بند دروازوں کا گھر
بند دروازوں کا گھر شہر کے پرانے حصے میں ایک گلی تھی جہاں شام جلدی اتر آتی تھی۔ گلی کے آخر میں ایک دو منزلہ مکان تھا، جس کے سبز دروازے پر زنگ لگی کنڈی لٹکتی رہتی۔ باہر سے دیکھنے میں وہ گھر عام سا تھا—نہ بہت غریب، نہ بہت خوش حال—مگر اندر قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے ہر دیوار کسی ادھوری بات کو اپنے اندر دفن کیے ہوئے ہے۔ اس گھر میں رشید صاحب رہتے تھے، ان کی بیوی ناہید بیگم، بیٹا ارسام اور بیٹی سحر۔ رشید صاحب محلے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ ان کی دنیا دکان، مسجد، چائے کا ہوٹل اور خاندان کی عزت کے گرد گھومتی تھی۔ ان کے نزدیک گھر چلانے کا مطلب تھا کہ گھر میں کوئی ان کی بات سے مختلف بات نہ کرے۔ وہ زیادہ چیختے نہیں تھے، مگر ان کی خاموشی بھی حکم ہوا کرتی تھی۔ ناہید بیگم نے اپنی ساری زندگی اسی خاموشی کے ساتھ گزار دی تھی۔ وہ کبھی کبھی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر گلی میں گزرتی لڑکیوں کو دیکھتی رہتیں—کسی کے ہاتھ میں کتاب ہوتی، کسی کے کندھے پر بیگ—اور پھر آہستہ سے اپنے دوپٹے کا پلو ٹھیک کر لیتیں، جیسے اپنے اندر کے کسی خواب کو بھی دوبارہ ڈھانپ رہی ہوں۔ سحر ان کی بیٹی تھی۔ وہ ابھی بیس سال کی بھ...