بند دروازوں کا گھر
بند دروازوں کا گھر
شہر کے پرانے حصے میں ایک گلی تھی جہاں شام جلدی اتر آتی تھی۔ گلی کے آخر میں ایک دو منزلہ مکان تھا، جس کے سبز دروازے پر زنگ لگی کنڈی لٹکتی رہتی۔ باہر سے دیکھنے میں وہ گھر عام سا تھا—نہ بہت غریب، نہ بہت خوش حال—مگر اندر قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے ہر دیوار کسی ادھوری بات کو اپنے اندر دفن کیے ہوئے ہے۔
اس گھر میں رشید صاحب رہتے تھے، ان کی بیوی ناہید بیگم، بیٹا ارسام اور بیٹی سحر۔
رشید صاحب محلے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ ان کی دنیا دکان، مسجد، چائے کا ہوٹل اور خاندان کی عزت کے گرد گھومتی تھی۔ ان کے نزدیک گھر چلانے کا مطلب تھا کہ گھر میں کوئی ان کی بات سے مختلف بات نہ کرے۔ وہ زیادہ چیختے نہیں تھے، مگر ان کی خاموشی بھی حکم ہوا کرتی تھی۔
ناہید بیگم نے اپنی ساری زندگی اسی خاموشی کے ساتھ گزار دی تھی۔ وہ کبھی کبھی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر گلی میں گزرتی لڑکیوں کو دیکھتی رہتیں—کسی کے ہاتھ میں کتاب ہوتی، کسی کے کندھے پر بیگ—اور پھر آہستہ سے اپنے دوپٹے کا پلو ٹھیک کر لیتیں، جیسے اپنے اندر کے کسی خواب کو بھی دوبارہ ڈھانپ رہی ہوں۔
سحر ان کی بیٹی تھی۔ وہ ابھی بیس سال کی بھی نہیں ہوئی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں عمر سے زیادہ سوال تھے۔ اسے پڑھنے کا شوق تھا، مگر رشید صاحب کے نزدیک لڑکی کی تعلیم اتنی ہی ہونی چاہیے تھی کہ وہ “اچھے گھر” میں بات کر سکے۔
اور ارسام…
ارسا م اس گھر کا واحد بیٹا تھا، اس لیے اس کی ہر خواہش کو خواہش نہیں، ضرورت سمجھا جاتا تھا۔ وہ شہر کی ایک یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کا طالب علم تھا۔ صاف ستھرے کپڑے، ہاتھ میں مہنگا فون، بالوں میں ہلکی سی ترتیب اور بات کرنے کا ایسا انداز کہ سامنے والا فوراً متاثر ہو جائے۔
یونیورسٹی میں وہ سب کے لیے ایک خوش اخلاق، مددگار اور پُراعتماد لڑکا تھا۔ وہ کلاس میں دوسروں کے نوٹس شیئر کرتا، دوستوں کو اسائنمنٹ میں مدد دیتا، اور ہر تقریب میں سب سے پہلے پہنچتا۔ اس کے دوست کہتے تھے کہ ارسام میں “لیڈرشپ” ہے۔
مگر ارسام کو دوسروں کی مدد کرنے سے زیادہ یہ اچھا لگتا تھا کہ لوگ اس کے احسان کو یاد رکھیں۔
اسے پسند تھا کہ اس کے دوست اس سے مشورہ کریں، اس کی بات کو اہم سمجھیں، اور اس کی تعریف کریں۔ جب کوئی اس کی بات سے اختلاف کرتا تو وہ فوراً ناراض نہیں ہوتا۔ وہ مسکرا دیتا، بات بدل دیتا، لیکن اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے ایسی سختی آتی جسے صرف بہت غور سے دیکھنے والا محسوس کر سکتا تھا۔
اس شام یونیورسٹی سے واپس آ کر وہ صحن میں بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا اور فون کی اسکرین پر کسی کا پیغام روشن تھا۔
“ارسا م، کل تم نے کہا تھا کہ تم گھر والوں سے بات کرو گے۔ کیا تم نے کی؟”
ارسا م نے پیغام پڑھا، پھر فون الٹا کر کے میز پر رکھ دیا۔
ناہید بیگم کے چہرے پر ہلکی سی ناگواری آئی۔
“لڑکیوں کو اتنے سوال نہیں کرنے چاہییں۔ جو لڑکی زیادہ بولتی ہے، وہ گھر کا سکون کھا جاتی ہے۔”
سحر کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی یہ بات سن رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، مگر اس کی نظریں کتاب پر نہیں، اپنے بھائی کے چہرے پر تھیں۔
وہ جانتی تھی کہ ارسام جب “سمجھانا” کہتا ہے تو اس کا مطلب صرف بات کرنا نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب ہوتا ہے کسی کو اتنا الجھا دینا کہ وہ آخر میں خود کو ہی غلط سمجھنے لگے۔
ارسا م نے پہلی بار فون دوبارہ اٹھایا۔ اسکرین پر المیرا کی تصویر تھی—سادہ لباس، ہاتھ میں کتاب، اور چہرے پر ایک ایسی سنجیدگی جو اسے دوسروں سے مختلف بناتی تھی۔
“پڑھی لکھی ہے،” ارسام نے کہا، “مگر زیادہ چالاک نہیں۔ گھر والے بھی سیدھے ہیں۔ باپ کی طبیعت کمزور رہتی ہے، ماں اکیلی سب سنبھالتی ہے۔”
“اور اگر اس نے انکار کر دیا؟” سحر کے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔
صحن میں ایک لمحے کو خاموشی پھیل گئی۔
ارسا م نے بہن کی طرف دیکھا۔ اس کی مسکراہٹ وہی تھی، مگر آنکھیں بدل گئی تھیں۔
رشید صاحب نے سر ہلایا، جیسے یہ کوئی عام سی سمجھ داری کی بات ہو۔
“بیٹا، گھر بسانے کے لیے لڑکی کو اپنے گھر کے مطابق ڈھلنا ہی پڑتا ہے۔”
ارسا م نے نظریں جھکا لیں، مگر اس کے اندر ایک فیصلہ پہلے ہی بن چکا تھا۔
وہ المیرا سے محبت کے نام پر وعدے کرے گا، نکاح کے خواب دکھائے گا، اس کے خوف کو اپنے اعتماد سے باندھے گا، اور پھر اسے آہستہ آہستہ اس گھر کی ضرورتوں کے مطابق ڈھال دے گا۔
وہ اسے صرف اپنی بیوی نہیں بنانا چاہتا تھا۔
وہ اسے اس گھر کی خاموش دیوار بنانا چاہتا تھا—ایسی دیوار جو ہر بوجھ سہے، ہر بات پر چپ رہے، اور جس پر ضرورت پڑنے پر پورا گھر اپنا وزن رکھ دے۔
رات گہری ہوئی تو گھر کے سب لوگ سو گئے، مگر سحر کی آنکھوں سے نیند دور تھی۔
اس نے اپنی ڈائری کھولی اور لکھا:
اسی وقت ارسام کے فون پر ایک اور پیغام آیا۔
“میں تم پر بھروسہ کرتی ہوں، ارسام۔”
اس نے اسکرین کو چند لمحے دیکھا۔
پھر آہستہ سے مسکرایا۔
اور گھر کی سبز کنڈی والی دیواروں کے اندر، ایک کہانی نے خاموشی سے سانس لینا شروع کر دیا۔
المیرا کے گھر میں صبحیں جلدی جاگتی تھیں۔
فجر کے بعد زینب بیگم صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرتیں، پھر چولہے پر چائے رکھ دیتیں۔ ان کے گھر کی چھت چھوٹی تھی، دیواروں پر وقت کے نشان تھے، مگر وہاں ایک عجیب سا سکون تھا۔ ایسا سکون جس میں کوئی کسی کی سانسوں پر پہرہ نہیں دیتا تھا۔
المیرا کھڑکی کے پاس بیٹھی اپنی کتاب کھولے ہوئے تھی، مگر اس کی نظریں صفحوں پر نہیں ٹھہر رہی تھیں۔
فون اس کے ہاتھ میں تھا۔
ارسا م کا پیغام سامنے تھا:
“تم نے ناشتا کر لیا؟ اپنے لیے وقت نکال لیا کرو۔ تم بہت تھک جاتی ہو۔”
المیرا کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
وہ ہمیشہ اس بات پر حیران ہوتی تھی کہ ارسام کو اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں کیسے یاد رہتی ہیں۔ اس کے امتحان کی تاریخ، اس کی پسندیدہ چائے، اس کی ماں کی دوا، حتیٰ کہ وہ دن بھی جب المیرا کو اکثر سر درد رہتا تھا۔
اسے لگتا تھا جیسے کوئی پہلی بار اسے اتنی توجہ سے دیکھ رہا ہے۔
اس نے جواب لکھا:
“آپ کو کیسے پتا کہ میں تھکی ہوئی ہوں؟”
کچھ لمحوں بعد جواب آیا:
“کیونکہ میں تمہیں سمجھتا ہوں، المیرا۔ تمہیں ہر چیز اکیلے سنبھالنے کی عادت ہے۔ اب تم اکیلی نہیں ہو۔”
یہ جملہ پڑھ کر المیرا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ واقعی بہت کچھ اکیلے سنبھالتی تھی۔ اس کے والد، جمیل صاحب، کئی سال سے بیمار رہتے تھے۔ کبھی ان کی دوائی، کبھی گھر کا خرچ، کبھی چھوٹے بھائی حمزہ کی فیس—گھر کی ضرورتیں اکثر زینب بیگم اور المیرا کے کندھوں پر آ گرتی تھیں۔
