ایک ہی چہرہ تھا۔

مہر۔

اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ یہ صرف attraction نہیں… یہ کچھ ایسا ہے جو اس کے اختیار سے باہر جا رہا ہے۔

رات گہری ہو چکی تھی مگر مہر کی آنکھوں سے نیند جیسے روٹھ گئی تھی۔ وہ چھت پر کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی، جہاں چند بکھرے ہوئے ستارے خاموشی سے ٹمٹما رہے تھے۔ اس کی زندگی بھی ان ہی ستاروں جیسی ہو چکی تھی—بکھری ہوئی، مگر ابھی ختم نہیں ہوئی۔

اس نے گہرا سانس لیا۔ اندر کہیں ایک سکون تھا، مگر وہ سکون مکمل نہیں تھا۔ اس میں سوالات چھپے ہوئے تھے۔

“کیا میں واقعی صحیح ہوں؟ یا بس خود کو سمجھا رہی ہوں؟”

ہوا ہلکی تھی مگر اس کے دل میں طوفان چل رہا تھا۔

آفس میں اگلا دن مختلف تھا۔ غیر معمولی طور پر خاموش۔ جیسے ہر کوئی کسی آنے والے طوفان کا انتظار کر رہا ہو۔

مہر اپنی میز پر بیٹھی تھی جب سعد اندر آیا۔ اس کا انداز آج پہلے سے زیادہ سنجیدہ تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی ادھر ادھر نہیں دیکھا، سیدھا مہر کی طرف آیا۔

“میری کیبن میں آؤ۔ ابھی۔”

اس کی آواز میں حکم تھا، مگر اس بار سختی کے ساتھ ایک اضطراب بھی تھا۔

مہر نے سر ہلایا اور اس کے پیچھے چل دی۔

کیبن کا دروازہ بند ہوا۔

خاموشی۔

یہ وہ خاموشی تھی جو الفاظ سے زیادہ بھاری ہوتی ہے۔

سعد نے چند لمحے کچھ نہیں کہا۔ بس کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا، جیسے خود کو ترتیب دے رہا ہو۔

پھر اچانک بولا،
“میں نے کافی سوچ لیا ہے۔”

مہر نے اسے دیکھا مگر کچھ نہیں کہا۔

سعد مڑا۔

اس کی آنکھوں میں پہلی بار وہ واضح چیز تھی جسے وہ چھپا رہا تھا۔

“مجھے تم سے مسئلہ نہیں ہے، مہر… مجھے خود سے ہے۔”

یہ جملہ مہر کے لیے غیر متوقع تھا۔

سعد نے آگے کہا،
“میں نہیں جانتا یہ کیا ہے… مگر جب تم کسی اور کے ساتھ ہوتی ہو، مجھے اچھا نہیں لگتا۔ جب تم خاموش ہوتی ہو تو میں restless ہو جاتا ہوں۔”

وہ رکا۔

“اور یہ میرے کنٹرول میں نہیں ہے۔”

مہر نے ایک لمحے کے لیے نظریں نیچی کر لیں۔

یہ وہی لمحہ تھا جس کا اسے ڈر تھا… اور انتظار بھی۔

مگر اس کے دل میں اب جذبات سے زیادہ احتیاط تھی۔

“آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں، سر؟”

سعد نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“میں تمہیں lose نہیں کرنا چاہتا۔”

خاموشی۔

یہ جملہ ہوا میں ٹھہر گیا۔

مہر نے آہستہ سے کہا،
“اور اگر میں کہوں کہ میں کسی قید میں نہیں رہ سکتی؟”

سعد کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی بے بسی آئی۔

“میں تمہیں قید نہیں کر رہا…”

مہر نے فوراً جواب دیا،
“الفاظ سے نہیں… رویے سے ہوتا ہے، سر۔”

یہ جملہ سیدھا دل پر لگا۔

سعد نے ایک قدم آگے بڑھایا۔

“میں بدل سکتا ہوں…”

مہر نے اسے غور سے دیکھا۔

“لوگ صرف تب بدلتے ہیں جب وہ خود کو مان لیں کہ وہ غلط تھے۔” اس کی آواز نرم تھی مگر مضبوط۔

اسی لمحے دروازہ زور سے کھلا۔

حمد اندر داخل ہوا۔

اس کا چہرہ غصے سے بھرا ہوا تھا۔

“تو یہ چل رہا ہے یہاں؟”

خاموشی ٹوٹ گئی۔

مہر نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔

سعد کا چہرہ سخت ہو گیا۔

“تم اندر کیسے آئے؟”

حمد نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔

“میں نہیں جانتا تھا کہ میری جگہ کوئی اور لے چکا ہے۔”

مہر نے سخت آواز میں کہا،
“یہ تمہاری جگہ کبھی نہیں تھی، حمد۔”

یہ جملہ حمد کے لیے چوٹ تھا۔

حمد کا لہجہ بدل گیا۔
“تم اس کی بات سن رہی ہو؟ یہ تمہیں کنٹرول کر رہا ہے، مہر!”

سعد آگے آیا۔

“باہر نکلو۔ ابھی۔”

مگر حمد نہیں ہلا۔

“میں نے تمہیں کہا تھا نا… تم میرے بغیر نہیں رہ سکتیں۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب ماحول ٹوٹنے لگا۔

مہر نے اچانک سخت آواز میں کہا،
“بس کرو!”

تینوں خاموش ہو گئے۔

اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے… صرف فیصلہ تھا۔

“تم دونوں میں سے کوئی بھی مجھے نہیں سمجھتا۔”

اس نے سعد کی طرف دیکھا۔

“تم بھی نہیں… اور تم بھی نہیں۔”

وہ ایک لمحے کے لیے رکی۔

پھر آہستہ سے کہا،
“میں کسی کی ملکیت نہیں ہوں۔”

یہ جملہ فضا میں گونج گیا۔

وہ مڑی اور دروازے کی طرف چل دی۔

سعد نے پکارا،
“مہر…”

مگر وہ نہیں رکی۔

حمد نے پیچھے سے کہا،
“تم واپس آؤ گی…”

مگر اس بار بھی جواب خاموشی تھا۔

مہر باہر آ گ۔

اس کی سانسیں تیز تھیں مگر قدم مضبوط۔

وہ پہلی بار کسی سے نہیں… خود سے بھاگی تھی۔

رات کو وہ اکیلی بیٹھی تھی۔

قرآن سامنے رکھا تھا۔

اس نے آنکھیں بند کیں۔

“یا اللہ… مجھے راستہ دکھا دے۔ میں تھک گئی ہوں لوگوں کے درمیان اپنی پہچان ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔”

اس کے آنسو آہستہ سے گرے۔

مگر وہ ٹوٹی نہیں تھی۔

دوسری طرف سعد اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔

حمد باہر کھڑا غصے میں تھا۔

مگر دونوں کے بیچ ایک چیز مشترک تھی—

مہر اب کسی کی پہنچ میں آسانی سے نہیں رہی تھی۔

اور یہ بات… سب سے زیادہ خطرناک تھی۔

رات بہت دیر تک جاگتی رہی تھی، مگر اب مہر کے چہرے پر وہ پرانی بےچینی نہیں تھی۔ کچھ ٹوٹا ضرور تھا… مگر کچھ بن بھی گیا تھا۔ جیسے اندر کسی نے خاموشی سے اس کے اندر کی دھول صاف کر دی ہو۔

وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر دیکھ رہی تھی۔ شہر کی روشنیاں اب بھی جل رہی تھیں، مگر اس کے دل میں اب ایک اور روشنی تھی—سمجھ کی روشنی۔

“میں کسی کی کہانی کا حصہ بن کر اپنی کہانی ختم نہیں کر سکتی…” اس نے آہستہ سے کہا۔

یہ جملہ اس کے دل سے نکلا تھا، اور پہلی بار اس نے خود پر یقین کیا تھا۔

اگلے دن آفس کا ماحول بھاری تھا۔ جیسے کل کی باتیں ابھی تک دیواروں میں گونج رہی ہوں۔

سعد جلدی آ گیا تھا۔ اس نے کئی بار اپنے کیبن کے دروازے کی طرف دیکھا، جیسے وہ کسی کا انتظار کر رہا ہو… مگر وہ خود نہیں مان رہا تھا کہ وہ انتظار کر رہا ہے۔

حمد بھی موجود تھا۔ مگر اس بار اس کے چہرے پر وہ پہلے والی بے یقینی نہیں تھی، اب اس میں ضد تھی… اور ملکیت کا احساس۔

مہر جب آفس میں داخل ہوئی تو سب کچھ معمول کے برعکس محسوس ہوا۔ اس نے کسی کو نہیں دیکھا، سیدھا اپنی میز کی طرف چلی گئی۔

مگر چند لمحوں بعد اسے بلایا گیا۔

“Board meeting ابھی ہے۔ دونوں… آپ بھی اور سعد سر بھی۔”

اس نے سر ہلایا۔

میٹنگ روم میں فضا پہلے سے زیادہ tense تھی۔

سعد ایک طرف بیٹھا تھا۔ حمد دوسری طرف۔ اور درمیان میں مہر۔

یہ پہلی بار تھا جب وہ تینوں ایک ساتھ اس طرح بیٹھے تھے۔

خاموشی گہری تھی۔

سعد نے بات شروع کی۔

“ہمیں project کی direction finalize کرنی ہے۔”

مگر اس کی آنکھیں بار بار مہر پر جا رہی تھیں، پروجیکٹ پر نہیں۔

حمد نے فوراً کہا،
“ہمیں risk لینا چاہیے، aggressive approach بہتر ہے۔”

سعد نے سرد نظر سے دیکھا۔
“یہ business ہے، کھیل نہیں۔”

