اشاعتیں

بند دروازوں کا گھر

تصویر
   بند دروازوں کا گھر شہر کے پرانے حصے میں ایک گلی تھی جہاں شام جلدی اتر آتی تھی۔ گلی کے آخر میں ایک دو منزلہ مکان تھا، جس کے سبز دروازے پر زنگ لگی کنڈی لٹکتی رہتی۔ باہر سے دیکھنے میں وہ گھر عام سا تھا—نہ بہت غریب، نہ بہت خوش حال—مگر اندر قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے ہر دیوار کسی ادھوری بات کو اپنے اندر دفن کیے ہوئے ہے۔ اس گھر میں رشید صاحب رہتے تھے، ان کی بیوی ناہید بیگم، بیٹا ارسام اور بیٹی سحر۔ رشید صاحب محلے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ ان کی دنیا دکان، مسجد، چائے کا ہوٹل اور خاندان کی عزت کے گرد گھومتی تھی۔ ان کے نزدیک گھر چلانے کا مطلب تھا کہ گھر میں کوئی ان کی بات سے مختلف بات نہ کرے۔ وہ زیادہ چیختے نہیں تھے، مگر ان کی خاموشی بھی حکم ہوا کرتی تھی۔ ناہید بیگم نے اپنی ساری زندگی اسی خاموشی کے ساتھ گزار دی تھی۔ وہ کبھی کبھی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر گلی میں گزرتی لڑکیوں کو دیکھتی رہتیں—کسی کے ہاتھ میں کتاب ہوتی، کسی کے کندھے پر بیگ—اور پھر آہستہ سے اپنے دوپٹے کا پلو ٹھیک کر لیتیں، جیسے اپنے اندر کے کسی خواب کو بھی دوبارہ ڈھانپ رہی ہوں۔ سحر ان کی بیٹی تھی۔ وہ ابھی بیس سال کی بھ...

سکوتِ ازل To be continued

تصویر
                                                  سکوتِ ازل "کچھ خاموشیاں آواز سے زیادہ بلند ہوتی ہیں، اور کچھ لوگ بچھڑ کر بھی ہماری روح میں زندہ رہتے ہیں۔" "ہر انسان کے اندر ایک ایسا کمرہ ہوتا ہے جہاں وہ اپنی سب سے قیمتی یادیں دفن کر دیتا ہے، مگر وقت ان قبروں پر کبھی مٹی نہیں ڈال پاتا ۔" بارش کی بوندیں حویلی کی قدیم کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ آسمان پر بادل اس طرح پھیلے ہوئے تھے جیسے کسی نے نیلگوں چادر پر سیاہی انڈیل دی ہو۔ شہرِ نوراں ہمیشہ سے عجیب تھا۔ یہ وہ شہر تھا جہاں لوگ زندہ تو تھے مگر ان کی آنکھوں میں خواب نہیں بستے تھے۔ جہاں شامیں ضرورت سے زیادہ خاموش اور راتیں ضرورت سے زیادہ لمبی ہوتی تھیں۔ زمرّد آزر کھڑکی کے قریب بیٹھی باہر گرتی بارش کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں چمڑے کی جلد والی ایک پرانی ڈائری تھی۔ یہ ڈائری اسے اپنی مرحوم نانی کے صندوق سے ملی تھی۔ نانی نے مرنے سے چند دن پہلے صرف ایک بات کہی تھی: "جب وقت تمہیں اس نام تک لے جائے تو ڈرنا مت۔" تب زمرّد ...