المیرا نے اپنی پڑھائی کے ساتھ بچوں کو ٹیوشن دینا شروع کر دیا تھا۔ شام کو محلے کی چند لڑکیاں اس کے پاس آتیں، اور وہ انہیں انگریزی اور اردو پڑھاتی۔
ارسا م کو یہ سب معلوم تھا۔
اور وہ ہر بار المیرا کی ذمہ داریوں کو دیکھ کر اسے “مضبوط” کہتا تھا۔
“تم جیسی لڑکی ہی گھر سنبھال سکتی ہے،” وہ اکثر کہتا۔
المیرا یہ نہیں سمجھ پاتی تھی کہ اس جملے میں تعریف کتنی تھی اور ضرورت کتنی۔
دوپہر کے وقت ارسام یونیورسٹی کی کینٹین میں اپنے دوست سعد کے ساتھ بیٹھا تھا۔
“تو گھر میں بات کرو۔ تم تو کہتے تھے تمہیں شادی وغیرہ کا شوق نہیں۔”
“کیسے؟”
ارسا م نے فون پر المیرا کا آخری پیغام دیکھا۔
“امی کی دوا ختم ہو گئی ہے، آج شام لے آؤں گی۔”
اسی شام ارسام المیرا کے ٹیوشن سینٹر کے باہر آیا۔
وہ پہلی بار اس کے لیے دوا کا پیکٹ لایا تھا۔ المیرا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ کو یاد تھا؟”
“یہ زحمت نہیں، المیرا۔ میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ نکاح کے بعد تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز میں اتنی یقین دہانی تھی کہ المیرا نے اپنے اندر اٹھتے ہوئے ہر سوال کو خاموش کر دیا۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ بعض وعدے روشنی نہیں ہوتے۔
وہ روشنی کا ایسا دھوکا ہوتے ہیں جس کے پیچھے راستہ آہستہ آہستہ تاریک ہوتا جاتا ہے۔
گھر واپس آ کر المیرا نے دوا زینب بیگم کے ہاتھ میں دی۔
زینب بیگم نے پیکٹ پر لکھی دکان کا نام دیکھا، پھر بیٹی کو غور سے دیکھا۔
“یہ دوا تم لائی ہو؟”
المیرا نے ایک لمحہ توقف کیا۔
“ارسا م لائے تھے۔”
زینب بیگم کے ہاتھ رک گئے۔
“وہ لڑکا؟”
المیرا نے دھیرے سے سر ہلا دیا۔
ماں نے کوئی سخت بات نہیں کی۔ انہوں نے صرف چائے کا کپ رکھا اور بیٹی کے قریب بیٹھ گئیں۔
“بیٹی، جو شخص تمہاری ضرورتوں کو اتنی جلدی اپنی ذمہ داری بنا لے، اس کی نیت کو وقت کے ساتھ ضرور دیکھنا۔ ہر مدد محبت نہیں ہوتی۔ بعض لوگ مدد کے ذریعے انسان کو اپنے احسان کے نیچے دبا دیتے ہیں۔”
المیرا نے ماں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
“امی، وہ اچھے ہیں۔ وہ نکاح کی بات کرتے ہیں۔”
زینب بیگم کی نظریں دور کہیں ٹھہر گئیں۔
“نکاح کا نام لینا آسان ہوتا ہے، بیٹی۔ نکاح کا حق ادا کرنا مشکل ہوتا ہے۔”
المیرا خاموش ہو گئی۔
اس رات ارسام نے اسے کال کی۔
“تمہاری امی نے کچھ کہا؟”
“نہیں، بس… وہ فکر کرتی ہیں۔”
ارسا م کے لہجے میں نرمی برقرار رہی، مگر الفاظ میں ایک باریک سا شکوہ آ گیا۔
“تمہاری امی کو مجھ پر بھروسا نہیں؟ میں تمہارے لیے اتنا کچھ کر رہا ہوں، المیرا۔ میں نے کبھی تمہیں اکیلا سمجھا ہی نہیں۔”
ارسا م خاموش رہا۔
المیرا کے دل میں فوراً نرمی اتر آئی۔
“میں آپ کو نہیں چھوڑوں گی۔”
فون کے دوسری طرف ارسام نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس کے چہرے پر سکون تھا۔
کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ایک انسان کو قابو میں لینے کے لیے ہمیشہ دھمکی نہیں چاہیے ہوتی۔
کبھی کبھی صرف یہ احساس کافی ہوتا ہے کہ اگر تم چلے گئے تو سامنے والا ٹوٹ جائے گا۔
المیرا کے گھر میں اس دن غیر معمولی خاموشی تھی۔
زینب بیگم نے دوپہر سے پہلے ہی سالن چڑھا دیا تھا، حالانکہ گھر میں کوئی مہمان نہیں آنا تھا۔ جمیل صاحب اپنے کمرے میں لیٹے تھے اور کھانسی کے وقفوں میں تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ حمزہ کتاب کھولے بیٹھا تھا، مگر اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف چلی جاتی تھیں۔
المیرا نے صبح سے تین بار فون دیکھا تھا۔
ارسا م نے کہا تھا کہ آج وہ اپنے گھر میں اس کے بارے میں بات کرے گا۔
پانچ برس کے وعدوں میں یہ پہلا دن تھا جب اسے لگا کہ شاید اب بات لفظوں سے نکل کر حقیقت بننے والی ہے۔
شام ڈھلنے لگی تو اس کا فون بجا۔
“السلام علیکم…” المیرا کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔
“وعلیکم السلام،” ارسام کی آواز غیر معمولی طور پر نرم تھی۔ “میں نے گھر میں بات کر لی ہے۔”
المیرا نے سانس روک لی۔
“کیا کہا انہوں نے؟”
“اور؟”
“اور یہ کہ تم ہی ہو جس سے میں نکاح کرنا چاہتا ہوں۔”
المیرا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی میں بچوں کی آوازیں تھیں، آسمان پر شام کی ہلکی سی سرخی تھی، اور اسے پہلی بار لگا جیسے زندگی اس کے لیے بھی کوئی دروازہ کھول رہی ہے۔
“ارسا م… واقعی؟”
“ہاں،” وہ ہلکا سا ہنسا۔ “میں نے کہہ دیا ہے کہ اگر شادی ہوگی تو تم سے ہوگی۔”
المیرا نے فون کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ کچھ فیصلے محبت میں نہیں کیے جاتے۔
کچھ فیصلے کسی کو اپنے اختیار میں لانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
اسی شام ارسام کے گھر میں سب لوگ صحن میں بیٹھے تھے۔
“نہیں، ابو،” ارسام نے فوراً جواب دیا۔ “وہ لوگ سیدھے ہیں۔ المیرا خود بھی بہت سمجھ دار ہے۔”
ناہید بیگم نے سوالیہ انداز میں دیکھا۔
“سمجھ دار ہے یا اپنی مرضی والی؟”
رشید صاحب نے سر ہلایا۔
“لڑکی کو گھر میں آ کر ہی پتا چلتا ہے کہ گھر کیسے چلتا ہے۔”
سحر صحن کے ایک کونے میں بیٹھی کپڑوں پر کڑھائی کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ چل رہے تھے، مگر کان ہر لفظ سن رہے تھے۔
“بہو کو صرف گھر نہیں، حالات بھی سنبھالنے پڑتے ہیں،” رشید صاحب نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
ارسا م نے خاموشی سے سر جھکا دیا، مگر اس کے ذہن میں المیرا کا چہرہ تھا۔
اسے المیرا کی نرمی پسند تھی، مگر اس سے زیادہ اس کی برداشت۔
اسے اس کی محبت اچھی لگتی تھی، مگر اس سے زیادہ یہ یقین کہ المیرا اسے کھونے سے ڈرتی ہے۔
وہ چاہتا تھا کہ المیرا اس کے گھر میں آئے، اپنے خوابوں کے ساتھ نہیں—اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ۔
وہ چاہتا تھا کہ وہ ہر مشکل میں اس کے ساتھ کھڑی ہو، ہر خرچ میں ہاتھ بٹائے، ہر بات پر سمجھوتا کرے، اور پھر بھی اسے محبت کا نام دے۔
“بس ایک بات ہے،” ناہید بیگم نے کہا، “بہو ہمارے گھر کے طریقے کے مطابق ہونی چاہیے۔ ہمیں روز روز کی بحث نہیں چاہیے۔”
سحر کے ہاتھ سے سوئی گر گئی۔
اس نے نظریں اٹھا کر بھائی کو دیکھا۔ ارسام کے چہرے پر سکون تھا، جیسے وہ کسی انسان کے ساتھ زندگی نہیں، کسی چیز کے ساتھ منصوبہ بنا رہا ہو۔
رات کو المیرا نے اپنی ڈائری کھولی۔
اس نے لکھا:
پھر اس نے قلم روک لیا۔
دل کے کسی خاموش گوشے میں ایک سوال نے سر اٹھایا:
“مگر اگر مستقبل میں جگہ دینے والا شخص تمہیں تمہاری جگہ پر نہ رہنے دے تو؟”
المیرا نے فوراً وہ سوال کاٹ دیا۔
اسے یقین تھا کہ ارسام اس کا مستقبل ہے۔
اور ارسام کو یقین تھا کہ المیرا اس کے گھر کی ضرورت ہے۔
ارسا م کے گھر میں المیرا کا نام اب صرف ایک نام نہیں رہا تھا۔
وہ ایک امکان بن چکا تھا۔