حمد نے طنزیہ مسکراہٹ دی۔
“اور جذبات کا کیا؟”

یہ جملہ سیدھا مہر کی طرف تھا۔

مہر نے گہرا سانس لیا۔

“یہ دونوں میں سے کوئی بھی راستہ مکمل درست یا غلط نہیں ہے۔”

سب کی نظریں اس پر آ گئیں۔

“لیکن فیصلہ جذبات سے نہیں… حقیقت سے ہونا چاہیے۔”

اس کی آواز مضبوط تھی۔

سعد نے اسے دیکھا۔

یہ وہی مہر تھی… جو اب کسی کے اثر میں نہیں آ رہی تھی۔

میٹنگ ختم ہوئی مگر مسئلہ ختم نہیں ہوا تھا۔

باہر آتے ہی حمد نے مہر کا راستہ روک لیا۔

“تم نے اسے defend کیا؟”

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔

“میں کسی کو defend نہیں کر رہی… میں صرف سچ بول رہی ہوں۔”

حمد کا لہجہ سخت ہو گیا۔
“تم بدل گئی ہو…”

مہر نے فوراً جواب دیا۔
“نہیں… میں بس خود بن گئی ہوں۔”

حمد نے ایک قدم آگے بڑھایا۔

“تم میری ہو…”

یہ جملہ جیسے ہوا میں جم گیا۔

اسی لمحے سعد وہاں آ گیا۔

اس نے یہ الفاظ سن لیے تھے۔

اس کی آنکھیں سخت ہو گئیں۔

“باہر نکلو۔ ابھی۔”

اس کی آواز اس بار سرد نہیں تھی… خطرناک تھی۔

حمد نے غصے سے سعد کو دیکھا۔
“تمہیں لگتا ہے تم جیت گئے ہو؟”

سعد نے ایک قدم آگے بڑھایا۔

“یہ کوئی جیت ہار نہیں ہے۔”

پھر اس نے آہستہ مگر واضح آواز میں کہا،
“یہ عزت کا معاملہ ہے۔”

مہر نے دونوں کے بیچ قدم رکھ دیا۔

“بس۔”

خاموشی۔

“میں کوئی انعام نہیں ہوں جس پر تم دونوں لڑ رہے ہو۔”

اس کی آنکھیں بھر آئیں مگر وہ روئی نہیں۔

وہ سعد کی طرف مڑی۔

“آپ ہمیشہ کنٹرول کرنا چاہتے ہیں…”

پھر حمد کی طرف دیکھا۔

“اور تم ہمیشہ قبضہ کرنا چاہتے ہو…”

اس نے ایک لمحہ لیا۔

“میں دونوں سے آزاد ہوں۔”

یہ جملہ فیصلہ تھا۔

مہر نے اپنا بیگ اٹھایا۔

“میں resign کر رہی ہوں۔”

سب خاموش ہو گئے۔

سعد نے فوراً کہا۔
“یہ جذباتی فیصلہ ہے…”

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔

“نہیں… یہ پہلا عقل کا فیصلہ ہے جو میں نے اپنی زندگی میں کیا ہے۔”

وہ مڑی اور دروازے کی طرف چل دی۔

نہ سعد نے روکا… نہ حمد نے۔

کیونکہ دونوں جانتے تھے… وہ اب واپس نہیں آ رہی۔

باہر آ کر مہر نے آسمان کی طرف دیکھا۔

ہلکی ہوا چل رہی تھی۔

اس نے آنکھیں بند کیں۔

“یا اللہ… میں نے سب چھوڑ دیا ہے… اب مجھے وہ دے جو میرے لیے بہتر ہو۔”

اس کے چہرے پر پہلی بار سکون تھا۔

دوسری طرف سعد کھڑا اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔

اس کے اندر پہلی بار ایک حقیقت ٹوٹی تھی—

کہ وہ ہمیشہ کنٹرول نہیں کر سکتا۔

اور حمد… وہ غصے میں تھا۔

کیونکہ پہلی بار اسے لگا تھا کہ وہ کسی کو “ہارا” نہیں سکا۔

مہر نے جب آفس چھوڑا تو ایسا نہیں تھا کہ وہ ہاری ہوئی تھی… وہ صرف وہ جگہ چھوڑ آئی تھی جہاں اس کا دل ہر روز تھوڑا تھوڑا زخمی ہوتا تھا۔ اس کے قدم بھاری ضرور تھے، مگر بےیقینی نہیں تھی۔

وہ سڑک پر چلتی رہی۔ شہر وہی تھا، لوگ وہی تھے، مگر اب اس کی نظر بدل چکی تھی۔ ہر چہرہ اسے ایک سبق لگ رہا تھا، ہر آواز ایک آزمائش۔

“یا اللہ… اگر میں نے غلط کیا ہے تو مجھے صحیح راستہ دکھا دے… اور اگر میں نے ٹھیک کیا ہے تو مجھے ثابت قدم رکھ۔”

اس کی آواز ہلکی تھی، مگر یقین بھرا ہوا تھا۔

ادھر آفس میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

سعد اپنی کرسی پر بیٹھا تھا، مگر اس کا ذہن کہیں اور تھا۔ فائلیں کھلی تھیں، مگر اس کی توجہ کہیں نہیں تھی۔

حمد غصے میں آ کر جا چکا تھا، مگر اس کے الفاظ کمرے میں ابھی بھی موجود تھے۔

“میں میری تھی…”

یہ جملہ نہیں تھا، یہ زہر تھا۔

سعد نے اچانک فائل بند کی۔

اس نے پہلی بار خود سے سوال کیا۔

“میں نے کیا کھو دیا ہے؟”

مگر جواب آسان نہیں تھا۔

کیونکہ وہ چیز جسے وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ کنٹرول کر رہا ہے… وہ کبھی اس کی تھی ہی نہیں۔

گھر واپس جا کر مہر خاموش بیٹھی رہی۔

ماں نے پوچھا،
“سب ٹھیک ہے؟”

مہر نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
“اب ہاں، امی۔”

یہ “اب” بہت کچھ کہہ رہا تھا۔

چند دن گزر گئے۔

مہر نے نئی نوکری ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے خود کو وقت دیا۔ وہ زیادہ دعا کرنے لگی تھی، زیادہ سوچنے لگی تھی، اور پہلی بار کم بولنے لگی تھی مگر زیادہ سمجھنے لگی تھی۔

یہ خاموشی کمزوری نہیں تھی… یہ recovery تھی۔

ایک شام دروازے پر دستک ہوئی۔

مہر نے دروازہ کھولا۔

سعد۔

وہ پہلی بار اس کے گھر آیا تھا۔

مہر نے اسے دیکھ کر کوئی فوری ردعمل نہیں دیا۔

“آپ یہاں؟”

سعد نے چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں وہ پرانا غرور نہیں تھا۔

“میں تم سے بات کرنے آیا ہوں… بطور boss نہیں، بطور انسان۔”

مہر نے دروازہ مکمل نہیں بند کیا… مگر کھولا بھی نہیں۔

“کہیے۔”

سعد نے ایک گہرا سانس لیا۔

“میں نے بہت کچھ غلط کیا ہے۔”

خاموشی۔

“میں نے تمہیں سمجھنے کے بجائے control کرنے کی کوشش کی…”

اس کی آواز تھوڑی ٹوٹی ہوئی تھی۔

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔

مگر اس بار اس کے چہرے پر وہ پرانی نرمی نہیں تھی۔

“اور اب؟”

سعد رکا۔

“اب… میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔”

یہ پہلی بار تھا جب اس نے لفظ “loss” محسوس کیا تھا۔

مہر نے آہستہ سے کہا،
“کبھی کبھی ہم کسی کو کھوتے نہیں… ہم صرف اس کی حقیقت دیکھ لیتے ہیں۔”

سعد خاموش رہا۔

اس نے پہلی بار اس حقیقت کو مان لیا تھا۔

اسی دوران حمد نے دور سے یہ سب دیکھا۔

اس کے چہرے پر غصہ تھا، مگر اس غصے میں شکست بھی تھی۔

کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا…
مہر اب کسی کی ملکیت نہیں بن سکتی۔

سعد نے آہستہ سے کہا،
“کیا میں کبھی بھی… تمہاری زندگی میں جگہ نہیں رکھتا؟”

مہر نے اس کی طرف دیکھا۔

اس بار اس کی آواز نرم تھی، مگر فیصلہ کن۔

“جگہ… عزت سے بنتی ہے، سر۔ کنٹرول سے نہیں۔”

یہ جملہ ختم تھا… اور آغاز بھی۔

سعد وہاں سے چلا گی۔

مگر اس بار وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔

وہ ٹوٹا نہیں تھا… مگر بدل گیا تھا۔

رات کو مہر کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔

ہوا ہلکی تھی۔

اس نے آنکھیں بند کیں۔

“میں نے سب کھو کر خود کو پایا ہے…”

یہ جملہ اس کے دل کا سکون تھا۔

اور کہیں دور سعد بھی وہی رات دیکھ رہا تھا۔

مگر اس کی رات اب پہلے جیسی نہیں تھی۔

وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ کچھ وقت انسان کو توڑتا ہے، کچھ وقت اسے دوبارہ جوڑتا ہے۔ مہر کے لیے پچھلا ایک سال اسی “جوڑنے” کا سال تھا۔

نوکری چھوڑنے کے بعد اس نے خود کو گھر کے ایک سادہ مگر پُرسکون دائرے میں سمیٹ لیا تھا۔ وہ صبح جلدی اٹھتی، گھر کے کام کرتی، ماں باپ کا خیال رکھتی، اور باقی وقت آن لائن کام میں گزار دیتی۔ پہلے کی طرح شور نہیں تھا، مگر اب ایک ترتیب تھی… ایک خاموش نظم۔