ناہید بیگم کبھی اس کے بارے میں پوچھتیں کہ وہ کتنا کماتی ہے، گھر میں کتنے لوگ ہیں، والد کی بیماری کتنی پرانی ہے، اور اس کی ماں اکیلے گھر کیسے چلاتی ہیں۔ رشید صاحب زیادہ سوال نہیں کرتے تھے، مگر جب بھی ارسام المیرا کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتا، ان کے چہرے پر ایک اطمینان سا آ جاتا۔
انہیں ایسی بہو چاہیے تھی جو مشکل میں گھبرا نہ جائے۔
یا شاید انہیں ایسی بہو چاہیے تھی جو مشکل کو اپنی قسمت سمجھ کر برداشت کرتی رہے۔
ایک شام ارسام نے المیرا کو یونیورسٹی کے قریب ایک چھوٹے سے کیفے میں بلایا۔
المیرا ہلکے نیلے دوپٹے میں آئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں نوٹس تھے، کیونکہ وہ وہاں سے سیدھا ٹیوشن پڑھانے جانے والی تھی۔
المیرا مسکرا دی۔
“گھر کے کام، ٹیوشن، امی کی دوا، حمزہ کی فیس… سب کو وقت دینا ہوتا ہے۔”
ارسا م نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔
“نکاح کے بعد تمہیں اتنی بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑے گی۔ میں ہوں نا۔”
المیرا کے دل میں ایک نرم سی روشنی پھیل گئی۔
“آپ واقعی گھر میں بات کر رہے ہیں نا؟”
ارسا م نے اس کے سوال پر فوراً جواب نہیں دیا۔ اس نے میز پر رکھا چمچ گھمایا، پھر بولا:
“میں نے بات کی ہے، مگر امی ابو کو کچھ خدشات ہیں۔”
المیرا کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
“کس بات کے؟”
“وہ چاہتے ہیں کہ تم پہلے ان سے ملو۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم ہمارے گھر کے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کر سکو گی یا نہیں۔”
ارسا م نے فوراً اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
“مجھے معلوم تھا تم سمجھو گی۔ اسی لیے تو میں نے تمہیں چنا ہے۔”
یہ جملہ المیرا کے لیے محبت تھا۔
مگر ارسام کے لیے ایک اطمینان۔
اگلے اتوار المیرا اپنی ماں کے ساتھ ارسام کے گھر گئی۔
سبز دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا۔ صحن میں خاموشی تھی، مگر وہ پرسکون خاموشی نہیں تھی جو اس کے اپنے گھر میں ہوتی تھی۔ یہ ایسی خاموشی تھی جس میں ہر شخص دوسرے کے الفاظ کا وزن تول رہا ہو۔
ناہید بیگم نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں بٹھایا۔
“بیٹی، تم پڑھتی بھی ہو اور ٹیوشن بھی دیتی ہو؟”
“جی،” المیرا نے ادب سے جواب دیا۔
“اچھا ہے۔ آج کل لڑکی کو سمجھ دار ہونا چاہیے۔ گھر کے حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔”
زینب بیگم نے بیٹی کی طرف دیکھا، مگر کچھ نہ بولیں۔
“جی، بنیادی چیزیں آتی ہیں۔ امی سے سیکھتی رہتی ہوں۔”
المیرا نے دھیرے سے سر ہلا دیا۔
المیرا ایک لمحے کو چونکی۔
“جی… میں باقاعدہ ملازمت نہیں کرتی، بس ٹیوشن—”
“مطلب کچھ نہ کچھ آ جاتا ہوگا؟” ناہید بیگم نے اس کی بات کاٹ دی۔ “اچھی بات ہے۔ لڑکی کو ہاتھ بٹانا آنا چاہیے۔”
ارسا م قریب ہی بیٹھا تھا۔ اس نے ایک بار بھی ماں کو نہیں روکا۔
واپسی پر زینب بیگم بہت دیر تک خاموش رہیں۔
زینب بیگم نے بیٹی کی طرف دیکھا۔
“فکر اور فائدہ دیکھنے میں فرق ہوتا ہے۔”
المیرا کے پاس جواب نہیں تھا۔
رات کو ارسام نے اسے کال کی۔
“امی نے تمہیں پسند کیا ہے،” اس نے کہا۔
المیرا کی سانس ہلکی ہوئی۔
“واقعی؟”
“ہاں، بس وہ چاہتی ہیں کہ تم کچھ چیزوں کو سمجھو۔”
“کون سی چیزیں؟”
ارسا م کی آواز نرم تھی، مگر اس نرمی میں ایک شرط چھپی ہوئی تھی۔
“میرے گھر میں لڑکی کو اپنے گھر سے زیادہ اپنے سسرال کو ترجیح دینی پڑتی ہے۔ امی چاہتی ہیں کہ نکاح کے بعد تم ٹیوشن وغیرہ کم کر دو، گھر کو وقت دو۔ اور اگر کبھی گھر کے حالات کی وجہ سے ضرورت پڑے تو… تم ساتھ دو گی نا؟”
المیرا خاموش ہو گئی۔
اسے اپنے والد کی دوائیں، حمزہ کی فیس، ماں کی تھکی ہوئی آنکھیں یاد آئیں۔
“میں اپنے گھر کو کیسے چھوڑ دوں گی، ارسام؟”
فون کے دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی رہی۔
المیرا کے دل میں پہلی بار ایک بے نام سا خوف اترا۔
“اور اگر میں سب نہ کر سکی تو؟”
المیرا نے فون بند کیا تو اس کے ہاتھ ٹھنڈے تھے۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
رات بالکل خاموش تھی۔
مگر اس خاموشی میں اسے اپنی ماں کی ایک پرانی بات یاد آئی:
“بیٹی، جو رشتہ شروع ہی شرطوں سے ہو، وہاں محبت کو سانس لینے کی جگہ بہت کم ملتی ہے۔”
المیرا نے اس رات بہت دیر تک نیند کا انتظار کیا، مگر نیند اس کے کمرے کے دروازے تک آ کر جیسے واپس چلی گئی۔
فون اس کے تکیے کے پاس رکھا تھا۔ ارسام کے آخری الفاظ اب بھی اس کے ذہن میں گونج رہے تھے:
“تم بہت مضبوط ہو… تم دباؤ میں بھی گھر سنبھال لیتی ہو۔”
کبھی یہ جملہ اسے تعریف لگتا تھا۔
آج اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے کندھوں پر ایک ایسا بوجھ رکھ دیا ہو جس کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہو کہ وہ اسے اٹھا لے گی۔
صبح زینب بیگم نے اس کے چہرے کی تھکن دیکھ لی۔
“رات بھر جاگتی رہی ہو؟”
المیرا نے چائے کے کپ پر نظریں جمائے رکھیں۔
“امی… اگر نکاح کے بعد میں اپنے گھر کی مدد کرتی رہوں تو کیا یہ غلط ہوگا؟”
زینب بیگم کے ہاتھ رک گئے۔
“غلط تب ہوتا ہے، بیٹی، جب کسی کے حق پر ظلم ہو۔ اپنے بیمار باپ، اپنے بھائی اور اپنی ماں کی فکر کرنا ظلم نہیں۔ مگر جو شخص تمہیں تمہارے اپنوں سے کاٹ کر اپنا بنانا چاہے، وہ محبت نہیں مانگ رہا ہوتا… وہ اختیار مانگ رہا ہوتا ہے۔”
زینب بیگم کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“نکاح کے بعد عورت کا ایک گھر بڑھتا ہے، ختم نہیں ہوتا۔”
یہ بات المیرا کے دل میں کہیں گہری اتر گئی۔
اسی شام ارسام نے اسے یونیورسٹی کے باہر ملنے کو کہا۔
وہ پہلے کی طرح خوش مزاج نظر آ رہا تھا۔ ہاتھ میں کافی تھی اور چہرے پر وہی مانوس سی مسکراہٹ۔
“تم ناراض ہو؟” اس نے پوچھا۔
“نہیں۔ بس سوچ رہی تھی۔”
“کس بارے میں؟”
المیرا نے ہمت جمع کی۔
“میں ٹیوشن نہیں چھوڑنا چاہتی۔ ابو کی دوائیں ہیں، حمزہ کی فیس ہے… اور میں اپنے گھر کی مدد کرتی رہنا چاہتی ہوں۔”
ارسا م کے چہرے سے مسکراہٹ فوراً نہیں گئی۔
مگر اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے سردی اتر آئی۔
“میں نے کب کہا کہ تم اپنے گھر کی مدد نہ کرو؟”
“آپ نے کہا تھا کہ نکاح کے بعد مجھے سب سے پہلے آپ کے گھر کو ترجیح دینی ہوگی۔”
“تو غلط کہا تھا؟”
ارسا م نے کافی کا کپ میز پر رکھا۔
“المیرا، میں تم سے کوئی غیر ضروری بات نہیں کر رہا۔ میرے گھر کے حالات تم جانتی ہو۔ ابو کی دکان کبھی چلتی ہے، کبھی نہیں۔ سحر کی شادی بھی کرنی ہے۔ امی کی طبیعت بھی رہتی ہے۔ تم اگر تھوڑا ساتھ دے دو گی تو کیا فرق پڑ جائے گا؟”
المیرا نے اس کی طرف دیکھا۔
“ساتھ دینا اور اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ دینا ایک جیسی بات نہیں ہوتی، ارسام۔”
یہ جملہ سن کر ارسام خاموش ہو گیا۔
المیرا گھبرا گئی۔
“میں نے ایسا نہیں کہا۔”