وہ آئینے میں خود کو دیکھتی تو پہلی بار اسے اپنا چہرہ “اپنا” لگتا تھا۔ کسی کی نظروں سے آزاد، کسی کی توقع سے آزاد۔

“میں ٹھیک ہوں…” وہ اکثر دل ہی دل میں کہتی، اور واقعی اب وہ پہلے سے بہتر تھی۔

اس نے آہستہ آہستہ خود سے محبت کرنا سیکھ لیا تھا۔ وہ اپنی خاموشیوں کو سمجھنے لگی تھی، اپنی تھکن کو قبول کرنے لگی تھی، اور سب سے بڑھ کر… وہ یہ مان چکی تھی کہ سکون باہر نہیں، اندر ہوتا ہے۔

رات کو وہ اکثر دعا کرتی۔

“یا اللہ… مجھے وہ دے جو میرے حق میں بہتر ہو، چاہے میری خواہش کے خلاف ہو۔”

اور اس دعا میں ایک عجیب سا سکون تھا۔

گھر والے بھی خوش تھے۔ مہر اب زیادہ ذمہ دار ہو گئی تھی، زیادہ سنجیدہ، اور سب کے لیے ایک سہارا۔ اس کی ماں اکثر کہتیں،
“میری بیٹی بدل گئی ہے… مگر اچھی طرف بدل گئی ہے۔”

مہر مسکرا دیتی۔

مگر زندگی ہمیشہ سکون کو زیادہ دیر نہیں رہنے دیتی۔

ایک دن گھر میں بات شروع ہوئی۔

“مہر کے لیے رشتہ دیکھ رہے ہیں…”

یہ جملہ عام تھا… مگر اس بار اس کے اثرات غیر معمولی تھے۔

مہر خاموش رہی۔

اس کے چہرے پر کوئی فوری ردعمل نہیں آیا۔ مگر دل میں ایک ہلکی سی لرزش ضرور ہوئی۔

“ابھی نہیں…” اس نے آہستہ سے کہا۔

مگر ماں نے نرمی سے جواب دیا،
“زندگی آگے بڑھتی ہے بیٹا…”

اور پھر… وہ نام دوبارہ آیا۔

حمد۔

یہ خبر آسمان سے گرا ہوا پتھر تھی۔

حمد کو جیسے ہی خبر ملی، اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔

وہ پہلے سے unstable تھا، مگر اب وہ اور بھی بکھر گیا۔

اس نے فوراً مہر کو کال کی۔

مہر نے فون نہیں اٹھایا۔

پھر میسج…

پھر مسلسل کالز…

پھر غصہ۔

“تم میری ہو!”
“تم ایسا نہیں کر سکتیں!”

اس کی آواز اب محبت نہیں رہی تھی… یہ obsession تھا۔

مہر نے خاموشی اختیار کی۔

گھر میں بھی دباؤ بڑھنے لگا۔

“یہ لڑکا بار بار کیوں رابطہ کر رہا ہے؟”

مہر نے پہلی بار سچ بتایا۔

“یہ healthy نہیں ہے…”

حمد اب حد پار کر رہا تھا۔

وہ دھمکیاں دینے لگا، کبھی رونے لگتا، کبھی چیخنے لگتا۔

“اگر تم نے کسی اور سے شادی کی تو میں خود کو ختم کر لوں گا!”

یہ الفاظ محبت نہیں تھے… یہ ذہنی دباؤ تھا۔

مہر ٹوٹ رہی تھی… مگر خاموش تھی۔

ایک رات وہ اکیلی بیٹھی رو رہی تھی۔

لیکن آواز نہیں تھی۔

بس آنسو تھے… اور دعا۔

“یا اللہ… مجھے اس بندھن سے نکال دے جس میں میں خود نہیں ہوں…”

اگلے دن ایک بڑا فیصلہ لیا گیا۔

خاندان نے حمد سے مکمل رابطہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اور اس کے لیے مدد بھی لی گئی۔

کسی قریبی دوست اور قانونی سطح پر اسے واضح کر دیا گیا کہ یہ سب ختم ہے۔

حمد resist کرتا رہا… چیختا رہا… مگر آخرکار وہ اس زندگی سے الگ کر دیا گیا۔

یہ آسان نہیں تھا۔

مگر ضروری تھا۔

کچھ دن بعد خاموشی آ گئی۔

وہی خاموشی جس میں سکون ہوتا ہے۔

مہر نے پہلی بار گہرا سانس لیا۔

“میں آزاد ہوں…”

سعد کے لیے یہ سب کسی پہلے سے طے شدہ کہانی جیسا نہیں تھا۔ نہ اس نے کبھی سوچا تھا کہ وہ کسی دن اس طرح کسی رشتے کے لیے کھڑا ہوگا، نہ ہی مہر نے یہ سوچا تھا کہ اس کی زندگی کا کوئی فیصلہ اس طرح اچانک بدل جائے گا۔

وہ دونوں الگ الگ اپنی زندگیوں میں تھے، ایک سکون کے دائرے میں، اور دوسرا خاموشی کے ایک غیر واضح احساس میں۔

مہر اب اپنے گھر میں پرسکون تھی۔ وہ پہلے جیسی الجھی ہوئی نہیں تھی۔ وقت نے اسے سکھا دیا تھا کہ ہر تعلق ضروری نہیں ہوتا، اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ وہ اب اللہ کے ساتھ زیادہ جڑ گئی تھی۔ اس کی دعا میں بھی سکون تھا اور اس کی آنکھوں میں بھی۔

اور سعد… وہ اپنی زندگی میں مصروف تھا، مگر مہر کہیں نہ کہیں اس کے اندر ایک سوال بن کر رہ گئی تھی جس کا جواب وہ کبھی مکمل طور پر نہیں ڈھونڈ پایا تھا۔

ایک دن اچانک مہر کے گھر میں بات شروع ہوئی۔

“کچھ لوگ آئے تھے رشتے کے لیے…”

مہر نے پہلی بار صرف سر اٹھایا۔

“کون؟”

ماں نے نام لیا۔

اور وہ نام… کوئی غیر معمولی نہیں تھا۔ عام سا رشتہ تھا، خاندان کی جان پہچان، بات چلی، اور پھر ملاقات طے ہو گئی۔

مہر نے کوئی خاص ردعمل نہیں دیا۔ نہ خوشی، نہ انکار۔ بس خاموشی۔

مگر اسے کیا پتا تھا کہ یہ خاموشی ایک بڑے موڑ کی طرف جا رہی ہے۔

ملاقات کا دن آیا۔

سادہ سا ماحول تھا۔ گھر والے بیٹھے تھے، بات ہو رہی تھی، اور مہر تھوڑی سی خاموش بیٹھی تھی۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔

سعد اندر آیا۔

مگر وہ اکیلا نہیں تھا… اس کے ساتھ اس کے گھر والے بھی تھے۔

ایک لمحے کے لیے کمرے میں وقت رک گیا۔

مہر نے اسے دیکھا۔

سعد نے مہر کو دیکھا۔

اور دونوں کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا—

“یہ کیا ہو رہا ہے؟”

یہ کوئی planned بات نہیں تھی۔

یہ ایک unexpected moment تھا۔

دونوں کو نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ وہی رشتہ ہے جس کا فیصلہ دونوں خاندانوں نے quietly کر لیا تھا۔

خاموشی ٹوٹ گئی۔

گھر والوں نے بات شروع کی۔

اور آہستہ آہستہ حقیقت سامنے آئی—

یہ رشتہ سعد اور مہر کا ہے۔

مہر کے چہرے پر حیرت تھی، مگر وہ چیخی نہیں… وہ خاموش رہی۔

سعد بھی شاک میں تھا، مگر اس نے خود کو فوراً سنبھالا۔

کچھ دن بعد engagement کا دن آ گیا۔

سادہ سی تقریب تھی، مگر ماحول میں ایک عجیب سی بےیقینی تھی۔

مہر تیار ہوئی، مگر اس کے چہرے پر وہ خوشی نہیں تھی جو عام لڑکیوں میں ہوتی ہے۔ وہ خاموش تھی… بہت خاموش۔

سعد بھی ایسا ہی تھا۔ وہ مضبوط نظر آ رہا تھا، مگر اندر کہیں وہ بھی الجھا ہوا تھا۔

انگوٹھی پہنائی گئی۔

تالیاں بجیں۔

تصاویر لی گئیں۔

مگر دونوں کے دل میں ایک سوال تھا—

“کیا یہ صحیح ہے؟”

تقریب کے بعد مہر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔

انگوٹھی ہاتھ میں چمک رہی تھی۔

مگر وہ خوش نہیں تھی… وہ سوچ میں تھی۔

“کیا میں اس انسان کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزار سکتی ہوں؟”

دوسری طرف سعد بھی خاموش بیٹھا تھا۔

اس کے ذہن میں وہ لمحے آ رہے تھے جب وہ مہر کو دیکھتا تھا، اس کی خاموشی، اس کی مضبوطی، اور اس کی وہ نظر جو ہمیشہ سوال کرتی تھی۔

دن گزرتے گئے۔

مگر مہر بدل گئی۔

وہ پہلے جیسی کھل کر بات نہیں کرتی تھی۔ زیادہ سوچنے لگی تھی، زیادہ خاموش ہو گئی تھی۔

سعد یہ محسوس کر رہا تھا، مگر سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

ایک دن مہر نے دعا میں بہت دیر لگا دی۔

اس نے کہا:

“یا اللہ… اگر یہ میرا نصیب ہے تو میرے دل کو اس پر راضی کر دے…”

اور پھر وہ لمحہ آیا۔

سمجھ کا۔

مہر نے سعد کو غور سے دیکھا۔

اور پہلی بار اسے واضح طور پر محسوس ہوا—

یہ وہ انسان ہے جو اس کی زندگی کے ہر اس معیار پر پورا اترتا ہے جو اس نے کبھی اپنے دل میں رکھا تھا۔

نہ قید کرنے والا… نہ بےپرواہ… نہ جھوٹا پیار کرنے والا۔

بس خاموش… مضبوط… اور سچا۔

سعد بھی آہستہ آہستہ سمجھنے لگا۔

مہر صرف خوبصورت نہیں تھی… وہ وفادار تھی، صابر تھی، اور سب سے بڑھ کر وہ اللہ پر یقین رکھنے والی تھی۔

ایک دن دونوں اکیلے بیٹھے تھے۔

خاموشی تھی، مگر اب وہ خاموشی بھاری نہیں تھی۔

سعد نے آہستہ سے کہا:
“میں نے تمہیں کبھی مکمل نہیں سمجھا…”

مہر نے جواب دیا:
“اور شاید سمجھنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے…”

پھر سعد نے کہا:
“میں تمہیں روکنا نہیں چاہتا… میں بس تمہارے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔”

یہ جملہ مہر کے دل پر سیدھا اترا۔

کچھ لمحے بعد اس نے آہستہ سے کہا:
“اگر یہ اللہ کا فیصلہ ہے… تو میں اس سے خوش ہوں۔”

سعد نے سر جھکا لیا۔

“میں بھی…”

اور پہلی بار نہ کوئی جنگ تھی، نہ کوئی ضد۔

بس acceptance تھی۔

وقت گزرتا گیا۔

مہر اور سعد دونوں ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ سمجھنے لگے۔

نہ جلدی میں، نہ زبردستی میں۔

اور پھر وہ دن آیا جب دونوں نے مکمل دل سے ایک دوسرے کو قبول کر لیا۔

مہر نے آہستہ سے کہا:
“مجھے سکون چاہیے تھا… اور شاید اللہ نے مجھے وہی دیا ہے۔”

سعد نے جواب دیا:
“اور مجھے تم…”

اور دونوں نے پہلی بار نہیں… آخری بار نہیں…
بلکہ ہمیشہ کے لیے سمجھ لیا کہ

محبت وہ نہیں جو چھین لے…
محبت وہ ہے جو رب کے فیصلے پر دل کو راضی کر دے۔

اختتام 

منگل، 26 اگست، 2025

رہگزرِ درد

 رہگزرِ درد

تحریر: کنزہ عمران مغل

"زندگی بعض اوقات انسان کے حصے میں وہ درد ڈال دیتی ہے، جس کا بوجھ صدیوں تک روح اُٹھاتی رہتی ہے۔" یہی وہ جملہ ہے جو روحان کی زندگی کو گویا ایک آئینے کی طرح بیان کرتا ہے۔

"بعض لوگ دنیا کے شور میں اتنے دب جاتے ہیں کہ ان کی آواز صرف ان کے دل کے کمرے تک محدود رہ جاتی ہے۔"

روحان اپنے والدین کا تیسرا بیٹا تھا۔ بڑا بھائی فراز تھا، جو بچپن ہی سے ذہین اور محنتی مانا جاتا تھا۔ دوسرا بھائی، بلال، اپنی ضد اور غصے کے باعث اکثر والدین کی توجہ کھینچ لیتا تھا۔ چار بہنیں بھی تھیں جن کے ناز و نخرے والدین کو برداشت کرنا پڑتے تھے۔ یوں بچوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن محبت اور سکون کم، کیونکہ گھر کا ماحول ہمیشہ کسی نہ کسی بوجھ اور کشمکش کے نیچے دبا رہتا تھا۔

روحان کی ماں، شگفتہ، ایک ایسی عورت تھی جس نے کبھی گھریلو زندگی کو سنبھالنے کی ذمہ داری پوری نہ کی۔ وہ اپنی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی اور چونکہ کبھی گھر کے کام کاج کا بوجھ اُٹھانے کی عادت نہ پڑی تھی، اس لیے نہ صفائی کا شعور تھا اور نہ کھانے پکانے یا گھر کو سنبھالنے کا سلیقہ۔ شادی کے بعد بھی اس کی یہی عادت برقرار رہی۔ گھر کے معاملات اکثر بکھرے رہتے کیونکہ وہ خود کو محنت اور ذمہ داری سے ہمیشہ دور رکھتی۔

روحان کے والد، سلیم، ایک سادہ مگر بے حد محنتی انسان تھے۔ وہ صبح سے شام تک اپنے بچوں کے لیے محنت کرتے اور ساتھ ہی اپنی ماں کی خدمت بھی خود انجام دیتے۔ شگفتہ نے کبھی ساس کی خدمت کی نہ گھر کی بھاگ دوڑ سنبھالی، لہٰذا یہ بوجھ بھی سلیم کے کاندھوں پر آ گیا۔ وہ نہ صرف کمائی کرتے بلکہ اپنی بوڑھی ماں کی دیکھ بھال بھی کرتے۔ یوں وہ ہمیشہ دوہری ذمہ داریوں میں پسے رہتے۔

سلیم کو اپنی بہنوں سے بھی بے پناہ محبت تھی، کیونکہ وہ اکلوتا بھائی تھا اور بہنوں کی خوشیاں اس کے لیے سب کچھ تھیں۔ بہنیں بھی اس پر جان چھڑکتی تھیں۔ مگر شگفتہ کے دل میں یہی چیز ایک مستقل کانٹے کی طرح چبھتی رہی۔ وہ سمجھتی کہ سلیم کی ترجیح اپنی ماں اور بہنیں ہیں، نہ کہ وہ خود یا اس کے بچے۔ یہی احساس وقت کے ساتھ اس کے دل میں ایک خلا پیدا کرتا گیا۔

روحان نے بچپن ہی سے گھر کی یہ تلخ حقیقتیں دیکھیں۔ کبھی ماں کی لاپرواہی، کبھی والد کا صبر اور محنت، اور کبھی دادی کی بیماریوں میں والد کی خدمت گزاری۔ وہ اکثر خود کو اپنے بہن بھائیوں سے الگ محسوس کرتا۔ نہ وہ فراز کی طرح ذہین تھا، نہ بلال کی طرح ضدی، اور نہ ہی بہنوں کی طرح لاڈلا۔ وہ ایک درمیانی کیفیت میں پل رہا تھا، جیسے دریا کے بیچ ایک پتھر، جسے نہ لہریں بہا سکیں اور نہ کنارے اپنی طرف کھینچ سکیں۔

روحان کی ماں شگفتہ بظاہر ایک خوش شکل مگر کُند ذہن عورت تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ بصیرت کبھی نہ تھی جو ایک عورت کو گھر بسانے کے لیے چاہیے ہوتی ہے۔ نہ اسے گھریلو ذمے داریوں سے لگاؤ تھا، نہ گھر کے کام کاج کا سلیقہ، اور نہ ہی دین و دنیا کی سوجھ بوجھ۔ اسے نہ عبادت کا ذوق تھا نہ علم کا شوق۔ وقت ملتا تو یا تو محلے کی عورتوں میں بیٹھ کر فضول باتوں میں گزار دیتی یا لمبے لمبے خواب دیکھتی جو حقیقت سے ہمیشہ دور رہتے۔

وہ گھر کے مسائل کو کبھی اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی تھی۔ کھانا پکانے سے جھجکتی، صفائی ستھرائی سے بھاگتی اور بچوں کی پرورش کو بھی محض ایک بوجھ سمجھتی۔ دین کی بات آتی تو لاعلمی دکھاتی، دنیاوی معاملات میں بھی وہ ایک تماشائی کی طرح تھی جسے نہ کچھ سمجھنا تھا نہ سنبھالنا۔ اس کا بس اتنا ماننا تھا کہ سب کچھ خودبخود چلتا رہتا ہے، اور اگر کچھ نہیں چل رہا تو یہ مرد کی کمی ہے، عورت کی نہیں۔

ایسی ماں کے زیرِ سایہ پلنے والے بچے، خاص طور پر روحان، ہمیشہ ایک خلا میں جی رہے تھے۔ انہیں کبھی وہ تربیت نہ ملی جو کردار کو مضبوط کرتی ہے، اور نہ وہ محبت جو دل کو سکون دیتی ہے۔ روحان اپنی ماں کے بے نیاز رویے کو دیکھ دیکھ کر اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا۔ اس کی ماں کا دل نہ گھر سے جڑا، نہ دین سے، اور نہ دنیا سے۔

شگفتہ اکثر کہتی
"مجھے تو شادی کا مطلب ہی کبھی سمجھ نہیں آیا، نہ ہی یہ گھر مجھے کبھی اپنا لگا۔"

یہ جملے روحان کے کانوں میں بار بار گونجتے۔ وہ سوچتا کہ اگر اس کی ماں نے گھر کو قبول نہیں کیا تو پھر بچے کس ماحول میں بڑے ہوں گے؟ مگر بچہ کب اتنی بڑی باتوں کو سمجھ پاتا ہے؟ وہ تو صرف یہ جانتا تھا کہ اس کے گھر میں سکون کی کمی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ فراز کی کامیابیاں خاندان میں فخر بننے لگیں۔ بہنیں اپنی معصوم ضدوں اور نخرے کے ساتھ لاڈلی سمجھی جاتیں۔ مگر روحان ہمیشہ پیچھے رہ گیا۔ جیسے وہ صرف موجود ہے، مگر کسی کے لیے ضروری نہیں۔ ماں اپنی دنیا میں، باپ اپنی مجبوریاں ڈھونے میں اور دادی اپنی پرانی روایات میں کھوئی ہوئی۔ ایسے میں روحان کی زندگی کا آغاز ایک ایسے سفر کی طرح ہوا جو روشنی کے بغیر تھا، جہاں ہر موڑ پر تنہائی، محرومی اور سوالات اس کا انتظار کرتے تھے۔