“مگر تمہاری بات کا مطلب یہی ہے۔ میں نے تمہیں اپنے گھر میں شامل کیا، امی ابو سے لڑا، تمہارے لیے سب کے سامنے بات کی… اور اب تم مجھ پر شک کر رہی ہو۔”
اس کی آواز میں دکھ تھا۔
اتنا دکھ کہ المیرا کا اپنا سوال اسے بے رحمی لگنے لگا۔
“میں شک نہیں کر رہی،” اس نے فوراً کہا۔ “میں بس چاہتی ہوں کہ میری بات بھی سنی جائے۔”
ارسا م نے گہری سانس لی۔
“تمہاری ہر بات سنی جائے گی۔ مگر رشتہ تب چلتا ہے جب لڑکی قربانی دینا جانتی ہو۔”
المیرا نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔
“اور لڑکا؟”
ارسا م چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
المیرا کو اس جملے میں صرف بات نہیں، ایک دیوار محسوس ہوئی۔
وہ واپس گھر آ گئی، مگر اس کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔
پہلے وہ ہر اختلاف کے بعد خود کو سمجھاتی تھی کہ ارسام تھکا ہوا ہوگا، پریشان ہوگا، حالات کے دباؤ میں ہوگا۔
مگر آج اس نے سوچا:
اگر میری رائے ہر بار مسئلہ بن جائے، تو کیا میں اس رشتے میں کبھی خود رہ سکوں گی؟
رات کو اس کا فون بجا۔
ارسا م کی کال تھی۔
اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف اس کی آواز نرم تھی۔
“مجھے معاف کر دو۔ میں آج تھوڑا سخت بول گیا۔ تم جانتی ہو نا، میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔”
المیرا خاموش رہی۔
اس کے الفاظ میں محبت تھی۔
یا شاید محبت جیسی آواز۔
المیرا نے آنکھیں بند کر لیں۔
“میں بھی آپ کو کھونا نہیں چاہتی،” اس نے آہستہ سے کہا۔
فون کے دوسری طرف ارسام نے سکون کا سانس لیا۔
کیونکہ المیرا نے اس سے اختلاف ضرور کیا تھا—
مگر ابھی اس نے خود کو اس کے اختیار سے آزاد نہیں کیا تھا۔
اگلے چند ہفتوں میں ارسام بدل گیا—یا شاید پہلی بار المیرا کو اس کا بدلنا نظر آنے لگا۔
پہلے وہ ہر صبح پیغام بھیجتا تھا۔
“اٹھ گئیں؟ ناشتہ کیا؟ آج خود کو تھکانا مت۔”
اب بعض دن دوپہر گزر جاتی اور اس کی طرف سے کوئی خبر نہ آتی۔
جب المیرا پوچھتی، تو جواب مختصر ہوتا:
“مصروف ہوں۔ ہر وقت فون پر نہیں رہ سکتا۔”
یہی جملہ چند ہفتے پہلے ارسام کی زبان پر نہیں آتا تھا۔ تب وہ کہتا تھا کہ المیرا اس کی ترجیح ہے، اس کی دعا ہے، اس کا مستقبل ہے۔
اب اس کی خاموشی سزا بننے لگی تھی۔
اور یہی سوچ ارسام چاہتا تھا۔
یونیورسٹی میں اس دن ایک پریزنٹیشن تھی۔ المیرا نے اپنی کلاس فیلو عائشہ کے ساتھ مل کر تیاری کی تھی۔ عائشہ وہ لڑکی تھی جو المیرا کو خاموش دیکھ کر بھی سمجھ جاتی تھی۔
پریزنٹیشن کے بعد دونوں کینٹین میں بیٹھی تھیں کہ ارسام وہاں آ گیا۔
اس نے المیرا کو دیکھا، پھر عائشہ کو، اور اس کے چہرے پر ایک لمحے کو ناگواری ابھری۔
“تم یہاں ہو؟” اس نے المیرا سے پوچھا۔
“ہاں، پریزنٹیشن تھی۔ عائشہ کے ساتھ تیاری کر رہی تھی۔”
عائشہ چونک گئی۔
“آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”
المیرا کے ہاتھ میں پکڑا کپ کانپ گیا۔
عائشہ نے اس کی طرف دیکھا، مگر المیرا نے نظریں جھکا لیں۔
ارسا م نے سب کے سامنے عائشہ کو نہیں، المیرا کو پیغام دیا تھا۔
وہ بتا رہا تھا کہ اس کے قریب رہنے والے لوگ بھی اس کی مرضی کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔
شام کو ارسام نے المیرا کو کال کی۔
اس کی آواز بالکل بدل چکی تھی۔
“تم نے عائشہ کو میرے بارے میں کیا بتایا ہے؟”
“کچھ نہیں، ارسام۔”
“وہ مجھے دیکھ کر ایسے کیوں بول رہی تھی؟”
“وہ صرف—”
“تم ہمیشہ اسے بچاتی ہو!” ارسام کی آواز بلند ہو گئی۔ “تمہیں پتا ہے نا مجھے ایسے لوگ پسند نہیں جو ہمارے درمیان آتے ہیں؟”
المیرا خاموش رہی۔
“کل سے اس سے کم بات کرنا۔ میں نہیں چاہتا وہ تمہارے دماغ میں فضول باتیں ڈالے۔”
ارسا م کی آواز اچانک ٹھنڈی ہو گئی۔
“ٹھیک ہے۔ پھر اسی سے اپنا خیال رکھوا لینا۔”
اور اس نے کال کاٹ دی۔
تین دن تک ارسام نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
المیرا نے کئی بار پیغام لکھا، پھر مٹا دیا۔ اس کے دل میں غصہ بھی تھا، مگر غصے سے زیادہ خوف۔
اسے لگنے لگا کہ شاید وہ واقعی ارسام کو نہیں سمجھتی۔ شاید وہ اپنی دوستی اور اپنی رائے کی وجہ سے ایک اچھا رشتہ خراب کر رہی ہے۔
تیسرے دن رات کو اس کا فون بجا۔
ارسا م کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
“میں بہت پریشان تھا، المیرا۔ تم نے ایک بار بھی آ کر نہیں پوچھا کہ میں کیسا ہوں۔”
المیرا کے اندر کچھ لرز گیا۔
“آپ نے ہی تو بات نہیں کی…”
“کیونکہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میرے بغیر رہ سکتی ہو یا نہیں۔”
یہ سن کر المیرا کے ہونٹ خشک ہو گئے۔
“یہ کیسا سوال ہے؟”
المیرا نے فون مضبوطی سے پکڑ لیا۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ محبت میں یقین مانگا جاتا ہے یا آزادی؟
اسی رات سحر نے ارسام کے فون پر المیرا کا نام دیکھا۔
وہ کمرے کے باہر سے گزر رہی تھی، جب اسے بھائی کی آواز سنائی دی۔
“بس دو دن اور خاموش رہو، پھر خود ہی معافی مانگے گی۔ اسے لگنا چاہیے کہ غلطی اسی کی ہے۔”
سحر کے قدم رک گئے۔
کمرے کے اندر ارسام ہنس رہا تھا۔
“وہ بہت نرم دل ہے۔ اسے بس ڈر لگتا ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں گا۔”
سحر کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
وہ اپنے کمرے میں گئی، ڈائری نکالی اور لکھا:
بارش کی ہلکی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر گر رہی تھیں۔ المیرا اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑی تھی، مگر اسے اپنا چہرہ اجنبی لگ رہا تھا۔
کبھی وہ بات بات پر ہنس دیتی تھی۔ اب ہنسنے سے پہلے سوچتی تھی کہ کہیں کسی کو برا نہ لگ جائے۔
کبھی وہ عائشہ کو ہر بات بتاتی تھی۔ اب اس کے پیغامات کا جواب دینے سے بھی ڈرتی تھی۔
کبھی اسے اپنی پڑھائی، اپنے خواب اور اپنی تحریریں عزیز تھیں۔ اب اسے صرف یہ خوف رہتا تھا کہ ارسام ناراض نہ ہو جائے۔
اس نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے پوچھا:
“میں کہاں چلی گئی ہوں؟”
مگر آئینہ خاموش رہا۔
اسی دن عائشہ اس کے گھر آئی۔
المیرا نے دروازہ کھولا تو عائشہ نے اسے غور سے دیکھا۔
“تم ٹھیک ہو؟”
“ہاں، کیوں؟”
“کیونکہ تم پہلے جیسی نہیں رہیں۔ تم بات کرتے ہوئے بھی ڈرتی ہو۔ تم ہر جملے کے بعد ارسام کا نام کیوں لیتی ہو؟”
المیرا نے نظریں چرا لیں۔
“وہ بس… فکر کرتے ہیں۔”
المیرا کے دل میں جیسے کوئی بند دروازہ ہلا۔
“وہ برے نہیں ہیں، عائشہ۔ وہ بس غصے کے تیز ہیں۔ ان کے گھر کے حالات بھی اچھے نہیں۔”
عائشہ کچھ دیر خاموش رہی۔
یہ جملہ المیرا کے اندر دیر تک گونجتا رہا۔
شام کو ارسام نے اسے ایک خاندانی تقریب میں آنے کو کہا۔
“امی نے خاص طور پر کہا ہے،” اس نے فون پر بتایا۔ “تم آؤ گی تو انہیں اچھا لگے گا۔”
“میں ہوں نا۔ تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟”
یہ سوال ہمیشہ کی طرح ایسا تھا جس کے بعد انکار کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔
المیرا زینب بیگم کو بتا کر ارسام کے گھر چلی گئی۔
گھر میں کئی رشتے دار آئے ہوئے تھے۔ عورتوں کی آوازیں، بچوں کی دوڑ، چائے کے کپ، اور باتوں کے درمیان المیرا خود کو کسی اجنبی جگہ پر محسوس کر رہی تھی۔
ناہید بیگم نے اسے سب کے سامنے بلایا۔
“یہ ہے ارسام کی پسند۔ بہت پڑھتی لکھتی ہے، مگر ابھی گھر کے کام سیکھنے ہیں۔”
چند عورتیں ہنس دیں۔
المیرا کے گال گرم ہو گئے۔
اس نے ارسام کی طرف دیکھا۔
وہ خاموش بیٹھا تھا۔
اس کی خاموشی میں ساتھ نہیں تھا۔
اجازت تھی۔
اجازت کہ لوگ المیرا کو چھوٹا کر سکیں۔
المیرا کے دل میں خوف کے ساتھ ایک عجیب سی تھکن بھی اتر آئی۔
اس نے پہلی بار سوچا:
کیا یہاں میری زندگی شروع ہوگی، یا آہستہ آہستہ ختم؟
تقریب ختم ہونے کے بعد ارسام اسے گلی کے موڑ تک چھوڑنے آیا۔
المیرا پورے راستے خاموش رہی۔
ارسا م فوراً رک گیا۔
“تم میری امی کی بات کا برا مان گئی؟”
“میں نے بس محسوس کیا کہ—”
“تم ہر بات میں مسئلہ کیوں ڈھونڈتی ہو؟” اس کی آواز سخت ہو گئی۔ “میری امی نے تمہیں پسند کیا ہے، وہ تمہیں اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں، اور تم ان کے ایک جملے کو لے کر بیٹھ گئی ہو؟”
المیرا کے پاس الفاظ نہیں بچے۔
ارسا م نے تھوڑا نرم لہجہ اختیار کیا۔
“تمہیں ہمارے گھر میں آنا ہے تو تھوڑا برداشت کرنا سیکھنا ہوگا۔ ہر بات کا جواب نہیں دیا جاتا۔”
المیرا نے سر جھکا لیا۔
مگر اس رات آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اسے پہلی بار اپنی خاموشی بوجھ نہیں لگی۔
اسے اپنی خاموشی خطرہ لگی۔
اور اس خطرے کے اندر، بہت گہرائی میں، ایک چھوٹی سی آواز نے جنم لیا:
“میں صرف کسی کی بہو بننے کے لیے پیدا نہیں ہوئی۔”
اگلی صبح المیرا کو ایک انجان نمبر سے پیغام آیا۔
“السلام علیکم۔ میں سحر ہوں… ارسام کی بہن۔ آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو آج شام لائبریری کے سامنے مل لیجیے گا۔”
المیرا نے پیغام کئی بار پڑھا۔
اس کے دل میں بے چینی بھی تھی اور تجسس بھی۔ سحر نے کبھی اس سے زیادہ بات نہیں کی تھی، مگر ہر ملاقات میں اس کی آنکھوں میں ایک ایسی خاموشی ہوتی تھی جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو اور کہہ نہ پا رہی ہو۔
شام کو المیرا لائبریری پہنچی تو سحر پہلے سے وہاں بیٹھی تھی۔
اس کے ہاتھ میں ایک بھورا سا لفافہ تھا۔
“آپ آ گئیں…” سحر نے دھیمی آواز میں کہا۔
“کیا بات ہے؟ آپ ٹھیک ہیں؟”
سحر نے جواب دینے کے بجائے لفافہ المیرا کی طرف بڑھا دیا۔
“یہ پڑھ لیجیے۔”
لفافے میں چند صفحات تھے—سحر کی ڈائری کے پھٹے ہوئے ورق۔
المیرا نے پہلا صفحہ کھولا۔
المیرا کی انگلیاں کانپنے لگیں۔
اس نے اگلا صفحہ پڑھا۔
“ارسا م برا دکھائی نہیں دیتا۔ وہ سب کے سامنے اچھا بنتا ہے۔ پہلے کسی کو کمزور کرتا ہے، پھر اسے بچانے والا بھی خود بن جاتا ہے۔ وہ معافی مانگتا ہے، روتا ہے، قسمیں کھاتا ہے—مگر صرف اتنا کہ سامنے والا اسے چھوڑ نہ سکے۔”
المیرا نے نظریں اٹھائیں۔
“یہ آپ نے لکھا ہے؟”
سحر نے سر ہلا دیا۔
“میں نے بہت عرصے سے یہ سب دیکھا ہے۔ امی کے ساتھ، میرے ساتھ… اور اب آپ کے ساتھ۔”
المیرا کی سانس جیسے رک گئی۔
“میرے ساتھ؟”
سحر نے اس کی طرف دیکھا۔
“بھائی جان شروع میں ہر لڑکی کو خاص محسوس کرواتے ہیں۔ پھر وہ دیکھتے ہیں کہ کون سی لڑکی زیادہ برداشت کرے گی، کون ان کے غصے کو اپنی غلطی سمجھے گی، کون ان کے گھر کے لیے اپنی زندگی چھوٹی کر لے گی۔”
المیرا کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“لیکن وہ نکاح کی بات کرتے ہیں…”
سحر کے چہرے پر درد بھری مسکراہٹ آئی۔
“وہ آپ کو بہو بنانا چاہتے ہیں، المیرا۔ مگر بیوی کی طرح نہیں۔ وہ آپ کو ایسا انسان بنانا چاہتے ہیں جو ان کے گھر کی ہر ضرورت پوری کرے، ان کی ہر بات مانے، اور پھر بھی اپنی تھکن کو محبت کہہ کر برداشت کرے۔”
المیرا کے ذہن میں ناہید بیگم کے سوال، رشید صاحب کی باتیں، ارسام کی خاموشیاں، اس کے وعدے—سب ایک ساتھ گونجنے لگے۔
سحر نے آہستہ سے کہا:
“وہ آپ کو چھوڑنے نہیں دیں گے۔ وہ کبھی بہت پیار کریں گے، کبھی آپ کو قصوروار بنائیں گے، کبھی معافی مانگیں گے۔ مگر آپ کو خود سے دور کرتے جائیں گے۔”
المیرا کی آنکھ سے ایک آنسو گر کر کاغذ پر آ گرا۔
“تو میں کیا کروں؟”
سحر نے پہلی بار مضبوط لہجے میں کہا:
“اپنی ماں کی بات یاد کیجیے۔ جس کے لیے آپ حدیں توڑ رہی ہیں، اگر وہی ایک دن آپ کی عزت پر سوال اٹھا دے تو آپ کے پاس کیا بچے گا؟”
المیرا نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
یہی وہ جملہ تھا جو اس کی ماں نے کبھی کہا تھا۔
اور اب اسے لگا جیسے وہ جملہ صرف ڈر نہیں تھا—ایک آنے والی حقیقت کی دستک تھا۔
اسی رات ارسام کا پیغام آیا:
“کل تم نے میری امی کے سامنے بہت عجیب رویہ رکھا۔ تمہیں پتا ہے نا، مجھے تم سے کتنی امیدیں ہیں؟”
المیرا نے پیغام پڑھا۔
پہلے کی طرح اس کے ہاتھ فوراً جواب لکھنے کے لیے نہیں بڑھے۔
اس نے فون میز پر رکھ دیا۔
پھر سحر کے دیے ہوئے کاغذ دوبارہ کھولے اور آخری صفحہ پڑھا:
المیرا نے کھڑکی کھولی۔
باہر رات تھی، مگر دور کہیں فجر سے پہلے کی ہلکی سی روشنی آسمان کے کنارے پر ابھر رہی تھی۔
اس نے پہلی بار اپنے دل سے کہا:
“میں ختم نہیں ہوں گی۔”
اگلی صبح المیرا نے ارسام کے پیغام کا جواب نہیں دیا۔
یہ اس کے لیے ایک معمولی بات نہیں تھی۔ برسوں سے ارسام کی ناراضی اس کے لیے کسی طوفان جیسی ہوتی تھی۔ وہ فوراً وضاحت دیتی، معافی مانگتی، خود کو غلط ثابت کرتی، صرف اس لیے کہ ارسام کا لہجہ دوبارہ نرم ہو جائے۔
مگر آج اس نے فون بند کر دیا۔
المیرا نے بہت دیر بعد سر اٹھایا۔
“امی… اگر کوئی شخص آپ کو ہر بار یہ محسوس کروائے کہ آپ ہی غلط ہیں، تو کیا واقعی غلطی آپ کی ہوتی ہے؟”
زینب بیگم کی آنکھیں بھر آئیں۔
انہوں نے بیٹی کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
“نہیں، بیٹی۔ بعض لوگ دوسروں کے دل میں اتنا شک بھر دیتے ہیں کہ انسان اپنی سچائی بھی بھول جاتا ہے۔ مگر یاد رکھو، جو شخص تمہیں عزت نہ دے، وہ تمہیں محبت بھی نہیں دے سکتا۔”
المیرا کے اندر برسوں سے جمع خوف جیسے آہستہ آہستہ پگھلنے لگا۔
دوپہر تک ارسام کے بارہ مسڈ کالز آ چکے تھے۔
پھر پیغام آیا:
“تم جان بوجھ کر مجھے نظر انداز کر رہی ہو؟”
المیرا نے فون کو دیکھا، مگر جواب نہ دیا۔
کچھ دیر بعد دوسرا پیغام آیا:
“میں تمہارے گھر آ رہا ہوں۔ تم مجھ سے بات کرو گی۔”
اس بار المیرا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
وہ جانتی تھی کہ ارسام کی نرمی اکثر اس وقت ختم ہو جاتی تھی جب اسے انکار سننا پڑتا تھا۔
شام سے پہلے ہی ارسام ان کے گھر کے باہر آ گیا۔
زینب بیگم نے دروازہ کھولا تو وہ ادب سے کھڑا تھا۔ ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا، چہرے پر پریشانی، اور آواز میں نرمی۔
“آنٹی، میں المیرا سے صرف پانچ منٹ بات کرنا چاہتا ہوں۔”
زینب بیگم نے اسے غور سے دیکھا۔