یہ کہانی دراصل اسی سفر کی ہے، جہاں ایک عام سا لڑکا اپنے اندر کے زخموں کے ساتھ بڑا ہوتا ہے اور زندگی کی کٹھنائیوں کا سامنا کرتا ہے۔

گھر میں سب کچھ ایک معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ بچوں کی ہنسی، شگفتہ کی مصروفیات، سلیم کی محنت اور بزرگوں کی دعائیں—یہی اس چھوٹے سے گھر کی رونق تھی۔ مگر زندگی کبھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ ایک دن ایسا آیا جب اس گھر کا ستون، سلیم کی ماں، اچانک بیماری کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئی۔ ان کی وفات نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ ایک ایسی عورت تھیں جن کے وجود سے پورا گھر جڑا ہوا تھا۔ ان کی دعاؤں اور نصیحتوں سے ہر فرد کو سہارا ملتا۔ ان کے جانے کے بعد یوں لگا جیسے گھر کے صحن سے سایہ چھن گیا ہو۔

سلیم اپنی ماں کا سب سے لاڈلا بیٹا تھا۔ جب وہ دنیا سے رخصت ہوئیں تو اس کی آنکھوں میں وہ خالی پن آ گیا جو کبھی پر نہ ہو سکا۔ اس نے دن رات اپنے دکھ کو چھپانے کی کوشش کی، مگر اندر سے وہ ٹوٹ چکا تھا۔ شگفتہ کے لیے بھی یہ صدمہ کم نہ تھا۔ ساس اور بہو کے بیچ محبت کا رشتہ تھا۔ شگفتہ اکثر اپنی مشکل گھڑیوں میں ان سے مشورہ لیا کرتی۔ اب وہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔

گھر ابھی ماں کی موت کے دکھ سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ دوسرا اور زیادہ ہولناک سانحہ آن کھڑا ہوا۔ روحان کا دوسرا نمبر والا بھائی، معصوم انیس، جو ابھی صرف پانچ سال کا تھا، اچانک بیمار پڑ گیا۔ پہلے پہل تو سب نے سمجھا کہ یہ کوئی عام بخار ہے، مگر جب اس کی حالت بگڑتی گئی اور ہسپتال کے دورے بڑھنے لگے تو حقیقت کھلنے لگی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ انیس خون کے سرطان میں مبتلا ہے۔ یہ خبر پورے خاندان پر قیامت بن کر گری۔

شگفتہ کا کلیجہ پھٹ گیا۔ وہ چھوٹے بیٹے کو روز آنکھوں کے سامنے کمزور ہوتے دیکھتی اور کچھ نہ کر پاتی۔ کبھی انیس کے سر پر ہاتھ پھیرتی تو کبھی اپنی آنکھوں میں چھپے آنسو صاف کر لیتی کہ بچے کو کچھ محسوس نہ ہو۔ مگر معصوم بچے کو بھی احساس تھا کہ اس کے ساتھ کچھ برا ہو رہا ہے۔ وہ اکثر آہستہ آواز میں ماں سے پوچھتا،
"امی، میں ٹھیک ہو جاؤں گا نا؟"
شگفتہ اسے گلے سے لگا کر کہتی، "ہاں بیٹا، ضرور۔" مگر اس کی آنکھوں میں وہ یقین نہ ہوتا جو ایک ماں کی زبان پر ہونا چاہیے تھا۔

مہینوں کی بیماری کے بعد ایک دن وہ لمحہ بھی آ گیا جس سے سب ڈرتے تھے۔ انیس نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ اس دن گھر پر ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے زندگی رک گئی ہو۔ بچوں کے کھیلنے کی آوازیں غائب ہو گئیں، صرف رونے اور سسکنے کی آوازیں باقی رہ گئیں۔

انیس کی موت نے شگفتہ کو اندر سے توڑ دیا۔ وہ ذہنی طور پر بکھر گئی۔ کبھی گھنٹوں خاموش بیٹھی رہتی، کبھی اچانک بولنے لگتی جیسے اپنے دکھ کو لفظوں میں نکالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ وہ دنیا اور دین دونوں سے غافل ہو گئی۔ نہ نماز رہی نہ روزہ، نہ گھر کی فکر رہی نہ بچوں کی پرورش کا خیال۔ وہ ایک خالی جسم کی مانند ہو گئی تھی جس میں روح جیسے نکل گئی ہو۔

ایسے میں سلیم نے خود کو سنبھالا اور گھر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس نے بچوں کی پرورش کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا۔ وہ دن رات محنت کرتا، مگر ساتھ ساتھ کوشش کرتا کہ بچوں کی کمی محسوس نہ ہونے دے۔ مگر روحان کے لیے یہ سب برداشت کرنا آسان نہ تھا۔ وہ نہ پڑھائی میں اچھا رہا نہ زندگی کی دوڑ میں کبھی اپنے بھائی فراز کا ہمسر بن سکا۔

گھر میں اس کی ناکامی اکثر زبانوں پر آتی۔ سب کو لگتا کہ وہ کمزور اور ناکارہ ہے، مگر کوئی یہ نہ سمجھ پایا کہ اس کے دل میں کتنے زخم ہیں۔ دادی کی موت، بھائی کی جدائی اور ماں کی بے بسی—یہ سب اس کے ننھے ذہن پر بوجھ بن گئے۔ روحان کے لیے بچپن خوشیوں کا نہیں بلکہ المیوں کا دوسرا نام بن گیا۔

وقت کا پہیہ رکتا نہیں۔ بچے بڑے ہونے لگے اور ہر ایک نے اپنی اپنی راہ تلاش کرنا شروع کر دی۔ فراز، جو شروع ہی سے محنتی اور ذہین تھا، تعلیم میں آگے بڑھتا گیا۔ وہ اسکول میں ہمیشہ نمایاں نمبر لیتا، اساتذہ کی تعریفیں سمیٹتا اور سب کا لاڈلا بنا رہتا۔ جب وہ کالج پہنچا تو نہ صرف تعلیم میں کمال دکھایا بلکہ آگے چل کر استاد بن گیا۔ خاندان بھر کے لوگ فراز کو دیکھ کر فخر محسوس کرتے تھے۔ اس کی کامیابی کو ہر محفل میں سراہا جاتا اور اس کی مثال دی جاتی۔

دوسری طرف روحان تھا۔ اس کی قسمت کا سفر فراز جتنا آسان نہ تھا۔ وہ بمشکل میٹرک پاس کر سکا۔ پڑھائی اس کے لیے ہمیشہ ایک مشکل کام رہی تھی۔ گھنٹوں کتابوں کے ساتھ بیٹھنے کے باوجود اس کا ذہن الجھ جاتا، اور نتائج ہمیشہ کمزور رہتے۔ میٹرک کے بعد اس نے مزید تعلیم جاری رکھنے کے بجائے ایک تین سالہ ڈپلومہ کیا، تاکہ کم از کم اپنے مستقبل کے لیے کوئی ہنر حاصل کر سکے۔ مگر معاشرے کی آنکھوں میں تعلیم کے ڈگریاں ہی سب کچھ سمجھی جاتی ہیں، ہنر نہیں۔

سلیم، جو ایک باپ کی حیثیت سے اپنے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا تھا، مگر اس کے دل میں فراز کے لیے فخر اور روحان کے لیے مایوسی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ وہ اکثر محفلوں میں بڑے بیٹے کی کامیابیوں کا ذکر کرتا، جبکہ روحان کی موجودگی میں اس پر طنزیہ جملے کہے بغیر نہ رہتا۔
“تم کبھی اپنے بھائی جیسے لائق نہیں ہو سکتے!”
یہ جملہ روحان کے کانوں میں کسی خنجر کی طرح پیوست ہو جاتا۔ وہ چاہ کر بھی اپنے والد کو یہ احساس نہ دلا سکا کہ ہر انسان کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ روحان کی آنکھوں میں بار بار نمی تیرنے لگتی مگر وہ خاموش رہتا۔

زندگی نے روحان کو ایک اور کڑی حقیقت کا سامنا کروایا۔ باپ نے نیا گھر بنوانے کا فیصلہ کیا۔ یہ گھر گویا خاندان کے خوابوں کا مرکز تھا۔ روحان نے چاہا کہ وہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالے، تاکہ شاید باپ کے دل میں اس کے لیے جگہ بن سکے۔ وہ دن رات محنت کرنے لگا۔ صبح سویرے مزدوروں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا، اینٹیں ڈھوتا، سیمنٹ کی بوریاں اپنے کندھوں پر اُٹھاتا، بجری اور ریت کے ڈھیر پر کدال مارتا۔ دھوپ میں پسینے سے بھیگتا، ہاتھوں پر چھالے پڑ جاتے، کمر درد سے جھک جاتی مگر وہ ہمت نہ ہارتا۔

اسے امید تھی کہ ایک دن والد اس کی محنت کو دیکھیں گے اور فخر سے کہیں گے:
“ہاں، یہ میرا بیٹا ہے۔”

مگر افسوس، یہ دن کبھی نہ آیا۔ سلیم کی نظر ہمیشہ فراز کی کامیابیوں پر رہی۔ روحان کی محنت کو وہ معمولی مزدوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتا۔ اگر کوئی مہمان آتا تو فراز کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے، اور روحان کی بات آتے ہی لبوں پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ طنز اتر آتا۔
“اسے پڑھائی کا شوق ہی کہاں تھا۔”
یا
“یہ تو بس چھوٹے موٹے کام کر لیتا ہے۔”

یہ الفاظ روحان کے دل کو زخمی کرتے، مگر وہ اپنے زخم کسی کو نہ دکھاتا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر جواب دے گا تو باپ کی نظر میں اور بھی گر جائے گا۔ اس نے خاموشی کو اپنی زبان بنا لیا۔

روحان اکثر رات کو اکیلا بیٹھ کر سوچتا، “کاش میں بھی اپنے بھائی جیسا ہوتا… کاش ابو مجھ پر بھی ویسے ہی فخر کرتے جیسے فراز پر کرتے ہیں۔” لیکن پھر دل سے ایک آواز آتی، “محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ایک دن ضرور وقت بدلے گا۔”

یوں روحان کی زندگی دن بہ دن ایک کٹھن امتحان بن رہی تھی۔ ایک طرف بھائی کی کامیابیاں، دوسری طرف باپ کے طعنے اور بے اعتنائی۔ مگر وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ تھا۔ اگرچہ اس کے دل پر ان الفاظ کے داغ ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئے، مگر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی محنت جاری رکھے گا، چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، سمجھے یا نہ سمجھے۔

یہ واقعہ روحان کی زندگی کا وہ موڑ تھا جس نے اس کی شخصیت کو جڑ سے ہلا ڈالا۔
اس نے پہلی بار دل کے کسی کونے میں محبت کی شمع روشن کی تھی۔ وہ لڑکی اس کے خوابوں کی دنیا تھی—سادگی میں بھری ہوئی، نرم لہجے میں بات کرنے والی، اور آنکھوں میں امید جگانے والی۔ روحان کے دن اور راتیں اس کے گرد گھومنے لگیں۔ وہ معمولی سا خوش لباس پہن لیتا تو روحان کو لگتا جیسے دنیا کی سب سے حسین ہستی اس کے سامنے ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد باقی سب چیزیں بے معنی ہو جاتی تھیں۔

روحان اپنے دل میں بار بار یہی سوچتا:
"شاید اب زندگی نے میرے لیے بھی کوئی خوشی رکھی ہے۔ شاید یہ وہ شخص ہے جو مجھے مکمل کرے گا، جو میری تنہائیوں کو بانٹے گا۔"

"بعض دفعہ انسان ہنستا ہے تاکہ دنیا کو یقین دلائے کہ وہ ٹھیک ہے، حالانکہ اس کا دل چیخ رہا ہوتا ہے۔"

وہ لڑکی اس کی باتوں پر ہنستی، کبھی دلجوئی کرتی، اور کبھی اپنے خواب سناتی۔ روحان ان خوابوں میں اپنے آپ کو شامل کر لیتا۔ اس نے دل ہی دل میں کئی امیدیں باندھ لیں: ایک چھوٹا سا گھر، مشترکہ خواب، اور محبت بھری زندگی۔

مگر پھر وہ دن آیا جس نے روحان کی روح میں ایسا زخم دے دیا جو کبھی نہیں بھرا۔ اچانک خبر ملی کہ وہ لڑکی کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔

روحان کے لیے یہ لمحہ ناقابلِ برداشت تھا۔ اسے لگا جیسے زمین اس کے قدموں تلے سے نکل گئی ہو۔ وہ اپنی سانسوں کی آواز بھی سن رہا تھا اور دل کے اندر ایک عجیب سی خالی گونج۔ وہ گھنٹوں کمرے میں بیٹھا بس یہی سوچتا رہا کہ ایسا کیوں ہوا؟ آخر وہ کس چیز میں کم تھا؟ اس نے تو اپنی پوری سچائی، پوری محبت اس کے قدموں میں رکھ دی تھی۔ پھر بھی وہ کسی اور کے ساتھ کیسے جا سکتی تھی؟

یہ صدمہ روحان کو توڑ کر رکھ گیا۔ اس کے بعد وہ لوگوں سے کترانے لگا۔ محفلوں میں بیٹھنے کے بجائے تنہائی کو ترجیح دینے لگا۔ کھڑکی کے پاس بیٹھ کر گھنٹوں سوچتا رہتا۔ کبھی خاموش آنکھوں سے بہتے آنسو اس کی کیفیت بیان کر دیتے۔

گھر میں بھی اس کی حالت مزید بگڑنے لگی۔ والد کی سخت باتیں اور بھائی سے تقابل کے طعنے جلتی پر تیل کا کام کرتے۔ ماں اپنی دنیا میں گم تھی۔ کوئی بھی ایسا نہ تھا جو روحان کے دل کی گہرائیوں کو سمجھ پاتا۔

بے روزگاری کے دن لمبے ہونے لگے۔ چھوٹے چھوٹے کام تلاش کرنے کے باوجود اسے کامیابی نہ ملتی۔ وہ اکثر خود سے کہتا:
"محبت بھی کھو دی، سکون بھی… اب بچا ہی کیا ہے میرے پاس؟"

وقت گزرنے کے ساتھ یہ درد ایک بیماری میں بدلنے لگا۔ روحان کے دل و دماغ پر ایک بوجھ سا سوار رہتا۔ کبھی وہ بے سبب ہنسنے لگتا، کبھی گھنٹوں روتا رہتا۔ کبھی سوچتا شاید وہ پاگل ہو رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ نظرانداز ہونے کے زخم کو سہہ نہ سکا۔

محبت کا کھونا اور زندگی کے ہر محاذ پر ناکامی… یہ وہ مقام تھا جہاں سے روحان کا سفر ایک عام لڑکے سے ایک ٹوٹے ہوئے انسان کی طرف مڑ گیا۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے:
انسان سب کچھ سہہ لیتا ہے، مگر نظرانداز ہونا… وہ زخم ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔

روحان نے سوچا تھا کہ اگر وہ فیصل آباد جائے تو شاید اُس کی زندگی بدل جائے۔ ایک دن اُس نے ہمت کر کے بڑے بھائی سلیم سے کہا کہ وہ فیصل آباد جا کر نوکری تلاش کرنا چاہتا ہے۔ بھائی نے پہلے تو سختی سے انکار کیا مگر روحان کے اصرار اور بار بار کے وعدوں پر بالآخر اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد اُس کے دل میں ایک نئی اُمید جاگی۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ شاید یہ سفر اُس کے دکھوں کا علاج ثابت ہوگا۔

فیصل آباد پہنچ کر اُس نے خوابوں کی دنیا اور حقیقت میں بڑا فرق دیکھا۔ شہر کی چمکتی سڑکیں، ہجوم اور بڑی بڑی عمارتیں اُسے متاثر تو کرتی تھیں، لیکن ان سب کے بیچ وہ پہلے سے بھی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اُس نے روزگار کے چھوٹے چھوٹے کام تلاش کیے۔ کبھی ہوٹل پر برتن دھونے لگ جاتا، کبھی کسی دکان پر سیلز مین کا کام کر لیتا، مگر جہاں بھی جاتا لوگ اُس کی سادگی اور ناتجربہ کاری کا فائدہ اُٹھا لیتے۔ کبھی اُسے پوری اُجرت نہ ملتی، کبھی زیادہ کام کروا کے کچھ بھی نہ دیا جاتا۔ اکثر شام کے وقت وہ تھکا ہارا شہر کے کسی کونے میں بیٹھ کر سوچتا کہ آخر اُس کی تقدیر اتنی بے رحم کیوں ہے۔

انہی دنوں اُس کی ملاقات عائشہ سے ہوئی۔ عائشہ ایک خوش گفتار، دلکش اور باتونی لڑکی تھی۔ اُس کے لہجے کی مٹھاس روحان کے زخمی دل کے لیے مرہم ثابت ہوئی۔ وہ اکثر اُس سے ہمدردی جتاتی اور کہتی کہ زندگی کو خوشی سے جینا چاہیے۔ روحان کے لیے یہ سب کچھ ایک خواب جیسا تھا۔ برسوں بعد اُسے لگا جیسے کوئی ہے جو اُس کی تنہائی کو سمجھتا ہے۔ رفتہ رفتہ عائشہ اُس کی زندگی کا مرکز بن گئی۔

عائشہ نے محبت کے وعدے کیے، خواب دکھائے اور یہاں تک کہا کہ اگر کچھ پیسے ہوں تو وہ دونوں شادی کر کے نئی زندگی شروع کر سکتے ہیں۔ روحان نے پہلے ہچکچاہٹ محسوس کی مگر پھر اُس نے اپنی ساری محنت کی کمائی اُس کے حوالے کر دی۔ اُس نے سوچا کہ یہ قربانی اُس کے لیے خوشیوں کی صبح لے کر آئے گی۔ مگر حقیقت کچھ اور تھی۔ پیسے ملنے کے بعد عائشہ کے رویے بدلنے لگے۔ وہ اُس سے کترانے لگی اور پھر ایک دن اچانک غائب ہو گئی۔

یہ صدمہ روحان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ جو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، اب اندر سے بالکل خالی ہو گیا۔ وہ رات بھر جاگتا اور خود کو کوستا کہ کیوں ہر بار لوگ اُس کا فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ اُس کی آنکھوں سے امید کی روشنی مٹ گئی۔ محبت، اعتماد اور خواب—سب کچھ جیسے کسی نے اُس کے وجود سے چھین لیا ہو۔