“بات گھر میں بھی ہو سکتی ہے، بیٹا۔”
المیرا کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
وہ جانتی تھی کہ ارسام یہ بات محبت میں نہیں کہہ رہا۔
وہ اسے ایک بار پھر الجھانے آیا تھا۔
جمیل صاحب بھی کمرے سے باہر آ گئے۔ ان کی کمزوری کے باوجود آواز میں وقار تھا۔
“اگر نیت نکاح کی ہے تو بات عزت سے ہوگی۔ تمہارے گھر والے کب آئیں گے؟”
ارسا م کے چہرے پر ایک لمحے کو الجھن آئی۔
“ابو… وہ ابھی کچھ باتیں طے کرنا چاہتے ہیں۔”
“کون سی باتیں؟” جمیل صاحب نے پوچھا۔
ارسا م نے نظریں المیرا کی طرف اٹھائیں۔
“بس یہ کہ المیرا نکاح کے بعد ہمارے گھر کے طریقے کے مطابق چلے گی۔ اپنی ٹیوشن، دوستیاں، اور باقی چیزیں… وہ سب بعد میں دیکھیں گے۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
المیرا کے اندر کچھ سیدھا ہو گیا۔
وہ پہلی بار کسی خوف کے بغیر بولی۔
“اور میری پڑھائی؟”
“اور میرے امی ابو؟”
“وہ تمہارے امی ابو ہیں، مگر نکاح کے بعد تمہارا گھر میرا ہوگا۔”
المیرا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:
“آپ مجھے بیوی نہیں، ذمہ داریوں کا ایک پیکج سمجھتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے گھر کا خرچ، ان کی خدمت، ان کی عزت، ان کی خاموشی—سب اٹھاؤں۔ مگر اپنی رائے، اپنی پڑھائی اور اپنے لوگ چھوڑ دوں۔”
ارسا م کا چہرہ سخت ہو گیا۔
“تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو۔ تمہیں کسی نے میرے خلاف بھڑکایا ہے۔”
“کسی نے نہیں،” المیرا نے کہا۔ “میں نے خود کو پہلی بار سمجھا ہے۔”
ارسا م نے اس کی طرف قدم بڑھایا۔
“تم مجھے چھوڑ نہیں سکتیں، المیرا۔ تم نے مجھ سے وعدے کیے ہیں۔ تم جانتی ہو تمہارے بارے میں لوگ کیا کہیں گے؟”
یہ الفاظ کمرے میں زہر کی طرح پھیل گئے۔
زینب بیگم کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
جمیل صاحب نے آہستہ سے کرسی کا سہارا لیا، مگر ان کی آواز بلند تھی۔
“اپنی زبان سنبھالو، لڑکے۔ میری بیٹی کی عزت تمہارے الفاظ کی محتاج نہیں۔”
ارسا م نے فوراً لہجہ بدل لیا۔
“انکل، میں غصے میں ہوں۔ میں المیرا سے بہت محبت کرتا ہوں۔ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔”
المیرا نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں خوف دیکھا۔
وہ خوف کہ شاید اس بار اس کا اختیار ختم ہو رہا ہے۔
ارسا م کچھ لمحے خاموش رہا۔
پھر اس کی آواز ٹھنڈی ہو گئی۔
“ٹھیک ہے۔ تم نے مجھے مجبور کیا ہے۔ اب جو ہوگا، تم خود ذمہ دار ہوگی۔”
وہ مٹھائی کا ڈبہ میز پر رکھ کر چلا گیا۔
دروازہ بند ہوا تو المیرا کے ہاتھ کانپنے لگے۔
زینب بیگم نے اسے گلے لگا لیا۔
المیرا روئی—مگر یہ رونا کمزوری کا نہیں تھا۔
یہ اس انسان کے لیے تھا جو وہ برسوں سے ارسام کے خوف میں کھو چکی تھی۔
اور اس لڑکی کے لیے بھی، جو آج پہلی بار اپنے حق میں کھڑی ہوئی تھی۔
ارسا م کے جانے کے بعد گھر میں ایک عجیب سا سکوت پھیل گیا۔
زینب بیگم نے دروازہ اندر سے بند کیا، پھر دیر تک کنڈی کو دیکھتی رہیں۔ جیسے انہیں خوف ہو کہ کوئی آواز دوبارہ پلٹ کر نہ آ جائے۔
المیرا صحن کے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ اس کی انگلیاں ایک دوسرے میں الجھی ہوئی تھیں۔ وہ رو چکی تھی، مگر آنکھوں میں آنسو باقی تھے۔
جمیل صاحب اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ بیماری نے ان کے جسم کو کمزور کر دیا تھا، مگر اس لمحے ان کے لہجے میں ایک باپ کی پوری طاقت تھی۔
“بیٹی، تم نے جو کہا، ٹھیک کہا۔”
المیرا نے سر اٹھایا۔
“ابو… لوگ کیا کہیں گے؟”
زینب بیگم نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“کچھ لوگ سمجھیں گے کہ تمہیں فرق نہیں پڑا۔ وہ کہیں گے، دیکھو کتنی جلدی معمول پر آ گئی۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ بعض لوگ اندر سے ٹوٹ کر بھی باہر سے اس لیے سنبھل جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے لیے زندہ رہنا ہوتا ہے۔”
المیرا کی آنکھیں پھر بھر آئیں۔
“میں نے سوچا تھا، امی… اگر میں زیادہ صبر کروں، زیادہ سمجھوں، تو شاید وہ بدل جائیں گے۔”
ادھر ارسام اپنے گھر پہنچا تو اس کے چہرے پر غصہ تھا۔
رشید صاحب نے اخبار سے نظریں اٹھائیں۔
“لڑکی نے انکار کر دیا؟”
ارسا م کی خاموشی جواب تھی۔
رشید صاحب کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“تم نے اتنے سال اسے اپنے ساتھ رکھا اور اب وہ انکار کر رہی ہے؟ تم نے اسے قابو میں نہیں رکھا؟”
سحر کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی۔
اس کے چہرے پر خوف تھا، مگر اس خوف کے پیچھے ایک خاموش سا سکون بھی۔
وہ جانتی تھی کہ المیرا نے آج وہ کام کر دیا تھا جو اس گھر کی بہت سی عورتیں کبھی نہ کر سکیں۔
انہوں نے انکار کیا تھا۔
رات کو ارسام کے فون پر المیرا کی تصویر اب بھی لگی ہوئی تھی۔
وہ دیر تک اسکرین کو دیکھتا رہا۔
پھر اس نے پیغام لکھا:
“تم نے میرے ساتھ بہت غلط کیا ہے۔ میں نے تمہیں اپنی زندگی سمجھا، اور تم نے مجھے سب کے سامنے ذلیل کر دیا۔”
اس نے پیغام بھیج دیا۔
کچھ دیر بعد دوسرا پیغام لکھا:
“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔”
پھر تیسرا:
“تم جانتی ہو، تم نے بھی حدیں توڑی تھیں۔ اب خود کو بہت پاک صاف مت بناؤ۔”
اس کی انگلیاں اسکرین پر ٹھہر گئیں۔
وہ جانتا تھا کہ یہ الفاظ المیرا کے دل میں خوف پیدا کر سکتے ہیں۔
کیونکہ کچھ لوگ محبت ختم ہونے پر صرف رشتہ نہیں توڑتے
وہ دوسرے انسان کی عزت، سکون اور خود اعتمادی کو بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
المیرا نے فون کی گھنٹی سنی۔
اس نے پیغامات پڑھے۔
ہر لفظ جیسے پرانے زخم کو چھیڑ رہا تھا۔
اس کے دل میں ایک لمحے کے لیے وہی پرانا خوف لوٹ آیا۔
پھر اسے سحر کی ڈائری یاد آئی۔
اس نے فون بند کیا، کمرے سے باہر آئی اور اپنی ماں کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
زینب بیگم نے کچھ نہیں پوچھا۔
انہوں نے صرف بیٹی کا ہاتھ تھام لیا۔
زینب بیگم کی آنکھوں میں درد آیا، مگر آواز مضبوط تھی۔
“جو شخص نکاح کے وعدے کے پیچھے کسی لڑکی کی عزت کو کمزور کرے، وہ خود اپنی سوچ کی گواہی دیتا ہے۔ تمہاری عزت اس کے الزام سے کم نہیں ہو جاتی۔”
المیرا نے ماں کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
اس رات اس نے پہلی بار ارسام کے تمام پیغامات محفوظ کیے۔
جواب دینے کے لیے نہیں۔
اپنے آپ کو یاد دلانے کے لیے کہ سچ کیا تھا۔
اور یہ کہ وہ اب دوبارہ اپنی خاموشی کی قیمت ادا نہیں کرے گی۔
اگلی صبح المیرا نے اپنے فون کی اسکرین بدل دی۔
ارسا م کی تصویر، اس کے پرانے پیغامات، وہ چھوٹی چھوٹی یادیں جنہیں وہ کبھی محبت سمجھتی تھی—سب ایک ایک کر کے ہٹا دیے۔
یہ آسان نہیں تھا۔
ہر تصویر کے ساتھ ایک لمحہ جڑا تھا۔ کسی دن کی ہنسی، کسی رات کا وعدہ، کسی مشکل وقت میں اس کی مدد۔ مگر اب المیرا کو سمجھ آ رہا تھا کہ ہر خوبصورت یاد سچی محبت کی دلیل نہیں ہوتی۔