وہ دن بھی عجیب تھا جب روحان مسلسل آوارہ گردی کرتے کرتے شہر کی گلیوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا ایک دربار کے صحن میں جا بیٹھا۔ اس کے چہرے پر تھکن کی ایسی پرچھائیاں تھیں جیسے برسوں سے اُس نے سکون کی نیند نہ لی ہو۔ گرد و غبار سے اٹے کپڑے، بکھرے بال اور بجھی آنکھیں اُس کے اندر کے بکھراؤ کی گواہی دے رہی تھیں۔ دربار کے صحن میں لوگ دعائیں مانگ رہے تھے، کچھ ذکر کر رہے تھے، کچھ پھول اور چادریں چڑھا رہے تھے۔ مگر روحان ان سب سے بے خبر، ایک کونے میں جا کر پتھر کے فرش پر بیٹھ گیا۔ نہ کوئی دعا، نہ کوئی فریاد—بس خاموشی۔

یہ خاموشی عام خاموشی نہ تھی؛ یہ اُس دل کی خاموشی تھی جس نے سب کچھ سہہ لیا ہو۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب خالی پن تھا، جیسے زندگی کی ہر کہانی، ہر خواب اُس کے اندر سے چھین لیا گیا ہو۔ وہ دن رات وہیں بیٹھا رہتا، کبھی دیوار کو گھورتا، کبھی صحن کے درمیان جلتی ہوئی موم بتیوں کو۔ زائرین اُسے دیکھ کر اندازے لگاتے، کچھ اسے مجذوب سمجھتے، کچھ دیوانہ۔ کوئی اُس کے قریب آ کر خیرات رکھ جاتا تو وہ ہاتھ تک نہ بڑھاتا۔ وہ خاموشی اب اُس کی پہچان بن گئی تھی۔

گھر والے مہینوں تک اُس کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے۔ گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ روحان غائب ہو گیا ہے۔ بھائی سلیم اور بہنیں ہر دروازہ کھٹکھٹاتے، ہر رشتہ دار سے پوچھتے۔ آخرکار کسی نے بتایا کہ فیصل آباد کے ایک دربار کے صحن میں ایک شخص اکثر بیٹھا رہتا ہے جو روحان جیسا لگتا ہے۔ یہ سن کر سلیم تیزی سے وہاں پہنچا۔

جب اُس نے دربار کے صحن میں روحان کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ بھائی نے آگے بڑھ کر اُسے آواز دی:
"روحان…! یہ تُو ہے؟"

مگر روحان نے سر نہیں اُٹھایا۔ وہ یونہی چپ چاپ بیٹھا رہا، جیسے آواز اُس کے کانوں تک پہنچی ہی نہ ہو۔ سلیم نے اُسے گلے لگایا تو وہ نہ رویا، نہ کچھ بولا—بس پتھر کی طرح بے حس و حرکت رہا۔ اُس لمحے سلیم کو اندازہ ہوا کہ روحان اب پہلے جیسا نہیں رہا۔

بہت منت سماجت اور زور زبردستی کے بعد گھر والے اُسے واپس لے آئے۔ مگر گھر پہنچ کر بھی اُس کی حالت نہ بدلی۔ وہ کم بولتا، زیادہ تر خاموش رہتا۔ کبھی گھنٹوں دیوار کو دیکھتا رہتا، کبھی بغیر مقصد کے کمرے میں چلتا رہتا۔ اُس کی خاموشی سب کو ڈرا دیتی تھی۔ شگفتہ ماں کے بعد پہلے ہی شدید صدموں کا شکار تھی، اب روحان کی یہ حالت دیکھ کر مزید کمزور ہو گئی۔

آخرکار یہ طے ہوا کہ اُسے ماہرِ نفسیات کے پاس لے جایا جائے۔ شروع میں روحان جانے کو تیار نہ تھا، مگر بھائی زبردستی اُسے کلینک لے گیا۔ ڈاکٹر نے بہت دیر تک اُسے خاموش دیکھا، پھر نرمی سے سوال کیے۔ پہلے تو روحان نے لب تک نہ ہلایا۔ لیکن ایک لمحہ آیا جب اُس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور برسوں کا درد جیسے ایک ہی لمحے میں زبان پر آ گیا۔

وہ بار بار یہی کہتا رہا:
"لوگ مجھے چھوڑ دیتے ہیں… کوئی میرا نہیں بنتا… سب مجھے دھوکہ دیتے ہیں۔"

ڈاکٹر نے اُس کی باتیں تحمل سے سنیں۔ پہلی بار روحان نے دل کھول کر اپنی زندگی کے زخم سنائے—ماں کی موت، بھائی کی بیماری، محبت کے دھوکے، اور وہ لمحے جب اُس نے تنہائی کو اپنی قسمت سمجھ لیا تھا۔ اُس کے الفاظ ٹوٹے پھوٹے تھے مگر ہر جملہ دل دہلا دینے والا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا جب اُس نے اپنے درد کو الفاظ دیے۔ اُس لمحے گویا اُس کے سینے کا بوجھ ہلکا ہوا، مگر ساتھ ہی سب کو اندازہ ہو گیا کہ یہ زخم اتنے گہرے ہیں کہ ایک دن میں نہیں بھریں گے۔

روحان کی کہانی ایک عام کہانی نہیں تھی۔ یہ ان ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کی کہانی تھی جن کے خواب ان کی آنکھوں میں ہی مرجھا جاتے ہیں، جو زندہ تو ہوتے ہیں لیکن اندر سے ٹوٹ کر بکھر چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بہنوں کی شادیوں پر ہر کوئی خوش تھا۔ مہندی کی رات رنگوں اور قہقہوں سے بھری ہوئی تھی، ولیمے پر مہمان جھوم رہے تھے۔ لیکن اس تمام ہنگامے کے بیچ روحان ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا، اُس کی نظریں تو سب پر تھیں مگر دل میں ایک طوفان چل رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ سب کے نصیب کیسے سنور گئے، لیکن اُس کی باری کب آئے گی؟

جب کبھی کوئی رشتہ دار یا عزیز اُس کی شادی کا ذکر چھیڑ دیتا تو گھر والوں کے چہروں پر ایک عجیب سی خاموشی طاری ہو جاتی۔ کچھ دیر بعد کوئی بہانہ تراش لیتا—"ابھی کام ٹھیک نہیں، وقت آنے پر دیکھ لیں گے"۔ لیکن وہ ایک جملہ، وہ ایک زہر بھری بات ہمیشہ اس کے دل کو چھلنی کر دیتی:
"کون اپنی بیٹی ایسے لڑکے کو دے گا جس کے پاس نہ پیسہ ہے نہ مستقبل؟"

یہ الفاظ روحان کے دل پر صرف چوٹ نہیں کرتے تھے، یہ تو اس کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کو بھی جلا دیتے تھے۔ رات کو جب سب سو جاتے، وہ جاگتا رہتا۔ چھت کو گھورتا اور اپنے آپ سے سوال کرتا:
"کیا واقعی دولت ہی سب کچھ ہے؟ کیا انسان کی عزت، اس کا کردار، اس کی سچائی کچھ بھی معنی نہیں رکھتی؟"

فیکٹری میں معمولی سی نوکری اُس کے حصے میں آئی۔ صبح سے شام تک مشینوں کا شور اُس کے کانوں میں گونجتا رہتا، لیکن اس شور کے پیچھے اُس کی تنہائی کی آواز کہیں دب کر رہ جاتی۔ پسینے میں بھیگی قمیض، دھول سے اٹے ہاتھ، اور خالی جیب—یہی اس کی زندگی کی حقیقت تھی۔ وہ پیسہ تو کما لیتا، لیکن وہ سکون، وہ تسلی، وہ محبت جس کی وہ آرزو کرتا تھا، وہ کہیں دور رہ گئی۔

گھر وہ جگہ ہے جہاں سکون ملے، اگر وہی قید خانہ بن جائے تو انسان کا دل بھٹکتا پھرتا ہے۔"

اکثر اُس کے ذہن میں پرانی یادیں تازہ ہو جاتیں۔ پہلی محبت، وہ جھوٹے خواب، وہ دھوکہ… اور پھر بہنوں کی شادیاں۔ یہ سب کچھ ایک فلم کی طرح اُس کی آنکھوں کے سامنے چلتا رہتا۔ وہ سوچتا:
"کیا میں واقعی اتنا بےکار ہوں کہ کوئی مجھے قبول نہیں کرے گا؟"

دن گزرتے گئے، مگر اُس کی آنکھوں کے خواب مدھم پڑتے گئے۔ اب وہ مستقبل کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ چکا تھا۔ اُس کی زندگی کا مقصد بس اتنا رہ گیا تھا کہ صبح اُٹھے، فیکٹری جائے، مزدوری کرے اور رات کو تھکا ہارا واپس آ جائے۔ لیکن اس تھکن کے باوجود اُس کا دل کبھی سکون نہیں پاتا تھا۔ وہ ایک ایسا قیدی بن گیا تھا جسے زندگی کی جیل میں صرف وقت کاٹنا تھا۔

وہ اکثر اپنے دل میں کہتا:
"کچھ لوگ جیتے جی مر جاتے ہیں۔ باقی عمر صرف سانس لینے میں گزار دیتے ہیں۔"

روحان بھی انہی میں سے ایک تھا۔ اُس کی آنکھیں اب خواب نہیں دیکھتی تھیں۔ وہ قہقہے نہیں لگاتا تھا۔ اُس کی مسکراہٹ مصنوعی ہو چکی تھی، صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے۔ اندر سے وہ مکمل طور پر خالی تھا۔

دوست اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ گئے، بہنیں اپنے گھروں میں خوشی خوشی بس گئیں۔ لیکن روحان کا وجود جیسے ایک بوجھ بن گیا۔ وہ اکثر گلی کے نکڑ پر بیٹھا بچوں کو کھیلتے دیکھتا، اور سوچتا کہ کبھی وہ بھی اتنے ہی معصوم خواب دیکھتا تھا۔ لیکن وقت نے اُس کے خوابوں کو نوچ ڈالا تھا۔