کچھ لوگ پہلے سہارا دیتے ہیں، پھر اسی سہارے کو زنجیر بنا دیتے ہیں۔
اس نے ارسام کا نمبر بلاک نہیں کیا۔
ابھی نہیں۔
وہ جانتی تھی کہ اس کے پیغامات، اس کے الزام، اس کی دھمکیاں—سب ایک سچ تھے۔ ایک ایسا سچ جسے وہ دوبارہ کبھی اپنی کمزوری کہہ کر نظر انداز نہیں کرے گی۔
دوپہر کو عائشہ آئی۔
اس کے ہاتھ میں المیرا کی پسندیدہ چاکلیٹ تھی، مگر اس کی آنکھوں میں فکر تھی۔
“میں نے تمہارا پیغام پڑھا تھا،” عائشہ نے آہستہ سے کہا۔ “تم اکیلی تو نہیں ہو؟”
المیرا نے سر ہلایا۔
“نہیں۔ پہلے میں خود کو اکیلا سمجھتی تھی، مگر اب نہیں۔”
دونوں کچھ دیر خاموش رہیں۔
المیرا نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
“اپنی پڑھائی مکمل کروں گی۔ ٹیوشن بڑھاؤں گی۔ ابو کا علاج کرواؤں گی۔ اور… دوبارہ لکھوں گی۔”
“کیا لکھو گی؟”
ادھر سحر اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔
ارسا م صبح سے غصے میں تھا۔ اس نے گھر میں کسی سے بات نہیں کی، مگر اس کی خاموشی سب کے لیے خوف بن گئی تھی۔
رشید صاحب نے چونک کر اسے دیکھا۔
“تمہیں بہت بولنا آ گیا ہے۔”
سحر کے ہاتھ کانپے، مگر اس نے نظریں نہیں جھکائیں۔
“بولنا نہیں آیا، ابو۔ بس ڈر کم ہو گیا ہے۔”
ارسا م نے کمرے سے باہر آ کر سحر کو گھورا۔
“تم نے اس سے بات کی تھی؟”
سحر کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، مگر اس نے سر ہلا دیا۔
“ہاں۔”
ارسا م کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
“تم نے میرے خلاف اسے بھڑکایا؟”
ایک لمحے کے لیے پورا گھر خاموش ہو گیا۔
یہ وہ خاموشی تھی جس میں پہلی بار کسی نے سچ بول دیا تھا۔
اس رات المیرا نے اپنی ڈائری کھولی۔
کئی دنوں بعد اس نے قلم ہاتھ میں لیا۔
پہلے صفحے پر اس نے لکھا:
پھر اس نے صفحہ پلٹا اور لکھنا شروع کر دیا۔
یہ کسی کے خلاف شکایت نہیں تھی۔
یہ اپنی زندگی کی واپسی تھی۔
اور شاید یہی خدا کی مصلحت تھی
اور المیرا کو آخرکار سمجھ آ گیا تھا:
المیرا نے سوچا تھا کہ ارسام کے ساتھ تعلق ختم ہوتے ہی سب کچھ خاموش ہو جائے گا۔
مگر کچھ رشتے ختم ہونے کے بعد بھی اپنا شور چھوڑ جاتے ہیں۔
چند دنوں میں محلے کی عورتوں کے درمیان سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
“سنا ہے لڑکی نے خود انکار کر دیا۔”
“پھر اتنے سال بات کیوں چلتی رہی؟”
“ضرور لڑکی بھی بہت آگے بڑھ گئی ہوگی۔”
“ارسا م تو اچھا لڑکا ہے، یونیورسٹی میں پڑھتا ہے، خاندان بھی ٹھیک ہے۔”
ہر جملہ المیرا تک براہِ راست نہیں پہنچتا تھا، مگر کچھ باتیں ہوا کی طرح ہوتی ہیں۔ دروازہ بند ہو تب بھی اندر آ جاتی ہیں۔
ایک دوپہر زینب بیگم سبزی لینے گئیں تو پڑوس کی شازیہ خالہ نے آہستہ سے پوچھا:
“باجی، المیرا کی بات ختم ہو گئی؟”
زینب بیگم نے ان کی طرف دیکھا۔
“زمانہ تب خراب ہوتا ہے، خالہ، جب لڑکی کے انکار پر اس کی عزت پر بات کی جائے اور لڑکے کے دھوکے کو اس کی جوانی کہہ کر چھوڑ دیا جائے۔”
شازیہ خالہ خاموش ہو گئیں۔
زینب بیگم سبزی کا تھیلا اٹھا کر واپس آ گئیں۔
ان کے قدم تھکے ہوئے تھے، مگر دل میں پہلی بار اپنی بیٹی کے لیے خوف سے زیادہ فخر تھا۔
المیرا نے ٹیوشن کے اوقات بڑھا دیے تھے۔
اب شام کو اس کے کمرے میں زیادہ لڑکیاں آتی تھیں۔ کوئی آٹھویں جماعت کی تھی، کوئی کالج میں، کوئی صرف انگریزی بولنا سیکھنے آتی تھی۔
المیرا انہیں پڑھاتے ہوئے خود بھی دوبارہ جینے لگی تھی۔
ایک دن ایک لڑکی، مریم، نے کتاب بند کر کے پوچھا:
“آپ کبھی شادی نہیں کریں گی؟”
کمرے میں بیٹھے سب بچے ہنس پڑے۔
المیرا کچھ لمحے خاموش رہی۔
پھر اس نے کہا:
لڑکیاں خاموش ہو گئیں۔
المیرا نے کتاب دوبارہ کھول دی، مگر اس کے دل میں عجیب سا سکون تھا۔
اس نے اپنے درد کو صرف زخم نہیں رہنے دیا تھا۔
وہ اسے کسی اور کے لیے روشنی بنانا سیکھ رہی تھی۔
ادھر ارسام کے گھر میں حالات پہلے سے زیادہ تلخ ہو گئے تھے۔
وہ اب بھی کبھی کبھی المیرا کا نمبر کسی دوسرے فون سے ملاتا، مگر ہر بار اسے خاموشی ملتی۔
ناہید بیگم اس کا ساتھ دیتیں۔
“ایسی لڑکیاں بعد میں پچھتاتی ہیں۔ تم دیکھنا، خود واپس آئے گی۔”
مگر سحر اب پہلے جیسی خاموش نہیں تھی۔
ناہید بیگم نے اسے غصے سے دیکھا۔
“تم اپنے بھائی کے خلاف بولتی ہو؟”
اس رات المیرا نے اپنی ڈائری میں ایک اور جملہ لکھا:
اور اس آواز نے اب اسے ایک بات سکھا دی تھی:
سردیوں کی ایک دھندلی صبح تھی۔ گلی کے درختوں پر اوس ٹھہری ہوئی تھی اور المیرا اپنے ٹیوشن کے بچوں کے لیے نوٹس تیار کر رہی تھی۔
دروازے پر دستک ہوئی۔
زینب بیگم نے دروازہ کھولا تو سامنے ارسام کھڑا تھا۔
اس بار اس کے ہاتھ میں کوئی مٹھائی نہیں تھی، نہ چہرے پر وہی پراعتماد مسکراہٹ۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، کپڑے بکھرے ہوئے، اور آواز تھکی ہوئی۔
“آنٹی… میں المیرا سے ملنا چاہتا ہوں۔”
زینب بیگم کے چہرے پر سختی آ گئی۔
“تمہیں پہلے بھی کہا گیا تھا کہ یہاں نہ آنا۔”
ارسا م نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
“بس پانچ منٹ۔ میں اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ میں واقعی بدل گیا ہوں۔”
اندر سے المیرا نے آواز سنی۔
اس کے دل میں ایک لمحے کو پرانی کمزوری جاگی۔ وہی کمزوری جو ارسام کے آنسو دیکھ کر اسے سب کچھ بھلا دینے پر مجبور کر دیتی تھی۔
مگر پھر اسے یاد آیا:
وہ آہستہ سے باہر آئی۔
ارسا م نے اسے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں فوراً نمی آ گئی۔
“المیرا…”
“کیا بات ہے؟” اس کی آواز پرسکون تھی۔
ارسا م نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
“میں غلط تھا۔ میں نے تمہیں تکلیف دی۔ میں نے غصے میں بہت کچھ کہا۔ مگر میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے گھر والوں سے بھی بات کی ہے۔ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔ تم بس ایک موقع دے دو۔”
المیرا اسے دیکھتی رہی۔
اس کے اندر کہیں کوئی درد ضرور تھا، مگر اب اس درد کے اوپر سمجھ کی ایک مضبوط تہہ آ چکی تھی۔
“آپ کیا ٹھیک کریں گے، ارسام؟”
ارسا م کی آنکھیں ایک لمحے کو جھپکیں۔
“میں… میں کوشش کروں گا کہ غصہ نہ کروں۔”
“اور جب آپ کی امی مجھے سب کے سامنے کم کریں گی؟”
“وہ… وہ ایسا نہیں کریں گی۔”
“اور اگر کریں گی تو؟”
ارسا م خاموش ہو گیا۔
المیرا نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کی خاموشی اب اسے خوفزدہ نہیں کرتی تھی۔
وہ خاموشی اب جواب بن چکی تھی۔
“آپ کو یاد ہے؟” المیرا نے کہا۔ “آپ نے کہا تھا کہ اگر میں آپ کے گھر آؤں تو مجھے ان کے طریقے کے مطابق ڈھلنا ہوگا۔ آپ چاہتے تھے کہ میں اپنے گھر، اپنی پڑھائی، اپنی دوستیاں، سب کو پیچھے کر دوں۔”
“نہیں،” المیرا نے نرمی سے کہا۔ “آپ نے غصے میں نہیں کہا تھا۔ آپ نے سچ میں کہا تھا۔ غصے نے صرف وہ سچ باہر نکالا جو آپ پہلے چھپاتے رہے۔”
ارسا م کے چہرے پر بے بسی ابھری۔
وہ اچانک جھک گیا اور المیرا کے قدموں کے قریب ہاتھ رکھنے لگا۔