کبھی کبھی وہ سوچتا کہ کاش اُس کے پاس بھی کوئی ایسا ہوتا جو اُس کی بات سنے، اُس کی خاموشیوں کو سمجھے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اُس کی باتیں سب کو بوجھ لگتیں۔ وہ آہستہ آہستہ سب سے الگ تھلگ ہو گیا۔ گھنٹوں خاموش بیٹھا رہتا، جیسے زندگی کے سفر سے تھک چکا ہو۔

اس کا انجام وہی ہوا جو اکثر ایسے لوگوں کا ہوتا ہے۔ زندہ رہا مگر جیتا نہ رہا۔ وہ سانس لیتا تھا، چلتا پھرتا تھا، کام کرتا تھا، لیکن اس کی روح کب کی مر چکی تھی۔ اُس کے خواب قبر کے اندھیروں میں دفن ہو گئے تھے اور باقی زندگی صرف جسم کی مشینری کو چلانے میں گزر گئی۔

"پاگل وہ نہیں جو ہنستا اور بولتا رہے، پاگل وہ ہے جو دوسروں کے درد کو سمجھنے سے انکار کر دے۔"

روحان کی کہانی پڑھنے والے کے دل میں یہی احساس جاگزیں ہوتا ہے کہ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو بظاہر زندہ ہیں مگر اندر سے ٹوٹ کر بکھر چکے ہیں۔ وہ مسکراتے ہیں، محنت کرتے ہیں، سب کے ساتھ رہتے ہیں، مگر اپنی زندگی کی اصل خوشیوں سے محروم رہتے ہیں۔

Written by: Kanza Imran Mughal

Sometimes life gives a person such pain that the soul keeps carrying it for centuries.
This was the sentence that perfectly described Rohaan’s life, as if it were a mirror of his existence.

Rohaan was the third son of his parents. His elder brother, Faraz, was known since childhood as intelligent and hardworking. The second brother, Bilal, was stubborn and short-tempered, and because of that he often gained their parents’ attention. There were also four sisters, whose demands and moods the parents had to tolerate. The family had many children, but little love and peace. The home always felt heavy with struggles and burdens.

Rohaan’s mother, Shagufta, was a woman who never took responsibility for her home. She was the youngest among her sisters, and because of this she never had to do housework before marriage. She had no habit of cleanliness, no skill in cooking, and no interest in running a household. After marriage, her ways remained the same. The home was often messy because she kept herself away from effort and responsibility.

Rohaan’s father, Saleem, was a simple but hardworking man. From morning till evening he worked for his children, and at the same time he cared for his old mother. Since Shagufta never helped her mother-in-law or managed household duties, this load also fell on Saleem. He not only earned money but also served his sick mother. In this way, he lived under constant double responsibilities.

Saleem loved his sisters very much, because he was their only brother. Their happiness meant everything to him, and they loved him dearly in return. But this love was like a thorn in Shagufta’s heart. She always felt that Saleem’s real priority was his mother and sisters, not her or her children. With time, this feeling created a deep emptiness inside her.

From childhood, Rohaan saw these bitter truths of life. Sometimes his mother’s carelessness, sometimes his father’s patience and hard work, and sometimes his father’s endless service to his grandmother. He often felt different from his siblings. He was not as intelligent as Faraz, not as stubborn as Bilal, and not as pampered as his sisters. He grew up in a middle state, like a stone in the middle of a river—neither carried away by the waves nor pulled by the shore.

Shagufta, his mother, was outwardly attractive but shallow-minded. She never had the insight needed to build a home. She was neither attached to household responsibilities nor interested in religious or worldly knowledge. She had no love for worship, no thirst for learning. If she had free time, she would either sit with neighborhood women for useless gossip, or waste hours dreaming about things far from reality.

She never saw home matters as her duty. Cooking tired her, cleaning annoyed her, and raising children felt like a burden. In matters of religion, she was ignorant; in worldly issues, she was careless. She believed that everything should run by itself, and if something failed, it was always the man’s fault, never the woman’s.

Under such a mother’s shadow, children—especially Rohaan—grew up in a constant emptiness. They never received the training that builds strong character, nor the love that gives peace to the heart. Rohaan silently broke inside, watching his mother’s indifference. Her heart was never connected to her home, nor to religion, nor even to the world around her.

Shagufta would often sigh and say, “Marriage never meant anything to me. This house has never felt like mine.”

Those words would echo in Rohan’s ears. He wondered: if his mother never accepted her home, what did that mean for her children? What kind of life were they supposed to build inside such walls? But he was too young to answer such questions. All he knew was that peace was missing, and love had no place.

The first tragedy arrived when Saleem’s mother fell ill and passed away. Her absence was like the collapse of a pillar. She had been the soul of the home, the one whose prayers bound the family. When she left, shadows spread across the household. Saleem’s eyes lost their brightness, carrying a hollow that nothing could ever fill.

Not long after, a deeper wound struck. Rohan’s younger brother, Anis, a five-year-old child full of innocence, grew pale and weak. At first, they thought it was fever, but soon the doctor spoke the cruel truth: leukemia. A fatal disease. A sentence on the child’s life.

Shagufta’s heart shattered. She would stroke Anis’s soft hair and whisper that he would get better, but her eyes betrayed her fear. The boy himself seemed to know. His small, trembling voice would ask, “Ammi… will I be alright?” She would hug him, hiding tears, saying, “Yes, my child, you will.” But even a child could hear the lack of conviction.

One day, the disease claimed him. The house fell silent as if death itself had pressed its cold hand against every wall. Where once there had been laughter and play, only sobs remained.

That loss crushed Shagufta’s spirit. She drifted away from faith, from her family, from her duties. She became a body without purpose, living yet not alive. Saleem, broken but resilient, took up the burden of raising the children alone. He became father and mother both, holding the family together by sheer will.

Yet Rohan was marked by this grief. He never recovered fully. He struggled in school, never matching Faraz’s brilliance. His father began to show pride only in the elder son, and toward Rohan there were only sighs and comparisons. “You will never be like your brother,” Saleem would often say. Each word was a knife sinking into Rohan’s young heart.

Still, Rohan worked hard in silence. When Saleem decided to build a new house, Rohan carried bricks, mixed cement, lifted sacks heavier than his thin frame could bear. His hands blistered, his back bent, his body drenched in sweat under the sun. Yet he never complained. He hoped one day his father would look at him with pride. That day never came. To Saleem, these efforts were just ordinary labor, not worth praise. His eyes always turned toward Faraz’s academic victories.

Time passed, and another wound opened. Rohan fell in love for the first time. The girl seemed like a ray of light in his darkened world. She laughed gently, spoke softly, and listened to his dreams. He believed she was his destiny, the one who would finally understand him. In his mind, he saw a home with her, a life of peace.

But love betrayed him. One day, she vanished, running away with another man.

The shock was unbearable. Rohan sat for hours in silence, replaying every memory, asking himself why he was never enough. His heart turned into an empty shell. He withdrew from people, choosing loneliness over gatherings. Nights passed with him staring at walls, tears rolling silently.

He thought he could escape the ghosts of his life by starting anew in Faisalabad. He begged his family for permission to move there for work. They resisted, but finally gave in. The city was dazzling with its busy streets and glowing markets, but for Rohan it was lonelier than ever. He searched for jobs, washing dishes at a hotel, selling clothes in a shop, lifting goods in a warehouse. Yet everywhere he was cheated, underpaid, taken advantage of. His innocence became his weakness.

Then came Ayesha. She spoke sweetly, smiled warmly, and filled his heart with hope again. She told him she loved him, that they could marry if only they had money to start their life together. Desperate for love, Rohan gave her all the savings he had scraped together with sweat and pain. Soon after, she disappeared. Another betrayal.

Rohan broke completely. He roamed the streets without aim, until one day he found himself in the courtyard of a shrine. He sat silently against the stone floor while around him people prayed, lit candles, and tied ribbons of hope. But Rohan prayed for nothing. His silence was louder than words. He sat there for days, staring blankly, until his family finally found him.

When his brother called his name, Rohan did not even respond. He was brought home like a shadow of himself—quiet, detached, staring into nothingness. Eventually, he was taken to a psychiatrist, where for the first time he wept openly. He spoke of betrayal, of being unwanted, of feeling like no one ever truly belonged to him. His words were broken, but his pain was clear.

Life did not ease after that. His sisters married and built their own lives. The house was filled with weddings, music, and celebration. Rohan sat quietly in a corner, watching, but inside his heart a storm raged. Whenever someone asked about his marriage, silence would fall. Everyone knew the answer: who would give their daughter to a boy with no money, no future?

At last, he found a job in a factory. Day after day, he worked among the roar of machines. His clothes soaked with sweat, his hands blackened by grease, his pockets nearly empty. He earned just enough to survive, but never enough to fill the emptiness in his soul. At night, he lay awake staring at the ceiling, asking himself if money truly defined a man, if character and kindness meant nothing at all.

His heart whispered again and again: Some people die while still alive. The rest of their days are nothing more than breathing.

Rohan was one of them. His eyes no longer dreamed, his smile no longer held warmth. To the world, he was just another worker. To himself, he was already a ghost. His friends moved on, his sisters lived happily, but he remained a man without a home inside his own skin.

He lived, but he never truly lived again. His dreams lay buried in the darkness, and his body only carried on because life demanded breath.

And so, Rohan’s story becomes more than his own. It is the story of countless souls who laugh, work, and walk among us, yet inside are broken beyond repair.


انا اور تم

میرا نام کنزا عمران مغل ۔ میں ایم فل انگلش لٹریچر کی اسکالر ، ایک محقق اور مصنفہ ۔ میرے لیے لکھنا صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک جنون ہے، جو مج...