“پلیز، المیرا… میں تمہارے بغیر ختم ہو جاؤں گا۔”
المیرا ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔
“آپ ختم نہیں ہوں گے، ارسام۔ آپ کو بس پہلی بار انکار ملا ہے۔ اور آپ اسے محبت کا نقصان سمجھ رہے ہیں۔”
ارسا م نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں نمی کے پیچھے غصہ چمکا۔
“تمہیں لگتا ہے تم بہت بہتر ہو گئی ہو؟”
کچھ لمحے دونوں خاموش رہے۔
المیرا نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
“ممکن ہے۔ مگر میں اپنی زندگی کا فیصلہ خوف سے نہیں کروں گی۔”
ارسا م نے اسے آخری بار دیکھا، پھر مڑ کر گلی میں چلا گیا۔
اس کے قدموں کی آواز آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔
المیرا دروازے پر کھڑی رہی۔
زینب بیگم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“دل بھاری ہے؟”
المیرا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ دھند کے پیچھے سورج کی ہلکی روشنی نکل رہی تھی۔
“دل بھاری نہیں، امی… بس آزاد ہونے کی عادت پڑ رہی ہے۔”
ارسا م کے جانے کے بعد کئی دن تک المیرا کے دل میں ایک عجیب سی خاموشی رہی۔
وہ خاموشی اداسی کی بھی تھی، مگر خوف کی نہیں۔
پہلے وہ ہر دروازے کی آواز پر چونک جاتی تھی۔ فون بجتا تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔ کسی انجان نمبر سے پیغام آتا تو اسے لگتا ارسام پھر کوئی نئی بات، کوئی نیا الزام، کوئی نئی دھمکی لے کر آ گیا ہے۔
مگر آہستہ آہستہ دن گزرتے گئے۔
اور کوئی طوفان نہیں آیا۔
صرف زندگی آئی۔
سادہ، تھکی ہوئی، مگر اپنی۔
المیرا نے اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لیے دوبارہ یونیورسٹی جانا شروع کر دیا۔
وہی راہداریاں، وہی کلاس روم، وہی لائبریری—مگر اب وہ جگہیں اسے خوف نہیں دلاتی تھیں۔
ایک دن لائبریری میں عائشہ نے اسے ایک کاغذ تھمایا۔
“یہ دیکھو، یونیورسٹی میں ایک writing competition ہو رہا ہے۔ موضوع ہے: ‘A Woman Who Chose Herself’۔ تم ضرور لکھو۔”
المیرا نے کاغذ کو دیکھا۔
المیرا نے کاغذ اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔
مگر اس بار اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔
اس کے سامنے سفید کاغذ تھا، اور اس کے ہاتھ میں قلم۔
اس نے لکھا:
الفاظ لکھتے لکھتے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
مگر وہ آنسو پرانے دکھ کے نہیں تھے۔
وہ اس بوجھ کے تھے جو برسوں سے اس کے سینے میں بند تھا، اور اب لفظوں کے راستے باہر آ رہا تھا۔
کچھ دن بعد مقابلے کے نتائج آئے۔
المیرا کا مضمون پہلی پوزیشن پر آیا تھا۔
جب اس کا نام اسٹیج پر پکارا گیا تو اس کے قدم کانپ رہے تھے۔
وہ مائیک کے سامنے کھڑی ہوئی، سامنے طلبہ، اساتذہ اور بہت سی اجنبی آنکھیں تھیں۔
اس نے اپنا مضمون نہیں پڑھا۔
اس نے صرف ایک جملہ کہا:
“کبھی کبھی خدا کسی رشتے کو اس لیے ختم نہیں کرتا کہ آپ ہار گئے ہیں—بلکہ اس لیے کہ آپ کو اپنی زندگی دوبارہ مل جائے۔”
ہال میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر تالیاں بجنے لگیں۔
عائشہ سب سے زیادہ خوش تھی۔ زینب بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور جمیل صاحب نے دور سے بیٹی کے لیے دعا کے انداز میں ہاتھ اٹھا دیے۔
المیرا نے اس لمحے محسوس کیا کہ اس کی زندگی صرف اس ایک رشتے کے گرد نہیں گھومتی تھی۔
اسی شام سحر کا پیغام آیا۔
“آپ کی تحریر کے بارے میں سنا۔ آپ جیت گئیں۔ مجھے خوشی ہے… شاید آپ کے انکار نے مجھے بھی بولنا سکھا دیا ہے۔”
المیرا نے دیر تک اس پیغام کو دیکھا۔
پھر جواب لکھا:
“سحر، تمہیں بولنے کا حق کسی نے دیا نہیں۔ وہ تمہارے پاس پہلے سے تھا۔ تم نے بس اسے پہچان لیا ہے۔”
پیغام بھیجنے کے بعد المیرا کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
آسمان صاف تھا۔
اسے یاد آیا کہ کبھی وہ اسی کھڑکی کے پاس کھڑی ہو کر ارسام کے پیغامات کا انتظار کیا کرتی تھی۔
آج وہ کسی کے انتظار میں نہیں تھی۔
اس کے ہاتھ میں اپنی ڈائری تھی، اس کے سامنے اپنی زندگی، اور اس کے دل میں ایک ایسی روشنی تھی جو کسی دوسرے انسان نے نہیں دی تھی۔
وہ روشنی اس نے خود اپنے اندر پیدا کی تھی۔
اور اسے آخرکار سمجھ آ گیا تھا:
ایک سال گزر گیا۔
گھر وہی تھا، صحن وہی، دیواروں پر وہی پرانی گھڑی، اور زینب بیگم کی صبح کی چائے کی خوشبو بھی وہی تھی۔
مگر المیرا بدل گئی تھی۔
اب وہ صبح اٹھ کر سب سے پہلے فون نہیں دیکھتی تھی۔
وہ کھڑکی کھولتی، آسمان کو دیکھتی، پھر اپنی ڈائری کے صفحے پر کچھ لکھتی۔ کبھی ایک جملہ، کبھی ایک نظم، کبھی کسی کہانی کا آغاز۔
اس کی ٹیوشن اب چھوٹے سے کمرے تک محدود نہیں رہی تھی۔ محلے کی لڑکیوں کے لیے اس نے ہفتے میں ایک دن مفت کلاس رکھنا شروع کر دی تھی—جہاں وہ صرف انگریزی یا ادب نہیں پڑھاتی تھی، بلکہ انہیں بولنا بھی سکھاتی تھی۔
ایک دن مریم کلاس کے بعد رکی رہی۔
وہی مریم جس نے کبھی پوچھا تھا کہ صحیح انسان کی پہچان کیسے ہوتی ہے۔
“المیرا آپی،” اس نے آہستہ سے کہا، “اگر کوئی ہمیں بہت پیار کرے، مگر ہماری بات نہ سنے تو؟”
المیرا نے کتاب بند کر دی۔
اس نے مریم کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا:
مریم نے سر ہلایا، جیسے وہ ہر بات اپنے دل میں محفوظ کر رہی ہو۔
اسی شام سحر کا فون آیا۔
اس کی آواز پہلے سے مختلف تھی۔ اب بھی نرم تھی، مگر اس میں لرزش کم تھی۔
“المیرا… میں نے کالج میں داخلہ لے لیا ہے۔”
المیرا کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
“سچ؟ کون سا مضمون؟”
“سوشل ورک۔ میں ان عورتوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہوں جنہیں لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔”
المیرا کی آنکھیں بھر آئیں۔
“تم بہت اچھا کرو گی، سحر۔”
سحر کچھ لمحے خاموش رہی، پھر بولی:
“میں نے امی ابو سے کہا کہ میں پڑھوں گی۔ انہوں نے بہت باتیں کیں، مگر میں پیچھے نہیں ہٹی۔ شاید… آپ نے مجھے سکھایا کہ ڈر کے باوجود بھی انسان اپنی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔”
ارسا م کی خبر کبھی کبھی لوگوں کے ذریعے آ جاتی تھی۔
مگر المیرا نے ان خبروں کو اپنے دل میں جگہ دینا چھوڑ دیا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ ہر انسان کو اپنی سوچ کے نتائج خود بھگتنے ہوتے ہیں۔
کسی کو بدلنا اس کی ذمہ داری نہیں تھی۔
اپنے آپ کو بچانا اس کی ذمہ داری تھی۔
اس رات المیرا نے اپنی پہلی مکمل کہانی کا مسودہ بند کیا۔
اس کے سرورق پر عنوان لکھا تھا:
“اپنی طرف واپسی”
زینب بیگم اس کے پاس آئیں۔
“ختم ہو گئی؟”
زینب بیگم نے بیٹی کے ماتھے کو چوما۔
“اللہ تمہیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔”
المیرا نے ڈائری کھولی اور آخری صفحے پر لکھا:
کھڑکی کے باہر رات خاموش تھی۔
مگر المیرا کے اندر صبح ہو چکی تھی۔
اختتام
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں